راجہ عمران اشرف سے ایک ملاقات ۔ 243

راجہ عمران اشرف سے ایک ملاقات ۔

سیاسی مطلع ابھی ابر آ لود ھے ، کوئی آرہا ہے تو کوئی جا رہا ہے ، کوئی گھونسلے بدل چکا ہے ، کسی کی ابھی امیدیں درمیان میں لٹک رہی ہیں ، تو کوئی اپنی منزل کی تلاش میں ہے ،کہتے ہیں سیاست کی اپنی سائنس ھوتی ھے ، مگر اس مرتبہ سائنس میں اہم مضمون یعنی کیمیسٹری ھی تبدیل ہو چکی ہے ، اب نیا کیمیکل کیا بنتا ہے کسی کو لیب رزلٹ کا اندازہ نہیں کوئی" مائنس ون اور کوئی مائنس ٹو" کے فارمولے کی بازگشت میں گم ھے ، ھمارا گرچہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں مگر اس کو طالب علم کے طور پر ضرور دیکھتے ہیں قوی امید ھے ، الیکشن کمیشن کی تیاریوں سے بھی لگتا ہے کہ انتخابات آئیندہ سال جنوری ، یا مارچ تک ممکن ھوں گے ، ایسا ھوا تو فی الحال نتائج اخذ کرنا مشکل ھو گا ، اس وقت چند ھی لوگ سیاست میں سرگرم نظر آ رہے ہیں جن میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کچھ حلقے سیاست میں پیش پیش نظر آتے ہیں ، کوئی میلے کپڑے دھو رہا ہے اور کوئی محض چمک دمک کے لیے کلف چڑھا رہا ہے ، البتہ قومی اور صوبائی حلقوں کی سیاست میں انفرادی طور پر روابط جاری ہیں ، ھم چونکہ دارالحکومت کے باسی ھونے کے ناطے عوامی نظارے روز دیکھتے ہیں اور انہی میں رہتے ہیں اس لیے جن لوگوں کی سرگرمیوں کا اندازہ ھو رہا ھے وہی بیان کرتے ہیں ، 
اسلام آباد کا حلقہ این اے 46 اس وقت جس سیاسی رہنما کی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے وہ ہیں سابق وزیر اعظم اور موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے بھائی راجہ عمران اشرف ہیں ، وہ واحد متحرک آدمی ہیں جنہوں نے آج سے نہیں 2012 ء سے عوام کے ساتھ اپنا رشتہ برقرار رکھا ھوا ھے راجہ پرویز اشرف کی وزارت عظمیٰ کے دوران اور پھر اتحادی حکومت میں انہوں نے اس حلقے کے بے شمار ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا انفرادی اور اجتماعی سطح پر کسی سے رابطہ منقطع نہیں ھونے دیا ، اس الیکشن کے لئے بھی وہ بھرپور طریقے سے سرگرم ہیں اور آئے روز سینکڑوں افراد تحریک انصاف ، مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتیں چھوڑ کر راجہ عمران اشرف کے کیمپ میں آرہے ہیں جی ٹین سے لے کر ترنول تک عمران اشرف کی دوڑ بھاگ سے لگتا ہے کہ وہ اپ سیٹ کریں گے
گزشتہ دنوں ان سے ایک دوست شہزاد عباسی جو سرگرم سیاسی کارکن اور کونسلر بھی رہے کے توسط سے راجہ عمران اشرف سے ملاقات ھوئی راجہ صاحب کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ کوئی کسی سیاسی جماعت سے ھو ، نظریاتی اختلاف ھو یا سیاسی اختلاف خندہ پیشانی سے سنتے ہیں اور شخصی اخلاق اور رکھ رکھاؤ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ، ایسے ہی لوگ معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کرتے ہیں ، ھم ملاقات کے لیے پہنچے تو بڑے تپاک سے ملے اور اعلیٰ اخلاقی صفات کے ساتھ ہر بات سنی اور جواب دئیے ، یہاں میں بیان کرتا چلوں کے ان کے پاس مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے کئی لوگ آئے اور اس دوران انہوں نے ان سے ہر طرح کی سیاسی گفتگو کی مگر چہرے پر ذرا ملال نہیں آیا ، اسی طرح گزشتہ بارہ سال سے وہ ہر کارکن ، حلقے کے لوگوں اور رہنماؤں کے دکھ ، سکھ میں برابر شریک رہے ، کئی لوگ دولت ، شہرت اور مفادات کے لیے سیاست میں آتے ہیں ۔ بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے لیکن راجہ عمران اشرف کو ان چیزوں سے غرض نہیں یہ سب انہیں ویسے ہی حاصل ھے البتہ کام کر کے دعائیں اور عوام کی خوشی انہیں اطمینان دیتی ہے ، لوگوں کو ان کی یہ بات پسند ھے ، طویل بیٹھک میں انہوں نے پیپلز پارٹی ، کی مرکزی سیاست اور آئیندہ انتخابات پر ھمارے کئی سوالوں کے جواب دئیے ، 2000 ء کی بات ہے راجہ پرویز اشرف صاحب سے ملاقات ھوئی تھی اور کچھ میڈیا کے حوالے سے ان کو مشاورت فراہم کی گئی انہوں نے بڑا پسند کیا اور اس پر عمل بھی کیا ، ان کی اسی خوبی نے انہیں وزیر اعظم تک بھی پہنچایا ، راجہ عمران اشرف بھی مفاہمت اور سیاسی برداشت کے قائل ہیں ، انہوں نے ملاقات میں اپنے کسی سیاسی حریف کو ھدف تنقید بنانے کی بجائے صرف اپنے لائحہ عمل پر گفتگو کی ، ملاقات کے بعد میں نے ان کا مکمل مشاہدہ کیا وہ روز لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ھوتے ھیں ، جو کام لوگ حکومت میں رہ کر کام نہیں کرتے راجہ عمران اشرف وہ کام مسلسل کئی سال سے کر رہے ہیں ، ھم نے اسلام آباد کے مسائل خصوصاً پانی ، صفائی اور سٹریٹ کرائم پر بات کی جس پر انہوں نے مکمل لائحہ عمل بنا رکھا ہے آج بھی وہ سی ڈے اے ، پولیس تھانوں اور دیگر اداروں میں لوگوں کے کام لے کر جاتے اور ذاتی اثر و رسوخ پر لوگوں کو ریلیف فراہم کرتے ہیں یہی ان کی خوشی ھے ، حلقے کے لوگ ایسے ہی لوگوں کو آگے لائیں گے تو عوامی مسائل کی شنوائی ھوگی
سیاست میں کیا ھو رھا ھے ، کیا ھونے والا ھے ان سے راجہ صاحب کو کوئی دلچسپی نہیں ، وہ عوام کے پاس ھوتے ھیں اور ان سے خوش ھو کر خود خوش ھوتے ہیں ، پیپلز پارٹی کے کئی لوگوں کا عوام سے براہ راست رابطہ ھے ، پیراشوٹ طرز کی سیاست راجہ صاحب میں بالکل نہیں ھے وہ عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہیں ، اس میں کامیاب بھی ہیں اور خوش بھی ، البتہ ان کے تجزیے کے مطابق آئندہ حکومت پیپلز پارٹی ھی بنائے گی یہ نکتہ باعث مباحث ھے ھم چاہتے ہیں عوام کو فیصلہ کرنا چاہیے

بشکریہ اردو کالمز