ربعہ عربی میں چوتھائی حصہ کو کہتے ہیں۔ پاکستان اپنی کل عمر کے اعتبار سے تو 76 سال کا ہوگیا ہے، یوں اس کے آخری ربعہ (کواٹر) کا پہلا سال بھی گزرا مجموعی عمر کے ہر ربعے کی طرح ہمارا گزرا سال نہیں بلکہ 16 ماہ ہر ربعے کی طرح پرآشوب ہی رہا۔ بلکہ اتنا کہ گزرے گزشتہ عشرے پر اس کا اضطراب بھاری گزرا۔ اس طرح کہ اسے سرزمین بےآئین میں تبدیل کردیا گیا۔ شہباز حکومت آئی تو اسٹیٹس کو (نظام بد) کی روایتی سیاسی جماعتوں کے لشکر کے ساتھ 16 ماہ قبل اقتدار میں تھی۔ شہباز صاحب نے اقتدار کی مدت ختم ہوتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ہم آئینی طریقے سے آئے تھے اور آئینی طریقے سے جا رہے ہیں۔ جناب! ایسا ہرگز نہیں ہے۔
آپ آئین کی جس متنازعہ ’’تنگ گلی‘‘ سے مہنگائی کا شور مچاتے، غیر آئینی بازار سیاست بد میں سودے کرکے اقتدار میں آئے تھے اس میں آپ کے مددگار حکمران جماعت کے 20بائیس باغی ارکان، آئین کی عدالتی تشریح کے مطابق اپنی رکنیت کھو بیٹھے۔ گویا انہوں نے اتنا غلط کام کیا کہ اپنی منتخب حیثیت سے ہی محروم ہوگئے تو پھر جب ان کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے تو 22 میں سے 18پھر معزول ہوئی حکومت کو مل گئیں گویا عوام نے اپنی عدالت میں فیصلہ کردیا کہ عام انتخابات میں ہم نے جن 20اراکین اسمبلی کو منتخب کیا تھا انہوں نے ہمارےاجتماعی حق رائے کو بھرے بازار میں بیچ کر ہماری منتخب حکومت کو ختم کرڈالا۔ یہ تھا پاکستان کی پہلی صد کے آخری ربعہ کا آغاز جس کے بعد غیر آئینی، غیر قانون اور آئین کی روح سے متصادم حکومتی اقدامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ حکومت پاکستان اپنے عوام کے لئے غیر یقینی، مایوسی و اضطراب اور خوف و ہراس کا مسلسل ذریعہ بن کر رہ گئی۔ پھر اپنے دعوے ’’مہنگائی سے عوا م کو نجات‘‘ سے متصادم ان پر ٹیکسوں اور بلاجواز مہنگائی کا بوجھ مسلسل اتنا ڈالا گیا کہ پوری پاکستانی سوسائٹی کی اقتصادی درجہ بندی کی تخصیص کم ترین ہونے پر درجہ کیا امیر، اپر اور مڈل اور لوئر کلاس نچلے درجوں پر چلے گئے اور غریب غریب ترین اور خوراک کا معیار کم ترین اور ہر شعبہ زندگی کا معیار گرتا گیا۔ جبکہ پاکستانی اولیگارکی (مافیا راج) جو کوویڈ۔19کی عالمی وبا میں بھی احتجاجی ریلیاں اور لانگ مارچ کر رہا تھا، اقتدار سنبھال کر ایسی موج مستی میں آیا کہ ہر قابل ذکر سیاسی رہنما کی پرتعیش اور غیر قانونی اور اقتصادی صورتحال کو مزید بڑھاتی جمبو سائز وفاقی کابینہ اور صوبائی نگران حکومت میں وزارت حاصل کرنے، نہ سہی تو معاونت اور مشاورت حاصل کرنے کی ہوس اتنی بڑھی کہ اختتام حکومت تک اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ دوسری جانب عوام، آئین و قانون اور جمہوریت سے جو سلوک لشکری حکومت نے کیا اور اس کے بعد آج جو پاکستان کا نقشہ یہ چھوڑ کر گئی ہے، اسے خودبھی دیکھ کر ڈر لگ رہاہے۔ جب یہ ڈرائنگ و ڈیزائن کی جا رہی تھی ڈر تو اس وقت بھی لگ رہا تھا جسے کم کرنے اور عام انتخابات مطلوب آئینی حوالے سے لازم دو صوبائی انتخابات میں پی ڈی ایم حکومت نے جس جس غیر آئینی اور غیر جمہوری طرح اور جتنی رکاوٹیں ڈال کر پنجاب اور خیبر کے انتخابات کو ٹالتے ٹالتے سپریم کورٹ جیسے آئینی بالادستی کے معتبر ریاستی ادارے کو فیصلے کی سیاسی تشریح کرکے تقسیم کیا ، وہ پاکستان کی سول حکومتوں کی تاریخ پر رجیم چینج کے برابر ہی داغ ہے اور اتنا بڑا کہ آنے والی نسلوں سے یہ دور نہ ہوگا اور ہماری سیاسی کھلواڑ کی تاریخ میں75 سال گزرنے کے بعد آخری ربعہ کے آغاز پر پی ڈی ایم حکومت کے حد درجہ غیر آئینی اقدا م کے طور پر اہم ترین فیصلہ ہوگا جو آنے والی نسل کے لئے، سیاسی و معاشی بحران کے پیدا ہونے اور بڑھانے کے حربوں سے متعلق ایک بڑا سبق بنے گا کہ ایسے غیرآئینی حکومتی اقدامات کے کیا نتائج نکلتےہیں۔
پہلےربعہ کے اختتام پر پاکستان دو لخت ہوا تھا۔ دوسرے ربعہ کا آغاز ہم نے متفقہ دستور کی تیاری اور اطلاق سے کیا۔ باوجود اس کے کہ اس ربعہ کا آغاز دستور کی بڑی اور مسلسل خلاف ورزیوں ہی سے ہوا اور بھٹو حکومت اپنے اختتام پر ایک فسطائی حکومت ہی کے طور پر پہچانی جانے لگی اور اسی کے مکمل آلودہ ملک پر عام انتخابات نے ضیاء الحق کے مارشل لا کی بنیادخود رکھی۔ تاہم اسی پرآشوب ربعہ میںپاکستان اپنے کمال قومی اتحاد سے ایٹمی طاقت بنا، دوسرے ربعہ کے اختتام پر متحدہ پاکستان کے پہلے اور واحد شفاف اور غیر جانبدار عام انتخابات (جوملکی مجموعی تاریخ کےبھی واحدشفاف انتخابات تھے) کےنتائج کوتسلیم نہ کرکے یحییٰ آمریت اور بھٹو صاحب نے آئینی سیاسی کھلواڑ مچایا اور جس طرح اسے فوجی آپریشن سے مینج کرنے کی جسارت کی گئی اس کا کفارہ بقایا پاکستان میں آئین پاکستان 1973ء اور ملک کا ایٹمی طاقت بننا ہی تھا۔ کج بحثی اپنی جگہ آج ملک کے آخری ربعہ میں اولیگارکا راج جس طرح پاکستان کو بڑے آئینی بحران میںمبتلا کرکے رخصت ہو رہا ہے، وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اسے اربوں روپے کے پروپیگنڈے، لیپ ٹاپس اور سڑا جان لیوا آٹے کی تقسیم کی آڑ سے محفوظ نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کی سب سے پاپولر جماعت اور تازہ ترین مین ڈیٹڈ (22 نشستوں کے ضمنی انتخاب) جماعت کے لیڈر پر 200 مقدمات اور اسیری پھر ہزار ہا سیاسی قیدیوں اور خواتین کی قید وبند کی فسطائیت اپنے تمام تر ثبوتوں کے ساتھ مافیاراج رخصت ہوگیا۔ اس کی ٹیلر میڈ قانون سازی کو ریورس کرکے آئین کا حلیہ مکمل درست کرنا اور آئین کا مکمل اطلاق و قانون کا سب شہریوں پر یکساں اطلاق شروع ربعہ کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ آج کے یوم آزادی کا پیغام یہ ہے کہ صبح آئین و قانون، اللہ کی مدد اور فضل اور عوام کے حق رائے دہی کے استعمال سے آکر رہے گی کہ پاکستان آخر کار مملکت خداداد ہے۔