ایک انگریز سے بات ہوئی ۔ بتا رہا تھا کہ میں اپنے سکول میں ری یونین کے لئے آیا ہوں۔ ری یونین ایک کٹھن کام ہے ۔ ہمارا سکول ہر تین یا چار سال بعد اس کا اہتمام کرتا ہے ۔ لیکن سکول والوں کو رابطہ مکمل کرنے میں چھ ماہ لگ جاتے ہیں۔ ہم کلاس میں بائیس طالب علم تھے، سات لڑکیاں اور پندرہ لڑکے۔ سکول والوں کی سخت محنت کے باوجود صرف دو لڑکیوں اور گیارہ لڑکوں سے رابطہ ہو سکا۔ وہاں کا کلچر ذرا مختلف ہے۔ بچہ جب اٹھارہ سال کا ہو جاتا ہے تو وہ اسے گھر سے رخصت کر دیتے ہیں کہ جائو اپنا ساتھی تلاش کرو، اپنے لئے روزگار کا بندوبست کرو۔ مزے کی بات یہ کہ وہاں کے بچوں کی نظریں والدین کی جائداد پر بھی نہیں ہوتیں۔ والدین مرتے وقت جائداد کسی ویلفئیر ادارے کو دے جاتے ہیںاور بچے اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ان کے والدین کچھ اچھا کام کر گئے ہیں۔پاکستان میں تو بہت سے ایسے بد بخت ہیں جو ماں اور باپ کی موجودگی میں ان سے ان کے گھر میں اپنا حصہ مانگتے ہیں اور انہیں اس کے لئے باقاعدہ تنگ کرتے ہیں۔ مغرب کے کلچر میں ایسی کوئی برائی نہیں۔ وہاں ماں باپ کا احترام ہے، ان کی بہت عزت ہے ۔ معاشرہ بھی ان بزرگ حضرات کے لئے بہت کچھ کرتا ہے۔بچے نہ تو جائیداد میں حصہ مانگتے ہیں اور نہ ہی ماں باپ سے اس کی توقع رکھتے ہیں۔ میرے بچے انگلینڈ میں جس گھر میں رہتے ہیں۔ چند سال پہلے جس دن وہ یہاں شفٹ ہوئے اس سے اگلے دن ان کے ہمسائے میاں بیوی ان کے پاس آئے۔ میاں 92 سال کا تھا اور بیگم 89 سال کی۔ انہوں نے خوش آمدید کہتے ہوئے بتایا کہ وہ ان کے ہمسائے ہیںاورساتھ والے اپنے گھر میں اکیلے رہتے ہیں۔ان کے دو بیٹے ہیں جو کہیں دوسرے شہروں میں کام کرتے ہیں لیکن ہر ہفتے دونوں میں سے کوئی ایک اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ ہمارے پاس لازمی چکر لگاتا ہے۔ لیکن بقیہ دنوں میں وہ اکیلے ہوتے ہیں۔ان بقیہ دنوں میں بڑھاپے کی وجہ سے انہیں کبھی کوئی مشکل پیش آئے تو ہم آپ لوگوں کو ہی اپنے بچے سمجھ کر پکاریں گے۔تو آپ کو ہماری مدد کرنا ہو گی۔ ویسے بھی آپ نظر رکھیں اگر آپ کو ہماری گاڑی دو تین دن تک مسلسل باہر جاتی نہ دکھائی دے تو بھی ہمارا پتہ کر لیں۔مشکل کی صورت میں ہم آپ کو فون کر دیں گے کہ مدد کو آ جائیں۔میرے بچوں کی طرف سے خوشی سے ان کی بات ماننے کے بعد انہوں نے گھر کی چابیوں کا ایک پورا سیٹ، گھر میں داخلے کا سکیورٹی کوڈ اور اپنے دونوں بچوں کے موبائل فون نمبرز انہیں تھما دئیے۔ پھر ان کا جو بیٹا جس ہفتے آیا اس سے ان کی ملاقات بھی کرا دی۔دونوں گھروں کے پیچھے بڑے بڑے لان ہیں جن کے درمیان صرف بیس فٹ چوڑی باڑ ہے۔ اس باڑ میں سے بھی ایک راستہ ان کے گھر کی طرف بنا دیا گیا ہے۔ وہ لان میں پھرتے ، بیٹھتے اور گپیں لگاتے سارا دن نظر آتے ہیں۔ کبھی ایک دن بھی نظر نہ آئیں تو یہ آواز دے کر حال چال پوچھ لیتے ہیں یا فون پر بات چیت کر لیتے ہیں۔ بات ہو رہی تھی ری یونین کی ۔یہاں یورپ یا امریکہ وغیرہ میں ری یونین ایک بڑا ایونٹ ہے۔اس کے لئے سکولوں اور کالجوں میں خاصہ اہتمام ہوتا ہے۔ آپ نہ صرف اپنے کلاس فیلوز سے ملتے ہیں، بلکہ اس سیشن کے تمام طلبا سے بھی آپ کی ملاقات ہو جاتی ہے جن میں بہت سوں سے آپ کے اچھے تعلقات رہے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات آپ کسی بہت قریبی عزیز کو اک عرصے سے ملے نہیں ہوتے۔ مگر وہ آپ کے ساتھ اس سکول میں پڑھتا رہا تھا۔ اس حوالے آپ کی اس سے ملاقات ہو جاتی ہے۔جو یقیناً خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ یہ سکول یا کالج سے حوالے سے ایک بڑا ایونٹ ہوتا ہے جو سالوں شرکت کرنے والوں کو یاد رہتا ہے۔دوسرا پرانے ساتھیوں سے ایک رابطہ پھر سے قائم ہو جاتا ہے۔ میرے ایک دوست ہیں ، میری مادر علمی ہی کے پڑھے ہوئے۔ ان کے نزدیک کسی شخص کا ان سے ملنا ہی ری یونین ہے۔مجھے پچھلے مہینے تین بار ملے ۔ کہیں نہ کہیں اتفاق سے ملاقات ہو جاتی ۔ بھاگ کر فوراً کسی موضوع پر بات کرنے کی بجائے ایک سیلفی اتار لیتے اور فوری کھانے کی دعوت دیتے، راہ چلتے کسی مصروفیت کے تحت کھانا اس وقت دشوار ہوتا۔ انکار کا سن کر خدا حافظ کہہ کر یہ جا وہ جا۔ فقط ایک گھنٹے بعد سوشل میڈیا پرخبر ہوتیِِ’’گریٹ ری یونین آف فلاں لوگ‘‘۔ یعنی اس کالج کے قدیم طلبا کی گریٹ ری یونین اور طلبا کون تھے فقط میں اور وہ۔یعنی دو دوستوں کا سرراہ مل جانا بھی ری یونین ہے۔ لفظی معنوں میں تو یہ صحیح ہے مگر اصل ری یونین کی روح مجروع ہو جاتی ہے۔ میں دوستوں کو کہہ رہا تھا کہ لگتا ہے کہ اس دھرتی پر ہمارا اس دوست کو ملنا ہی ری یونین ہے۔لیکن میرے ان دوست کی ہمت ہے کہ روزانہ دس سے پندرہ ری یونین کا مزا لیتے ہیں۔ ایک دوست ہنسنے لگاکہ یار کیا بتائوں ۔ میں ایک کام سے جا رہا تھا ۔ کچھ بوجھ سا مثانے پر تھا۔ سامنے ایک واش روم نظر آیا۔ میں نے گاڑی کھڑی کی اور جلدی سے واش روم کو چلا تو کسی نے میرا کندھا پکڑ لیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہی ہمارا دوست تھا۔میں نے کہا بھائی جلدی میں ہوں اور بس ایک منٹ میں واپس آ رہا ہوں۔ کہنے لگا ، ذرا منہ موڑیں، پھر ایک منٹ کی بجائے چاہے سارا دن اندر بیٹھے رہیں۔میں نے منہ موڑا، اس نے سیلفی لی اور چلا گیا۔ دو گھنٹے بعد میں نے کمپیوٹر کھولا تو ری یونین موجود تھی اور تصویر میں پیچھے،ٹائیلٹ کے نشان اور محل وقوع بھی صاف نظر آ رہا تھا۔ میں نے اسے فون کیا کہ بھائی یہ ٹائیلٹ کے باہر ری یونین ہمیں کچھ مشکوک بنا رہی ہے۔ بہتر ہے اسے ہٹا لو۔ میں آ جاتا ہوں تم ایک اور تصویر بنا کر شوق پورا کر لینا۔
ری یونین