محمد خورشید اختر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا خلاصہ بیان ھم جیسے حقیر لوگوں کے لیے ممکن نہیں ہے ، تاہم ایک پہلو ایسا ھے ،جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا کہ یہ اسلام کا کلی اخلاق ھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اخلاق حسنہ کا نمونہ بنا کر بھیجا گیا ، ایک طویل سوالات کی نشت میں پڑھا تھا کہ کسی شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے چودہ سوالات کیے جس میں ایک سوال یہ تھا کہ حضور اسلام کا کلی اخلاق کیا ہے ، تو آپ نے فرمایا کہ "پاکیزہ گفتار اور بھوکوں کو کھانا کھلانا اسلام کا کلی اخلاق ھے" غور کریں تو ان دونوں پہلوؤں پر معاشرتی ، معاشی ، سیاسی اور سماجی زندگی کا سہارا ڈھانچہ کھڑا ہے ، آپ کا اخلاق ھی تھا جس نے مکہ کی جہالت زدہ وادیوں اور لق و دق صحرا کو روشنیوں سے جگمگا دیا ، اخلاق حسنہ کے کمالات ہی تھے جو مدینہ کے یہودی قبائل ھوں یا آپس میں جنگ و جدل مبتلا قبیلے ، سب باہم شیر و شکر ھو گئے ، جنگ ، امن ، گھر ، معاشرہ اور حکومت و ریاست اسی اخلاق حسنہ کی بدولت قائم ھوئے ، آپ کو انسانیت کا محسن ، رحمت العالمین اور پیامبر اعظم قرار دیا گیا ، یہ اخلاق صرف انسانوں تک نہیں بلکہ جانوروں ، چرند پرند اور ہر مخلوق کے لیے رحمت بنا ، دوسرا پہلو بھوکوں کو کھانا کھلانا ، بھوک ، افلاس اور تنگی انسان سے ہر چیز چھین لیتی ہے ، اسی لیے سوالی کا سوال ، یتیموں کی کفالت اور ضرورت ، بے سہارا اور بیواؤں کی خدمت اور کمزور کے ساتھ کھڑے ھونے کو حضور نے افضل ترین قرار دیا ، خود اس کی مثال بنے ، عورت کے احترام اور خیال کو زندگی کے آخری لمحے میں بھی ھدایت دی کہ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ، بھوک چاہے امیر کی یا غریب کی ایک معاشرتی پہلو ھے جس کو مٹانے کے لیے دسترخوان مصطفیٰ ھمیشہ حاضر ھوتا تھا ، ایک صحابی آئے فرمایا شدید مالی تنگی کا شکار ھوں فرمایا گھر میں کیا ھے ،کہنے لگا صرف ایک کمبل ھے ،فرمایا لے آؤ ، اس کمبل کی قیمت لگاوئی ، ساتھ کچھ درھم جمع کیے اور اسے کہا ایک کلہاڑا خرید کر لکڑیاں کاٹ کر بیچو ، گویا ایک غریب کو محض زکوٰۃ سے نقد مدد نہیں اسے روزگار دے کر پاؤں پر کھڑا بھی کیا ، بیت المال کا نظام بھی ایسے ہی قائم کیا کہ مانگنے والے کم ھو گئے بلکہ علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ ،
گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا
آپ نے ان صفات سے ہی پورے معاشی اور معاشرتی نظام کا اندازہ ھو گیا ھو گا ، کہ ایک امیر آدمی کو ڈر اور خوف تھا کہ وہ غریب کی کیسے مدد کرے کیوں کہ غریب بھی اپنے ھاتھ سے کمانے آور کام کرنے کا جذبہ رکھتا تھا ، اسے یہ بات پسند تھی کہ محنت اور مشقت سے اللہ کا دوست بنا جائے ، پوری مدینہ کی ریاست اسی نظام پہ کھڑی تھی کہ غریب کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ خود کمانے کے قابل بن جائے ، بیت المال اور زکوٰۃ کا پیسہ یتیموں ، بیواؤں ، قرض داروں کی گردن چھوڑنے اور صحت مند غریب کو کام کے قابل بنانے کے لیے استعمال ھوتا تھا ، تاکہ وہ مفید شہری بنے ، یہ تقسیم کے عمل سے ممکن ہے ، امیر کی دولت پر غریب کا حق تسلیم کر لیا جائے اور جمع کرنے کے بجائے تقسیم کا اصول دیا جائے تو کوئی غریب نہ رہے ، آج کے کیپیٹل ازم کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ دولت ایک خاندان ، یا آخر پہ ایک شخص کے پاس جاکر ڈمپ ھو جاتی ھے ، ایک دن سیچوریٹ ھو کر یہ "نظام جمع دولت" اپنے بوجھ سے ہی گر جائے گا ، خیر بات اخلاقیات کی ھو رہی تھی ، حضور کا ہر پہلو قرآن مجید کے عین مطابق تھا اور سیرت النبی ھو بہو قرآن تھی ،
