شاہ ولایت حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری سے  حضرت شیخ صوفی برکت علی لدھیانوی تک  1556

شاہ ولایت حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری سے  حضرت شیخ صوفی برکت علی لدھیانوی تک 

اٹھ باند قمر کو کیوں ڈرتا ہے 
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے 
جو ہمت کی جولانی ہے 
تو پتھر بھی پھر پانی ہے 
اس جیسی اور بہت ساری نظمیں تھی وہ مجھ سے پیار و محبت کرتی تھی میری والدہ آپا شگفتہ جن کو پیار سے نصیب کہتے تھے ان تینوں بہنوں کو اپنی ماں آپا جی زندی  اور اپنے نانا شاہ ولایت حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری سے عشق تھا میرے پڑنانا اور میری نانی آپا زندی  سے ساری زندگی خدمت خلق میں گزاری اور اپنی آنے والی نسل کوبھی اسی راستہ پر گامزن کر کے گئی سہارنپور میں میری والدہ لے لیے سحری میں تہری پکتی تھی جو ایک چاولوں کی ڈش ہے جو  سہارنپور والے بڑے شوق سے کھاتے ہیں اس سے سحری کی جاتی تھی میری والدہ کے نانا شاہ ولایت حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری کے وصال کے بعد آپ سحری نہیں کرتی تھی صرف سنت کے لیے ایک کھجور اور تھوڑا سا پانی پی لیتی تھی ۔
ایسی محبت اور اپنائیت کو آج آنکھیں ترستی ہیں آج کی دنیا جو مادہ پرستی میں مبتلا ہے جہاں رشتوں کا تقدس پامال ہے جہاں صرف مال و دولت ہی سب کچھ ہے ۔
وہاں آج بھی آپ کو صوفی برکت علی لدھیانوی جیسی باکمال شخصیت مل جائے گی اور ان کو آج بھی خان عبد الصمد خان جیسی بے لوث شخصیت جنہوں نے ساری زندگی دین پر اور حضور  ۖ کے عشق میں اور صوفی برکت علی لدھیانوی کی معیت میں بسر کر کے وہ چراغ روشن کیے جنکی تو لو ہماری روح کو گرما رہی ہے شاہ ولایت حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری کو حضرت صابر  سے بڑا عشق تھا اور حضرت صابر کو بھی حکیم جی سے بڑی محبت تھی حکیم شاہ امیرالحسن سہارنپوری  کو ولایت مخدوم الملک حافظ عبد الکریم صاحب سے ملی جو آپ سے بہت محبت و شفقت فرماتے تھے ۔ قیام پاکستان کے وقت کے فسادات میں حکیم شاہ ولایت امیرالحسن سہارنپوری نے کئی دفعہ فرمایا کہ ہندوں اور سکھوں کا حملہ حضرت صابر  نے پسپا کروایا آپ نے اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ میرے انتقال کے بعد پاکستان چلے جائے میری دادی جو کہ حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری کی رشتہ دار بھی تھی وہ میرے والد حکیم سید محمود احمد سہارنپوری کے رشتے کے سلسلے میں آپا جی زندی  کے پاس گئی تھی انہوں نے اس وجہ سے انکار کر دیا تھا کہ آپ لوگ پاکستان جا رہے ہیں میری دادی آپا خورشید بیگم جب گھر سے نکل رہی تھی تو حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری تشریف لائے اور پوچھا کیسے آنا ہوا تو میری دادی نے وجہ بتائی تو آپ نے فرمایا میں اس کو وہی بھیج دونگا ۔ میری دادی اور ان کا خاندان 1947میں پاکستان آیا پاکستان آتے ہوئے جس مشکلات کا شکار ہوا دہلی کے قلعہ اور پھر لاہور کے مہاجر کیمپ سے ہوتے ہوئے راولپنڈی میں قیام پذیر ہوا حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری کے وصال کے بعد صوفی برکت علی لدھیانوی نے ہماری نانی آپا جی زندی  کو جو تحر یر ارسال فرمائی ہے وہ رہتی دنیا تک کے اس سلسلے کے لیے ہدایت و رہنما ئی فراہم کرنے کا زریعہ ہے اور اس سلسلے میں چلنے والوں کے لیے ایک روشن مثال ہے صوفی برکت علی لدھیانوی کی تحریر عنوان (عہد وفا )          بندہ گنہگار و خطاکار اپنی سرکار حضرت مخدوم الملک پیر ومرشد شاہ ولایت شاہ حکیم امیر الحسن صاحب سہارنپوری قدس سرة العظیم کی صاحبزادی متحرمہ و مخدومہ کی خدمت مبارک میں اپنے عہد غلامی کا یقین دلاتا ہوا عرض کرتا ہے کہ اصغر علی حضور کی خدمت میں حاضری دے کر واپس آئے ہیں اور آپ کے پیغامات لائے ہیں ان سب کے جواب میں جواب میں بندہ آپ کی خدمت میں اپنی وفا داری کا یقین دلاتا ہے میں اور میری اولاد اور اولاد کی اولاد حضرت سرکار پیرو مرشد قدس سرة العزیز کی آل اولاد کی وفا دار و جان نثار غلام رہے گئی ہر خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہے گئی اور جو بھی حکم ملے گا پورا کرے گئی یا حئی یا قیوم بے شک بندہ آپ کا اور آپ کی اولاد کا ایک حبشی غلام ہے یا حیی یا قیوم ۔ قول الثابت ناحقر برکت علی عفی عنہ الماجرالی اللہ والمتوکل علے اللہ العظیم ۔
شاہ ولایت حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری کا عرس 22تا 23رمضان المبارک کو منایا جاتا ہے صوفی برکت علی لدھیانوی کے عرض کرنے پر میری نانی آپا جی زندی  کا خاندان 1957میں پاکستان تشریف لایا جس کی خدمت کی ذمہ داری صوفی برکت علی لدھیانوی نے ادا کی اور احسن طبریقے سے ادا کی ۔1963مین میرے والد متحرم حکیم سید محمود احمد سروسہارنپوری جن کو حکیم شاہ ولایت امیر الحسن سہارنپوری سے بڑی نیاز مندی تھی آپ کی شادی حکیم امیر الحسن سہارنپوری کی سب سے چھوٹی بیٹی اور لاڈلی نواسی آپا شگفتہ سے ہوئی ۔
آپا شگفتہ تمام مومنہ اوصاف کی مالک تھی ۔ صابر، شاکرہ ،ہمدرد ، غم گسار ، شفیق ، ملنسار ، عبادت گزار ، زاہدہ اور متقی خاتون تھی آپ نے حکیم سید محمود احمد سروسہارنپوری کے گھر اپنے سیرت و کردار سے ایک گلستان میں تبدیل کر دیا آپ نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
حکیم شاہ ولایت امیر الحسن سہارنپوری  نے اپنی خلافت صوفی برکت علی لدھیانوی کو بخشی اور فرمایا کہ میں نے ایک جاٹ سے لے کر ایک جاٹ کو سونپ دی میں نے اپنا بچپن اپنی خالہ آپا جی ساجدہ اور اپنی والدہ آپا جہ شگفتہ اور اپنے سب بہن بھائیوں سمیت دار احسان گیا وہاں میں نے بابا جی کو دیکھا آپ کی محفل میں شریک ہوا آپ نے مسجد کی محفل میں جہاں بہت سے عقیدت مند موجود تھے تسبیح کا گھچا عنایت کیا جس میں صند ل اور مختلف تسبیح موجود تھی میں قرآن محل کے برآمدے میں آپ کی خدمت میں بیٹھا مسجد اور قرآن محل کے برآمدوں میں موروں کی آواز یں اور ان کا رقص ایک عجیب سا سماں باندھ دیتا تھا بابا جی کی محفل میں جب بھی آیا وہاں سے فیض پایا آپ کو دیکھ کر دل کی دنیا ہی بدل جاتی تھی جب ہم دار احسان پہنچے تو ہمارا بڑا استقبال ہوا اور پھرہمیں فیصل آبا د  بھائی محمد شفیع  صاحب اور چیمہ صاحب کے گھربھیجا گیا اور فیصل آباد کی سیر بھی کروائی گئی دال والوجہاں آپ کا کیمپ آفس ہے وہاں ہم اس وقت ہو کے آئے تھے پھرسرگودھا حافظ عبد الکریم صاحب پھر لاہور شیر احمد رانجھا صاحب گئے جب ہم دار احسان آئے تو میاں انور صاحب بیمار تھے ان سے بھی ملاقات ہوئی جب ہم لاہور گئے ہوئے تھے تومیاں صاحب کا وصال ہو گیا میاں محمد انور صاحب بابا جی کے بڑے تابعدار بیٹے تھے اور صوفی برکت علی لدھیانوی نے اتنے بڑے کام سر انجام دیے اس میں آپ کے معاون اور مدد گار تھے ۔ یہاں میاں محمد انور صاحب کے وصال کے بعد دوسرے دن میاں تجمل صاحب کی دستار بندی ہوئی جب میں بابا جی کے پوتوں کے ہمراہ ہم تینوں بھائی شریک ہوئے صوفی برکت علی لدھیانوی نے ہزاروں غیر مسلموں کو کلمہ پڑھیا ۔ مسلمان بنایا ۔ تبلیغ کے لیے ٹیموں کی تشکیل دی جو ہر گاوں میں جا کر اللہ تعالی کے ذکرکی محفل قائم کرتی اور لوگوں کو دین سے روشناس کراونے کا اپنا فریضہ سر انجام دیتی ۔
میرا دوسری دفعہ جانا اپنے والد محترم حکیم سید محمود احمد سروسہارنپوری اور والدہ متحرمہ کے ساتھ میاں انور کی تعزیت کے سلسلے میں ہوا ۔میرے والد متحرم حکیم سید محمود احمد سروسہارنپوری جب دار احسان تشریف لائے تو صوفی برکت علی لدھیانوی بڑی شفقت اواپنائیت سے آپ سے ملے ۔دارلا حسان کی جامع مسجد میں آپ نے خطبہ بھی ارشاد فرمایا ، بابا جی کی حیات میں اور آپ سے فیض بھی پایا ۔
بابا جی صوفی برکت علی لدھیانوی سے اس کے بعد بھی میری دال والو میں بھی حاضری نصیب ہوئی آپ نے ہمیشہ محبت فرمائی بابا جی پوتے میاں تجمل حسین اور میاں محمود حسین کی شادی کے موقع پر دال والوں حاضری نصیب ہوئی اپنی فیملی کے ساتھ جب آپ کا وصال ہوا 16رمضان المبارک کو آپ کے جنازے میں شرکت کے لیے میں میری خالہ آپا ساجدہ اور والدہ شگفتہ اور بڑے حکیم سید حسن سہارنپوری کے ساتھ دال والو حاضری ہوئی بابا جی اپنے وصال سے پہلے میری خالہ متحرمہ مخدومہ آپا ساجدہ کو حج بیت اللہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی آ پ کے وصال کے بعد میاں تجمل حسین  اور میاں محمود حسین اور میاں مظفر حسین اور میاں مقصود حسین جو اب تک خوش اسلوبی کے ساتھ نبھا رہے تھے اور میاں تجمل حسین اور میاں محمود حسین کے انتقال کے بعد ان کے بچے بھی اس عہد کو نبھا رہے ہیں بابا جی کی رحلت کے بعد میں اپنی والدہ کے ساتھ دال والو بابا جی کے مراز پر حاضری دی اس دوران میری ملاقات بھائی محمد شفیع اور بھائی نجیب اللہ سے ہوئی میں نے ان سے عرض کی کہ آپا جی شگفتہ گاڑی میں بیٹھی ہیں آپ جا کر ان کو سلام کر لے میری بات کی لاج رکھتے ہوئے بھائی شفیع اور بھائی نجیب اللہ نے گاڑی کے پاس آکر آپا جی کو سلام کیا اور خیریت دریافت کی ۔ بابا جی کی ایسی نسل کی وجہ سے دارالاحسان اور دارالاحسان ثانی میں آنا جانا لگا رہتا ہے اور بابا جی کے جاری کیے ہوئے کاموں کو دیکھ کر اطمیان بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے جس بندے نے جنگل میں کھڑے ہو کر آواز لگائی تھی اللہ تعالی نے اس کو مقبولیت کے مقام عروج  پر پہنچایا ہے ۔ اب ہمیں بابا جی کے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا و آخرت میں فلاح اور کامیابی اور کامرانی حاصل کر سکے صوفی برکت علی لدھیانوی  قرآن محل کے حوالے سے بڑا کام کیا قرآن محل میں پونے دو لاکھ قرآن پاک کو محفوظ کیا گیا یہاں دس ہزار قلمی نسخے موجود ہیں پانچ سو تاریخی اور قدیم نسخے موجود ہیں بابا جی صوفی برکت علی لدھیانوی نے دنیا میں قرآن محل کو متعارف کروایا قرآن محل کے حوالے سے آپ کی بڑی خدمات ہیں جامع داراحسان کا قیام ۔ جہاں پر صبح شام ذکر و اذکار کی محافل جاری وساری ہیں جہاں پر دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں ۔
