وطن عزیز پاکستان روز اول سے ہی عدم استحکام کا شکار ہوا اور آج تک اس کو کسی طرح استحکام حاصل نہیں ہو رہا، ابتداء سے ہی ملک کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میںچلی گئی تھی جو اس کے ساتھ انتہائی غیر مخلص اور مفاد پرست تھے انہوں نے ملکی مفادات کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھائے رکھا۔ پاکستان کا پہلا آئین بنتے بنتے ہی نو برس کا ایک طویل عرصہ بیت گیا جو محض دو سال تک ہی چل سکا جسے ایک فوجی آمر نے اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ ابتداء سے ہی کسی ادارے اور کسی رہنما نے اپنے فرائض پورے نہ کیے ، کوئی محکمہ درست سمت نہ چل سکا ہر محکمہ نااہل اور نالائق لوگوں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ہمارے بیوروکریٹس ملک کے ساتھ انتہائی غیر مخلص اور مفاد پرست ہیں ۔ ہمارے ادارے کرپشن کے گڑھ بن چکے ہیں، نااہلیوں اور نالائقیوں کی طویل داستانیں ہیں ۔ عدالتوں کو دیکھیں تو وہاں فیصلے محض مفادات پر ہوتے ہیں، کبھی یہ مفادات اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کے ہوتے ہیں تو کبھی اداروں کے مفادات کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ 2018میں اداروں کو جن افراد کو باہر رکھنا مطلوب تھا وہ ایسے مجرم بنا کر پیش کیے گئے جیسے انہیں پھانسی گھاٹ تک پہنچائے بنا نہیں رہیں گے ، ادارے ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑگئے اور انہیں ہر طرح سے مجرم ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے انہیں جیلیں ہوئیں ، نااہل ہوئے اور اب انہیں ایسے پاک صاف کیا جا رہا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ وہ ادارے جو انہیں مجرم ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے تھے اب وہ عدالتوں میں ایسے خاموش ہو جاتے ہیں جیسے انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں تھا ۔ عدالتوں سے بھی انہیںمسلسل ریلیف مل رہے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں پہلے ریلیف ملتے تھے اب ان پر کیسز بن بھی رہے ہیں اور ثابت بھی ہو رہے ہیں۔ یہ تو سیاسی نوعیت کے فیصلے ہیں عوامی فیصلوں کے حالات بھی کسی طرح مختلف نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر اداروں کو دیکھ لیجیے کس طرح وہاں ملک کے ساتھ گھناؤنے کھیل کھیلے جا رہے ہیں ۔ تمام ادارے خسارے میں جا رہے ہیں اگر کوئی ایک آدھ ادارہ خسارے میں نہیں ہے تو وہ بھی ملکی خزانے کو فائدہ پہنچانے کی بجائے اپنے ملازمین اور افسران کو بے تحاشا مراعات دے رہے ہیں یعنی بلا ضرورت ان پر رقوم لٹا رہے ہیں۔ ادارے اس قدر گھاٹے میں جا رہے ہیں کہ اب ان کا چلنا مشکل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ان کی پرائیویٹائزیشن کی طرف بات جا رہی ہے ۔ سمجھ نہیں آتی کہ ادارے ناکام کیوں ہو جاتے ہیں اچھے خاصے منافع بخش ادارے مسلسل خسارے میں کیوں ہیں ؟ اگر یہ ادارے پرائیویٹ سیکٹر کے پاس ہوں تو منافع پر جانے لگتے ہیں مگر سرکاری افسران کے ہاتھوں میں جاتے ہی خسارہ شروع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہاں ملک کے ساتھ مخلص لوگ نہیں ہیں، نااہل، کرپٹ اور نالائق افسران نے ملک کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اور تو اور ہم اپنے سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کی طرف دیکھیں تو ہمیں وہاں بھی وہی روش نظر آتی ہے ،ملک کس قدر خطرات سے گھرا ہوا ہے ۔ آئے روز کہیں نہ کہیں دہشتگردی کا واقعہ پیش آ جاتا ہے، کبھی عوام پر اور کبھی خود سیکیورٹی فورسز پر ہی ۔ چند روز قبل دہشتگردی کے افسوسناک واقعہ میں پچیس فوجی جوان شہید ہو گئے ، اسی طرح اور بھی متعدد واقعات وقتا فوقتا پیش آ رہے ہیں جو ہماری قومی سلامتی کے لیے نہایت مضر ہیں۔ ملک کو ہر وقت اندرونی و بیرونی دشمنوں کا خطرہ لاحق رہتا ہے بالخصوص ہمارا ملک ہر وقت دہشتگردوں کے نشانے پر رہتا ہے مگر ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے روکنے میں ناکام ہیں۔ عوام کے جان و مال بھی محفوظ نہیں ہیں ، چوری، ڈکیتی ،قتل، بھتہ خوری عام ہیںپولیس عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر پا رہی ۔ ملک میں بد امنی اور افراتفری کا سماں ہے ۔ اگر ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کر یں تو یہ حالات نہ ہوں ۔ اگر ہمارے افسران ایماندار اور دیانتدار ہوں ، ملک کے ساتھ مخلص ہوں ، عوام کا درد دلوں میں محسوس کرتے ہوں تو عوام خوشحال ہوں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ مگر افسوس کہ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ ہر محکمہ اور ہر ادارہ نااہلوں اور مفاد پرستوں کے ہاتھ میں ہے جو اداروں کو مسلسل خسارے کی طرف لے کر جا رہے ہیں ۔ ہر ایک کو اپنی جیبیں بھرنے کی فکر ہے اس کے لیے چاہے انہیں جو رستہ بھی اختیار کرنا پڑے وہ کرنے کے لیے تیار ہیں ، نہیں کرتے تو ملکی مفاد کے لیے کچھ نہیں کرتے ۔ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے ، انجام گلستاں کیا ہو گا؟ اللہ ہمارے ملک کو دیانتدار قیادت نصیب فرمائے ، چاہے وہ حکومت میں ہو یا بیوروکریسی میں، آمین۔
326