خرطوم میں امریکی نمائندہ خصوصی کی گاڑی اور یورپی یونین نمائندہ خصوصی کے گھر پر فائرنگ کے بعد پاکستانی سفار تخانہ پر بھی سوڈانی فوج سے لڑنے والوں نے فائرنگ کی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے ایسا کیا،کیا ہے کہ یورپ اور امریکہ کے بعد پاکستانی سفارت خانے پر حملہ کیا گیا۔خرطوم کی ایک روز دریائے سندھ کے کنارے معروف کالم نگار ہارون الرشید نے اتنی تعریف کی تھی کہ سوچنا پڑا کہ واقعی نیل بھی کوئی اہم دریا ہے وگرنہ سندھ جیسے شیر دریا کے سامنے کسی اور دریا کی کوئی حیثیت نہیں۔
سوڈان کا دار الحکومت خرطوم وائٹ نیل کے سنگم پر واقع ہے۔ اس شہر سے دریائے نیل کی دو شاخیں گزرتی ہیں۔ ایک جو شمال کی سمت سے آرہی ہے یہ وکٹوریہ جھیل سے نکلتی ہے اور دوسری ایتھوپیا کی جھیل تانا سے نکلتی اور مغرب کی طرف خرطوم میں داخل ہوتی ہے۔ شمال والی کو سفید نیل کہتے ہیں اسے نیلا نیل۔ یہیں یہ دونوں دریا آپس میں ملتے ہیں۔ اس جگہ کو المغران کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ شہر دو دریاؤں کے ارد گرد آباد ہے۔ ہارون الرشید نے آج سے کوئی پینتیس سال پہلے دو ہفتے اس شہر میں قیام کیا تھا اور اس شہر سے جی لگا لیا تھا۔ کہتے تھے ویسا امن و عافیت سے بھرا ہوا شہر میں نے کہیں نہیں دیکھا۔ اگرچہ یہ شہر انگریزوں نے آباد کیا تھا۔ انگریزوں کے ساتھ سوڈانیوں کی بڑی خوفناک جنگیں ہوئیں۔ جن کا ایک ایک لمحہ انہوں نے سنبھال کے رکھا ہوا ہے مگر ابھی پچھلے دنوں اس شہر میں سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جس وسیع پیمانے پر لڑائی ہوئی۔ اسے خرطوم نے پہلے نہیں دیکھا۔ خرطوم ایک مختلف نام ہے۔ اسکالرز کا خیال ہے کہ یہ نام ڈنکا الفاظ کھر ٹوم (ڈنکا بور بولی) یا کھیر ٹوم سے ماخوذ ہے، جس کا ترجمہ ’’وہ جگہ جہاں دریا ملتے ہیں‘‘۔ اور اس وقت بھی اس دریا کے چاروں کناروں سے مسلسل فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں۔ جنگ بندی کے باوجو د رات بھر دھماکے شہریوں کو جگائے رکھنے کیلئے کافی ہیں۔ یہ لڑائی سوڈانی فوج اور نیم فوجی عوامی دستوں کے درمیان جاری ہے۔ گیس اور بجلی بند ہیں۔ چراغوں، دئیے اور لیمپوں کا دور واپس آیا ہوا ہے۔ کھانا صرف لکڑیاں جلا کر پک رہا ہے۔ فوج اور عوام میں جنگ ملک و قوم کو تباہی و بربادی کےسوا اور کچھ نہیں دیتی۔ یہ جنگ بھی سیدھے سادے سوڈانیوں پر مسلط کی گئی ہے۔ شہر بھر میں گولے اگلتے ٹینک ہیں۔ جگہ جگہ لاشیں پڑی ہیں، جنہیں دفنانے والوں کے پاس ابھی وقت نہیں۔ یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب فوج نے خوف کی وجہ سے نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کو اہم تنصیبات پر ڈیوٹیوں سے ہٹایا، جس پر نیم فوجی دستوں نے مزاحمت کی۔ سوڈان میں زیادہ تر فوج ہی برسر اقتدار رہی ہے۔ سوڈانی فوج کے سربراہ جنر ل عبدالفتح البرہان ملک کے ڈی فیکٹو حاکم تھے۔
اس وقت صورتحال ویسی ہی ہے۔ سوڈانی فوجیوں اور عوامی دستوں کے درمیان جنگ بندی کی ایک نئی کوشش اب تک ناکام ہو چکی ہے، جس سے خوراک میں کمی اور ضروری طبی خدمات کی فراہمی پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ اپنے شہریوں کو نکالنے کی کوشش کرنے والے ممالک کی طرف سے جنگ بندی کی لابنگ کی گئی، مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجےجنگ بندی ہونی تھی کہ غیر ملکی ائیر پورٹ تک پہنچائے جا سکیں مگر ایسا نہ ہو سکا۔ جنگ بندی اسلئے ممکن نہیں ہو پا رہی کہ کوئی بھی دوسرے پر اعتماد نہیں کر رہا۔ کل دن بھر وسطی خرطوم میں فوجی ہیڈ کوارٹر کے احاطے کے ارد گرد مسلسل بمباری کی آوازیں سنی جاتی رہیں- جہاں سوڈان کے فوجی حکمراں، جنرل عبدالفتاح البرہان چند دن پہلے تک موجود تھے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا وہ اب بھی وہاں موجود ہیں یا نہیں۔ دوسری طرف مغربی خرطوم کے جبرا محلے میں فائرنگ کا ایک اور زبردست تبادلہ ہوا، جہاں محمد حمدان دگالو، جوہمدتی کے نام سے جانا جاتا ہے، ان کے خاندان کی قیام گاہیں ہیں۔ سوڈانی فوج کے خلاف لڑنے والی عوامی فورسز اس کی تیار کردہ ہیں اور اسی کی کمانڈ میں لڑ رہی ہیں۔ افریقہ کے چند بڑے شہروں میں سے ایک شہر کی سڑکیں ویران پڑی ہیں، تقریباً 5.5 ملین افراد پر مشتمل یہ شہر بڑی حد تک خالی ہو چکا ہے۔کہتے ہیں سوڈان پر یہ جنگ باہر سے مسلط کی گئی ہے۔ دنیا کی ایک بڑی انٹیلی جنس ایجنسی نے سوڈان میں دو ہزار تیئس میں خانہ جنگی کا پلان بنایا ہوا تھا جس میں وہ کامیاب رہی۔ پاکستان میں دو ہزار پندرہ تک خانہ جنگی کا ایک پلان تھا جسے اللہ کے فضل و کرم سے پاکستانی افواج نے ناکام بنا دیا تھا۔ اطلاعات یہی ہیں کہ پلاننگ کرنے والوں نے اس میں دس سال کا اور اضافہ کیا۔ اب نئی پلاننگ کے تحت پاکستان میں خانہ جنگی دو ہزار پچیس تک ہونی ہے۔ جس کیلئے بہت سی غیر ملکی قوتیں اپنے کاموں میں لگی ہوئی ہیں مگر یہ ستائیس رمضان المبارک کی رات وجود میں آنے والا ملک جتنا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا تھا ہو چکا۔ مجھے ایک فقیر نے کہا تھا یہ ملک شبِ قدر کی عطا ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر بتائی گئی ہے۔