میثار اصحاب بدرین 
شہداء بدر کی یاد میں یہ مینار تعمیر کیا گیا بابا جی فرماتے ہیں کہ اس کے سایہ میں یہ دعا ضرور مقبول ہوتی ہے ۔دارالحکمت المعروف دوا الشفا کا قیام 
جہاں پر مریضوں کو مفت علاج معالجہ اور رہائش میسر آتی ہے جہاں پرجمعہ کو مریضوں کا معائنہ کیا جاتا ہے اور سال میں دو ماہ  1 مارچ سے  31مارچ اور یکم  اکتوبر سے  31اکتوبر تک آنکھوں کا معائنہ آپریشن اور کالا اور سفید موتیا اور لینز کا آپریشن فری کیا جاتا ہے ۔
صوفی برکت علی لدھیانوی اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے آپ کی تصنیفات ۔العمل بالسنتہ بالمعروف ترتیب شریف ۔اسماء النبی ۔ حضور  ۖ کے اسماء مبارک 
منازل احسان مکتوفات المعروف بہ مقالات حکمت سات جلد پر مشتمل 
طب نبوی ۖ ۔خانقاہی نظام 
محب پاکستان اور دیگر بے شمار تصانیف
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے  بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔امین 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت شیخ صوفی برکت علی لدھیانوی 16رمضان المبارک  کوآپ کا وصال ہوا آپ کے پیر شاہ ولایت حکیم شاہ امیر الحسن  جو میرے پڑنانا تھے صوفی برکت علی لدھیانوی قیام پاکستان سے پہلے آرمی میں تھے اللہ تعالی نے آپ کو  اپنے دین کی خدمت کے لیے چن لیا تھا اس لیے آپ شاہ ولایت حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری کی خدمت میں سہارنپور تشریف لائے اور آپ کی  بیعت کی یہ دو شخصیات ایک ہی وقت میں شاہ ولایت امیرالحسن سہارنپوری،  کی  بیعت کی حضرت شیخ صوفی برکت علی لدھیانوی اور صدر ایوب خان ، شاہ ولایت حکیم شاہ امیرالحسن سہارنپوری نے صوفی برکت علی لدھیانوی کی دین کی سرفرازی کی نوید سنائی اور ایوب خان کو ملک کی صدارت کی نوید سنائی حضرت صوفی برکت علی لدھیانوی کو اپنے شیخ شاہ ولایت حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری سے عشق تھا اور آپ ان کی خدمت میں مسلسل حاضر ہوتے  اور فیض پاتے ۔ صوفی برکت علی لدھیانوی اپنے شیخ کے بارے میں خود فرماتے تھے کہ حضور  ۖ کو میرے شیخ کی سادگی کوبہت پسند فرماتے تھے شاہ ولایت حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری کی شخصیت ایک سچے عاشق رسول کی تھی جو ہر وقت اللہ تعالی کی عبادت اور مخلوق کی خدمت کے جذبے سے سرشار رہتے تھے آپ کا روزانہ کا معمول تھا کہ سردی گرمی صبح تہجد کے وقت کنویں پر دو گھڑے پانی کے بھرے رہتے تھے جس سے آپ غسل کر کے مسجد میں تہجد کی نماز ادا کرتے تھے مدرسے کے بچوں میں رمضان میں گھر سے افطاری اور سحری تیار کرواکر دے کر آتے تھے حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری اپنی صاحبزادی زبیدہ خاتون المعروف آپا زندی سے بہت محبت فرماتے تھے آپ کی شادی ریاض الحسن فاروقی سے ہوئی جو دنیاوی علوم کے ماہر تھے اور تعلیم و تدریس کے شعبے سے منسلک تھے جب بات ہو بزرگوں کی تو دل چاہتا ہے کہ ان کی شخصیت کے ہر شعبہ کو نمایا ں طور پر بیان کیا جائے ۔تاکہ ہماری نسل کو یہ بات معلوم ہو ں ۔ دنیا میں جس کسی کو بھی کچھ ملا ہے وہ اللہ تعالی اور حضور  ۖ کے طفیل اور اپنے بزرگوں کی اتباع اور تابعداری سے ملا ہے عیدالاضیٰ کے موقع پر زیادہ تعداد میں بیل قربان کر کے ان کا گوشت غریبوں میں تقسیم کیا جاتا تھا ۔میں بات کر رہا تھا اپنی نانی جان آپا جی زندی  کی جو اپنے والد محترم سے اتنی محبت کرتی تھی جس کی مثال آج کے معاشرے میں ممکن نہیں ولایت حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری سہارنپور کے مشہور حکیم تھے اور حکیم باوالہ کے نام سے مشہور تھے اور آپ کے مطب پر مریضوں کا رش رہتا تھا آپ کو اللہ تعالی نے دست شفا عطا فرمایا تھا کہ آپ اگر ہیضہ کے مریض کو کہتے تھے کہ چھلی کھاتے ہوئے سامنے کی پہاڑی پر چڑھ جا تو وہ چھلی کھاتے ہوئے پہاڑی پر چڑھتا تھا تو ٹھیک ہو جاتا تھا ۔ سوزاک کے مریض آپ سوزاک  کے مقام پر تھوک دیتے تو ٹھیک ہوجاتا تھا غرض حکیم شاہ ولایت حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری کے اتنے واقعات ہیں کہ بیان کرنے شروع کرو تو ختم ہونے پر نہیں آتے ۔ ہماری نانی جان کے ایک بھائی ماموں ارشاد تھے جو اپنے والد محترم کے بڑے تابعدار تھے پاکستان آنے کے بعد اپنے ناقدرے دوستوں کی نذر ہوگئے جنہوں نے دولت کی خاطر ہمیں ہمارے قیمتی ماموں سے محروم کر دیا باتیں اتنی ہیں کہ اگر ان کی تفصیل میں جایا جائے تو ایک نا ختم ہونے والا مضمون بن جائے ابھی تو میری صرف یہ کوشش اور سعی ہے کہ میں اپنے بزرگوں کی روشن سیرت و کردار سے اپنے چاہنے والوں اور اپنی موجودہ نسل کو باآور کروانا ہے کہ ہم جس چیز کے پچھے بھاگ رہے ہیں یہ دنیا کسی کے ہاتھ نہیں آتی ۔ ہاں جو اس سے منہ موڑ لے یہ اس کے پیچھے ضرور آتی ہے شاہ ولایت امیر الحسن سہارنپوری ایک دفعہ مطب سے گھر تشریف لائے تو میری نانی آپا زندی  نے کہا کہ وہ بھائی نثار آئے تھے اور آپ کا کہہ کر بڑے پتلے (دیگ ) لے گئے ہیں آپ کو غصہ آگیا آپ نے فرمایا میری اجازت کے بغیر کیوں دیاحکیم شاہ امیر الحسن سہارنپوری نے سب کے سامنے میری نانی صاحبہ کو کہا کہ آپ کان پکڑ لیں میری نانی المعروف آپا زندی  نے اپنی جوان اولاد کے سامنے کان پکڑ لیے حکیم شاہ امیر الحسن سہارنپور ی اتنے خوش ہوئے اور اپنے ساری مریضوں کو یہ بات بڑی خوشی کے ساتھ بتائی کہ میرے ایک حکم پر میری بیٹی نے کان پکڑ لیے ۔ میری نانی آپا زندی  کی تین بیٹاں زندہ رہی باقی اولاد بچپن میں ہی فوت ہو گئی میری بڑی خالہ آپا معراج جن کا انتقال 2017میں ہوا جن کی تین بیٹیاں اور چار بیٹے حیات ہیں آپا ساجدہ جس کا انتقال 1999میں ہوا آپ کی شادی نہیں ہوئی تھی آپ میری نانی صا حبہ کے ساتھ رہتی تھی ان کا انتقال جو 1978میں ہوا جس میں صوفی برکت علی لدھیانوی کے صاحبزادے میاں انور پا پیادہ (ننگے پیر ) شریک ہوئے ان کے انتقال کے بعد جب میری بڑی خالہ جو کرایہ کے مکان میں رہتی تھی ان کا پنا گھر بن گیا تو وہ وہاں منتقل ہو ئی اس کے بعد میری والدہ آپا شگفتہ جن کو پیار سے نصیب بھی کہتے تھے انہوں نے بچپن میں ہی میں اپنی خالہ متحرمہ آپا ساجدہ کی خدمت میں پیش کر دیا اور اللہ تعالی نے مجھے یہ سعادت بخشی کہ میں ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی خدمت کی کوشش کی ۔ میری خالہ مجھے پیار سے مٹھو کہتی تھی اور صبح کے وقت نظمیں سنا کر جگاتی تھی 

بشکریہ اردو کالمز