آج اسی اخلاق حسنہ کے صرف ایک پہلو کو لے کر غیر مسلم ممالک ترقی کی معراج پہ ہیں ، آپ ملاحظہ کریں گاہک سے رویہ ، حقوق ، غریب اور پسماندہ طبقات کی رہنمائی ، پرورش اور تعلیم و صحت کا کس طرح خیال رکھا جاتا ہے ، آپ مواخات مدینہ منورہ کی عملی مثال دیکھیں کہ غیر مسلم ممالک نے شامی مہاجرین ، افغانستان ، میامر اور صومالیہ کے باشندوں کے لیے اپنی سرحدیں کھول دی تھیں ، کیا یہ بھائی چارہ نہیں ھے ، ھم بطور مسلم ایسا کیوں نہیں کرتے ،؟ دولت ، طاقت اور اختیارات میں دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتے ، پسماندگی بے شک پھیلے ، افلاس اور بھوک سے انسان مرتے رہیں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری خطبے میں بیت اللہ ، مسجد الحرام سے بھی زیادہ اہمیت اور انسانیت کی حرمت بیان کی ، اپنی دعوت ، کی بنیاد سچائی ، دیانتداری ، امانت داری اور اخلاق حسنہ پر رکھی ، انسانیت کی خدمت ، تحفظ اور بقا کا راز اسی اخلاق حسنہ میں ھے ، یہی گفتار انصاف کے لیے آواز بلند کر سکتی ھے ، یہی دلوں کو فتح کر سکتی ہے ، کیا فتح مکہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں ، جنہوں نے آپ پر مکہ کی زمین تنگ کر دی تھی ،اپ کے چچا ھمزہ رضی اللہ تعالیٰ کو شہید کرنے اور نعش کی بے حرمتی کرنے والوں کو معاف کر دیا ، کیا یہ اخلاق کی اعلی مثال نہیں ہے ؟ ذرا غور کیجیے تو سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ پہلو تمام تعلیمات کا مرکزی خیال ھے ،
میں نے سیرت النبی کے باب میں مولانا شبلی نعمانی ، سید سلمان ندوی ، مولانا مودودی ، ڈاکٹر اسرار ،پیر کرم شاہ الازہری سمیت متعدد کتابیں پڑھیں ،کئی مضامین نذر سے گزرے ، علماء دیوبند ، ندوہ ، اور متعدد علماء ومشائخ کی کتابوں سے استفادہ کیا ، خود مشاہدہ بھی کیا 2000 میں ایک کتاب صدر راولپنڈی کے اولڈ بکس سینٹر سے ھاتھ لگی جس کا نام "محسن انسانیت" ھے مصنف علامہ نعیم صدیقی ہیں ، یہ کتاب 1960ء میں پہلی مرتبہ شائع ھوئی تھی پرانا نسخہ ھی میرے ھاتھ لگا یقین جانیں ایک ہی جلد میں لکھی گئی کتاب کمال کی ھے ، جہاں دیباچہ ، مقدمہ ، مکی اور مدنی دور ، اعتراضات کے جوابات اور مضامین در مضامین کے ساتھ قاری کے لیے تسلسل اور علم و فکر کا پہلو اجاگر ھے ، اخلاقیات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آسان اور سہل زبان میں بیان کرنا کتاب کا حسن ھے جتنا اس کتاب نے غور و فکر کرنے پر مجبور کیا کسی اور نے نہیں کیا، بلا تعصب اور مصنف سے بعض رکھنے کے بغیر پڑھیں گے تو معاشرت ، معیشت ، سیاست اور انقلاب کی بھی سمجھ آئے گی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جمال و کمال بھی دل کے اندر اتر جائے گا ، دراصل ھم سب سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھنے اور سمجھنے پر غور نہیں کرتے محض دعوؤں سے آپ باقی اقوام کیا اپنے اندر کی توڑ پھوڑ سے نہیں بچ سکتے ،ربیع الاول کو ھم اخلاق حسنہ کے انہی پہلوؤں کو یاد کرکے اور ان پر عمل پیرا ھو کر منائیں تو زندگی میں کتنی تبدیلی آ سکتی ہے ، ھم قرآن اور سیرت رسول یہ دو کتابیں پڑھنے سے خوف زدہ ہیں باقی سب پڑھ لیتے ہیں سو چنا چائیے ایسا کیوں ہے ،؟
189