شہرخموشاں کے مسافر کا ولیمہ 724

شہرخموشاں کے مسافر کا ولیمہ


نومبر سے مارچ تک ویسے بھی شادیوں کا مارچ جاری رہتا ہےہر سال, اس بار ,ہر نصف عشرے کی طرح ,طرح دار لوگ پھر سے خوش فہمیاں پالے ,پھولوں کی پتیاں لیے ,قطار میں لگاتار, محبت کے بخار میں مبتلا ہوکر دھوکہ کھانے کے لیے تیار کھڑے ہیں ,یہ معصوم لوگ ہر بار کھڑے ہیں, دربدر غیروں کے در ,سر میں لیے درد کھڑے ہیں, کہ شاید اب کی بار, ہماری سرکار, مکار لوگ پہلے سے ذہن بنائے پکار رہے ہیں اس بار پہلے والوں کی  سرکار,آپ کی رہے گی ہمیشہ ہار, معصوم لوگ پھر بھی گلے میں گلہ کیے بغیر ڈال رہے ہیں پھولوں کے ہار, یہ ہے باضمیر لوگوں کا حال ,غریب کنگال, ریاست نے بچھایا ہوا ہے عجیب جال, وطن سے محبت کرنے والا ہر بار کہلاتا ہے غدار ,یہ ہے , وہ ہیں, وفادار,باقی سب ہیں آئین کے محفاظوں کے سردار, مگر ہیں, یہی ہر جگہ اثر دار ,اس لیے ملک ہے قرض دار ,یہی نعرہ لگاتے ہیں درباروں کے اداکار, ملک بوجھ اٹھا رہا ہے ٹیکس چوروں کا ہر بار, , اگر یہی رہا ,رہدار ملک ترقی کرے گا, خوشحال ہوگا, ہر کوئی سرمایہ دار ہوگا, تعلیم یافتہ بچہ روزگار ہوگا, اگر آئین پاکستان بحال ہوگا-
ہماری کئی نسلیں اپنے ادھورے خواب لیے اس دنیا سے ,اس امید اور توقعات کے ساتھ رخصت ہوئیں کہ ہماری اولادیں
وہ دکھ نہ جیھلیں جو ہم نے مسلسل جیھلے, ہماری آنکھوں کے سامنے سب ہمدردوں کو بے توقیر کیا گیا, اور ہر بار قلم کے ذریعے سر قلم کیا گیا, غلط فیصلوں نے فاصلے اتنے بڑھائے کہ ہم اپنوں سے اپنی باری کی خاطر کسی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مسلسل خطروں سے خطرناک کیھل کا حصہ بنتے گئے کھیل کا حصہ بننے والوں میں اے وطن! سب شامل تھے -
اب اگر عدالت کا قاضی احتساب   میں, بیوروکریٹس ذمہ داری کی حالت میں, سیاست دان عوامی عدالت میں, ملک کا ہر شہری شعوری کی حالت میں ,طاقت ور لوگ خلق خدا کی خدمت میں جواب دہ ہوگا ,تو شہر خموشاں کا ہر مسافر اس دنیا میں صرف مسافت طے کرے گا, مختلف حیلوں اور بہانوں سے عوامی جذبات سے نہیں کھیلے گا جس طرح آج کل کھیل, ولیموں اور تعزیت کے بہانے عام آدمی سے کیھلے جا رہے ہیں, عرصہ دراز سے تکلیف دہ دنیا سے راحت پانے والوں کے مردے, مسلسل حمدوثنا وصول کرنے سے انکاری پائے جاتے ہیں لگتا ہے شاید اخلاص کے سبب خاموش ہیں ورنہ بے مروت ہمدردی کا کسی کو کیا حق تھا, جب حق تھا حگ کرنے نہیں آئے, اب اطمینان بھری, پرسکون نیند سے ندامت کا سبب بننے آئے ہیں,جب حیات تھے,ان کی حیاتی مانگتے رہے, کہ ہماری حیا کا بھرم رکھ کے ہم سے برہم نہ ہوں ہمارے حالات پر, ہمارے زخموں پر مرہم بنو یہ مرہم کی بجائے برہم ہوتے رہے -آج موسم بدل رہا ہے ہمارے محسنوں تیار ہو جاؤ! وطن کا قرض اتارنے کے لیے, ہمارے ظلم کا حساب لینے کے لیے, جھوٹے لوگوں سے چھٹکارہ پانے کے لیے, ہاں ایک بات یاد رکھنا ہم نے جو میراث چھوڑی اس پر صرف تمہارا حق ہے اور حق داروں کا حق ہے ان ظالموں پر خرچ نہ کرو, ہماری خاطر, خاطرمدارت نہ کرو کل کو ہمیں ایسا نہ لگے کہ ہماری دعوت ولیمہ ہورہی ہے, ہماری رخصتی کی تاخیر سے اطلاع پانے والے ہمارے نام پر ہماری اولادوں کے جذبات سے بے رحمی سے کیھل رہے ہیں, اور یہ کیھل ایسا ہے جو ماضی میں ہمارے اور اب تمہارے ساتھ, نہیں معلوم کتنی ذاتوں کے ساتھ ,کتنی نسلوں کے ساتھ یہ کھیل صرف غریب کے ساتھ کیھلا جاتا ہے -
اب وطن عزیز کے ہر عزیز کو چائیے اپنے جیسے ہم جیسوں کا سہارا بنے, ملک کا سہارا بنے ,غیر ضروری لوگوں سے کئی برسوں کی سابقہ فاتحہ وصول نہ کرے, شادی بیاہ کی تقریبات میں ادھار اٹھا کے انہیں اٹھانے بٹھانے سے باز رہے یہ باز پرس نہیں ,پرس شناس ہیں مردم شناس نہیں-

بشکریہ اردو کالمز