ہمارے ہاں بچے الف لیلہ،عمرو عیار اور ٹارزن کی کہانیاں سنتے پرورش پاتے ہیں،لڑکپن عمران سیریز اور کوہ قاف کی داستانیں پڑھتے بیت جاتا ہے ،جوانی ان تاریخی ناولوں کی ورق گردانی کرتے گزرتی ہے جن میں مبالغوں اور مغالطوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔یوں جادو کی چھڑی،الہ دین کا چراغ اور اڑتے قالین جیسے تصورات اذہان وقلوب میں رچ بس جاتے ہیں اورپوری زندگی کرشمات کے انتظار میں گزر جاتی ہے۔کنگال آدمی سوچتا ہے کسی روز اچانک کہیں نوٹوں سے بھرابیگ ملے گا ،کوئی پرائز بانڈ نکلے گا یا پھر لاٹری لگے تو زندگی بدل جائے گی۔گاہے خیال آتا ہے کاش کوئی چراغ رگڑنے سے جن حاضر ہوجائے اور جھک کر کہے ،کیاحکم میرے آقا!آپ اپنی کوئی سی تین خواہشیں بتائیں ،میں ابھی پوری کئے دیتا ہوں۔کچھ لوگوں نے تو یہ بھی سوچ رکھا ہوتا ہے کہ اس موقع پر پہلی خواہش ہی یہی بیان کروں گا کہ میری 100خواہشیں پوری کی جائیں۔یوں ہر پل نئی کہانی سنتے ،نئے خواب بنتے ،قدم قدم پر فریب کھاتے زندگانی کی کہانی تمام ہوجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں قصے ،کہانیاں سنانے والے، افسانہ طراز اور کہانی باز بھوکے نہیں مرتے ۔غالباً دسمبر 1976ء کی بات ہے ذوالفقار علی بھٹو قومی اسمبلی میں آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی ۔انہوں نے اس بوتل کا ڈھکن کھول کر قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمود کو یہ مژدہ جانفزا سنایا کہ ڈیرہ غازیخان کے علاقے ڈھوڈک سے تیل نکل آیا ہے ،بس اب ہمارے دن سنور جائیں گے۔لیکن ضیاالحق تشریف لائے تو انہوں نے کہا ،جمہوریت گئی تیل لینے ،اب تو جمہور کی کمر پر سرعام کوڑے برسائے جائیں گے ۔ بینظیر کے دور میں بلوچستان کے ضلع چاغی میں سینڈک پروجیکٹ کا آغاز ہوا تو بتایا گیا کہ یہاں سے نکلنے والے سونے اور تانبے سے خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔کان کنی کا سلسلہ تو اب بھی جاری ہے مگر حبیب جالب کے اشعار مستعار لوں تو ـــ؛
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پائوں ننگے ہیں بینظیروں کے
چاغی کے ہی علاقے ریکوڈیک میں 6ارب ٹن خام تانبے اور 6لاکھ ٹن خام سونے کے ذخائر دریافت ہوئے تو ایک بار پھر خوشخبری دی گئی کہ یہ منصوبہ گیم چینجر ثابت ہوگا۔بتایا گیا کہ یہاں سونے کا پانچواں بڑا عالمی ذخیرہ موجود ہے۔معدنیات کا یہ ذخیرہ تو نہ نکالا جا سکا البتہ لینے کے دینے پڑ گئے اور عالمی عدالت انصاف نے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر 6ارب ڈالرجرمانہ کردیا۔ نوازشریف دوسری بار وزیراعظم بنے تو 12فروری 2015ء کو ایک نیا جیک پاٹ ڈھونڈ لیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم نے چنیوٹ پہنچ کر جلسہ عام کے دوران انکشاف کیا کہ آپ کے علاقے رجوعہ سادات میں سونے ،تانبے اور لوہے کے اتنے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں کہ سب مشکلیں کافور اور اندھے راستے پرنور ہوجائیں گے ۔لیکن خوش بختی کا یہ دور شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ چنیوٹی خزانہ کدھر گیا اور شہباز شریف نے وزیراعظم بننے کے بعد آئی ایم ایف کی دہلیز پر ایڑیاں رگڑنے کے بجائے چنیوٹ سے یہ سونا نکالنے کی کوشش کیوں نہ کی؟یہی قصے کہانیاں سنا کر عمران خان نجات دہندہ کے روپ میں تشریف فرماہوئے ۔جنوری 2019ء میں غیر ملکی کمپنیوں پر مشتمل کنسورشیم نے ’’کیکڑا ون‘‘منصوبے کے تحت برماکاری کا آغاز کیا ۔دنیا بھر میں اس طرح کے منصوبوں میں کامیابی کا امکان 15سے 20فیصد ہوتا ہے لیکن کپتان کو یقین تھا کہ’ گیس‘یہیں سے نکلے گی۔چنانچہ انہوںنے 21مارچ کو صحافیوں سے ملاقات کے دوران خوشخبری سنادی کہ ملک کے حالات بدلنے والے ہیں ۔8اپریل کو کیپیٹل ٹاک میں وفاقی وزیر فیصل واڈا نے پورے وثو ق کیساتھ یہ نوید دی کہ ایک ہفتے،دس دن ،دو ہفتوں یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کے اندر اتنی نوکریاں آجائینگی کہ بندے کم پڑ جائینگے۔18مئی کو عمران خان شوکت خانم اسپتال پشاور کا سنگ بنیاد رکھنے اور فنڈز جمع کرنے گئے تو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء سے اپیل کی کہ آج آپ کو دو نوافل ضرور پڑھنے ہیں کیونکہ کراچی کے قریب سمندر میں گیس کا کنواں کھودا جا رہا ہے۔ایک ہفتے میں پتہ چل جائے گا ،ہوسکتا ہے اتنا بڑا ذخیرہ مل جائے کہ اگلے پچاس سال تک باہر سے گیس منگوانے کی ضرورت نہ پڑے۔جب وزیراعظم پشاور میں عوام کو ترقی و خوشحالی کے جھوٹے خواب دکھا رہے تھے تو اسلام آباد میں انکے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر بتا رہے تھے کہ کراچی سے 280 کلومیٹر دور سمندر کی تہہ میں جو کھدائی ہورہی تھی ،ساڑھے پانچ ہزار میٹر ڈرلنگ کے بعد اسے روک دیا گیا ہے کیونکہ وہاں سے تیل یا گیس ملنے کا کوئی امکان نہیں۔
ماضی کے یہ قصے اس لئے یا د آئے کہ آجکل ایک نئی کہانی سنائی جارہی ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے محمد خیل میں تانبے کے ذخائرڈھونڈ نکالے گئے ہیں جن کی مالیت 6ٹریلین ڈالر ہے۔میں اس خبر کو جھٹلا نہیں رہا بس یہ بتا رہا ہوں کہ افغانستان میں لیتھئیم کے ذخائر کی مالیت کا تخمینہ 3ٹریلین ڈالر ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ سونے کے ذخائر اور ہیروں کی کانیں جنوبی افریقہ میں ہیں ۔زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔بلوچستان معدنیات کی دولت سے مالامال ہے۔ڈیرہ غازیخان اور راجن پور سے یورینیم نکلتا ہے ۔اگر اس کے باوجود افغانستان ،افریقہ ،بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے لوگ پسماندہ ہیں تو کسی نئی کہانی کے فریب میں آنے کی ضرورت نہیں۔