ڈرائیونگ لائسنس فیس میں اضافے کا فائدہ یا نقصان؟ 254

ڈرائیونگ لائسنس فیس میں اضافے کا فائدہ یا نقصان؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب پولیس کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ساتھ ڈرائیونگ لائسنس کی فیس میں بھی حیران کن اضافے کی تیاری کر لی گئی، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ڈرائیونگ لائسنس کی فیس میں اضافے کی سفارشات پر مبنی سمری حکومت کو ارسال کردی سمری میں کہا گیا ہے کہ لرنر لائسنس کی فیس 60 روپے سے بڑھا کر 500 روپے کی جائے، موٹرسائیکل کے لائسنس کی فیس 550 سے بڑھا کر 2 ہزار کی جائے، کار اور جیپ کی لائسنس فیس 950 سے بڑھا کر 4 ہزار ، ایل ٹی وی کی فیس 950 سے 4 ہزار جبکہ ایچ ٹی وی کی فیس 450 سے 4 ہزار کی جائے جبکہ انٹرنیشنل لائسنس کی فیس بھی 4 ہزار کرنے کی تجویز دی گئی ہے، حکومت کی منظوری کے بعد پنجاب بھر میں نئی فیس کی وصولی کے ساتھ لائسنس جاری ہوں گے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ایک طرف بڑھتی ہوئی آبادی مسائل کا موجب بن رہی ہے  وہیں پر دنیا کی آبادی کے لحاظ سے پانچویں بڑی ریاست پاکستان میں بے ہنگم ٹریفک آئے روز خونی حادثات کا باعث بنتی ہے۔ جہاں ایک طرف مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام الناس حکمرانوں کو بدعائیں دیتے نہیں تھکتی وہیں پر ہماری اشرافیہ نت نئے ٹیکسوں سے عوام کا خون نچوڑتی دیکھائی دیتی ہے۔ چاہے بجلی کے بل ہوں یا پھر مہنگاترین آٹا۔پاکستانی عوام کی زندگیوں کامقصد شائد بجلی وگیس کے بل ادا کرنا ہی رہ گیا ہے۔ ذکر ہورہا تھا ڈرائیونگ لائسنس کی فیسوں میں اضافہ کا مگر بات کہیں اور ہی چل نکلی۔ بہرحال میڈیا میں لائسنس فیسوں میں اضافہ کا سن کر انتہائی افسوس ہوا۔ کیونکہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق موٹر سائیکل، کار و دیگر موٹر گاڑیاں چلانے والے افراد کی پچاس فیصد سے زائد تعدادبغیر لائسنس کے گاڑیاں چلاتے ہیں۔ اور ان لائسنس یافتہ افراد کی ساٹھ فیصد سے زائد تعداد سفارش، رشوت و دیگر ذرائع سے لائسنس کے حصول کو یقینی بناتی ہے۔پاکستان کے تقریبا ہر شہرمیں چاند گاڑی یعنی چنگ چی رکشہ چلانے والے نظر آئیں گے، اور اکثر اوقات چاند گاڑی چلانے والے پائلٹس کم عمر بچے ہوتے ہیںجو خوفناک خونی حادثات کا باعث بھی بنتے ہیں۔ پاکستان میں نہ تو ٹریفک قوانین کی تعلیم کو سکول، کالجز میں نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے اور نہ ہی ٹریفک قوانین کی پاسداری کو اخلاقی و سماجی طور پر قابل قدر نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔بوجہ سگنل توڑنے و دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی بناء پر ٹریفک پولیس کے ہتھے چڑھنے پر شرمندہ ہونے کی بجائے کسی بڑے افسر یاوزیر مشیر سے فون کروا کر جان خلاصی کروانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہوتا ہے یا پھر سیدھا اور آسان ترین حل ٹریفک پولیس کو رشوت دے کر رفوچکر ہوجانے پر ہی فخر محسوس کرتے ہیں۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے ڈرائیونگ لائسنس میں اضافہ سے ٹریفک قوانین کی پاسداری میں کیا مدد حاصل ہوگی ؟جہاں گاڑی چلانے والوں کی اکثریت پہلے ہی لائسنس کے بغیر گزارا کررہی ہے۔ دوسری طرف ڈرائیونگ لائسنس حصول کو مزید مشکل کیا جارہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈرائیونگ لائسنس فیسوں میں کمی لائی جاتی اور عوام الناس کو ترغیب ملتی کہ وہ جلد از جلد کم فیسوں پر لائسنس کے حصول کو یقینی بنائیں اور ڈرائیونگ لائسنس نہ بنوانے والے افراد کے خلاف بھاری بھر کم جرمانوں کا اجراء کردیا جاتا ہے۔ جس سے نہ صرف سڑکوں پر لائسنس یافتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتابلکہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کو بھی یقینی بنایا جاتا۔ یہ بات یقینی ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس فیسوں میں اضافہ سے رشوت کا نیا بازار گرم ہوگا اور لاقانونیت میں مزید اضافہ ہوگا۔یاد رہے تعزیرات پاکستان کی متعدد دفعات کے مطابق بوجہ تیز رفتاری یا لاپرواہی سے گاڑی چلانے کی صورت میںکسی انسانی جان کے ضیاع یا زخمی کرنے کی صورت میں سخت ترین سزائیں نافظ ہیں۔ جیسا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 279کے مطابق تیز رفتاری یا لاپرواہی سے گاڑی چلانے کی وجہ سے کسی فرد کو زخمی کرنے کی بناء پر دو سال تک قید کی سزاءتجویز کی گئی ہے۔ دفعہ 320کے تحت جو کوئی بھی تیز رفتاری یا لاپرواہی سے گاڑی چلا کر کسی فرد کی موت یعنی قتل خطا ءکا ارتکاب کرتا ہے، اسے حقائق اور حالات کے پیش نظر، دیت کے علاوہ قید کی سزا دی جائے گی جو دس سال تک ہو سکتی ہے۔دفعہ 337-Gکے تحت جو کوئی بھی تیر رفتاری یا لاپرواہی سے گاڑی چلانے سے کسی فرد کو تکلیف پہنچاتا ہے وہ اس قسم کی چوٹ کے لیے مخصوص ارش یا دامن کا ذمہ دار ہوگا اور اسے تعزیر کے طور پر پانچ سال تک کی مدت کے لیے قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔اسی طرح تعزیرات پاکستان کی دفعہ 337-Hکے تحت جو کوئی تیر رفتاری یا لاپرواہی سے گاڑی چلانے کے علاوہ کسی اور کو نقصان پہنچاتا ہے، وہ جس قسم کی چوٹ کی وجہ سے مخصوص کیا گیا ہے ارش یا دامن کا ذمہ دار ہوگا اور اسے تین سال تک کی مدت کے لیے قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے ڈرائیونگ لائسنس فیسوں کے اضافہ کی سمری کو فی الفور واپس لیا جائے اور لائسنس حصول کے لئے ٹائوٹ مافیا اوررشوت ستانی کے خاتمہ کو یقینی بنایا جائے۔ اسکے ساتھ ساتھ بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر جرمانوں میں ناقابل یقین حد تک اضافہ کردیا جائے۔اور سب سے بڑھ کرڈرائیونگ لائسنس حصول سے پہلے ٹریفک قوانین اور تعزیرات پاکستان کی دفعات کو پڑھایا جائے اورٹیسٹ میں کامیاب امیدوار کو ہی ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا ء کیا جائے

بشکریہ اردو کالمز