تمام انسان آدم اور حوا کی اولاد ہیں ، اس لئے سب کا رحم مشترکہ ھے ، جو ایمان لائے آدم کے رب پر ان سے اللہ تعالیٰ سب سے بڑا تقاضا کرتا ہے وہ تقاضا ھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور صبر اور استقامت کا ،یہ ایسا عمل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ڈر کا مطلب سمجھیں وہ آسان الفاظ میں یہ کہ ھم اس کے احکامات آگے سر تسلیم خم کریں اور تکبر وغرور سے بچ کر سیدھے راستے کا انتخاب کریں ، دوسرا عمل صبر و استقامت کا ھے ، اس کے بغیر کامیابی ھمارے ھاتھ نہیں آئے گی ، انسان کو اللہ تعالیٰ نے جن خوبیوں سے نوازا ہے ان میں سوچ و تدبر بڑی نعمت ہے ، جس کے بل بوتے پر ھم فیصلہ کرتے اور پھر اس پر قائم رہتے ہیں ، بطور فرد ، معاشرہ اور حکومت و ریاست ،جس نے صبر و استقامت کا دامن چھوڑا وہ بھول بھلیوں میں کھو گیا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنیاد پر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا ، پھر فتح مکہ تک اسی استقامت کو برقرار رکھ کر اسلامی معاشرے اور حکومت کی بنیاد ڈالی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کتنی مشکلیں آئیں ، قطع تعلقی ، جنگ و جدل ، ہجرت اور اپنوں کے ظلم و ستم مگر کبھی صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ، ھم بطور فرد جائزہ لیں یا بطور معاشرہ اور حکومت اسی عمل کی بنیاد پر اسلامی معاشرہ اور حکومت تشکیل اور تسلسل پا سکتی ہے ، آج ھم عالمی سطح پر مسلم معاشرے ، حکومت اور افراد کا جائزہ لیں تو ایک بے ھنگم ھجوم کبھی دائیں نکل جاتا ہے کبھی بائیں کسی ایک جگہ پر نہیں ٹھہرتا ، پاکستان میں ھم آج تک اسی بحث میں الجھے ہیں کہ قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے ؟ ایک آتا ہے اس کی سمت بنیاد پرستی کی طرف موڑ دیتا ہے دوسرا آتا ہے وہ روشن خیالی کے نام پر معاشرے کو تیس نیس کر دیتا ہے ، ھم جنرل پرویز مشرف کے دور میں بڑی تیزی سے پرچار کرتے پھرتے تھے کہ بمباری سے روشن خیالی پھیلتی ہے ، وہ اٹھ سال گزار کر گئے تو ھم پھر کسی اور طرف نکل گئے ، یہ سفر ھم 76 سال سے طے کر رہے ہیں مگر کچھ سال کے بعد واپس وہیں ھوتے ہیں ، اگرچیکہ کے اس کی بنیادی وجوہات کمزور معاشرہ ھے مگر ھماری سیاست اور مفادات نے کسی ایک راستے پر لوگوں کو چلنے نہیں دیا ، اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف تو دور کی بات ھو گئی ھم نے طاقت ور ملکوں کا خوف پال لیا ، وہ امریکہ ہو ، اسرائیل یا بھارت خوف نے حکومتوں کو معاشرے اور عوام سے اتنا دور کر دیا کہ علاقائی اور گروہی سوچ تک تقسیم کر دیا ، یہی تو دشمن کا منصوبہ تھا جس کو ھم نے قبول کر لیا ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اے ایمان والو ،اللہ سے ڈرو ، صبر و استقامت اختیار کرو اور آپس میں جڑے رہو اور جب دشمن سامنے ھو تو مل کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاؤ ، فتح تمھاری ھوگی ، یہاں مالیاتی پالیسی بنے یا سیاسی و سماجی ایک آتا ہے کوئی قانون منظور کرواتا ہے دوسرا اس کو ختم کر کے اپنے فائدے کے لیے نیا لے آتا ہے ، یہ وجہ ہے کہ معاشی استحکام کبھی نہیں آیا ، اور ملک نازک دور سے گزر رہا ھوتا ھے ، تعلیمی نصاب اور نظام کے ساتھ بھی یہ حشر ھے ، اول دن سے تعلیم کو اہمیت ہی نہیں دی گئی ، اور آج تک وہی سلسلہ ظلمت جاری ہے ، کبھی ٹیکسٹائل والے روتے پھرتے ہیں اور کبھی مزدور اور کسان ، چونکہ کسی پالیسی کو استحکام نہیں ھے ، ایک بندا فیکٹری لگانے کی پوری منصوبہ بندی کرتا ہے ، اسے آسانی اور تیز رفتار معاونت دینی چاہئے ، مگر نہیں جس قانون کے تحت اس نے سب کچھ کیا ھوتا ھے جب وہ عمل پہ پہنچتا ہے اسے پتہ لگتا ہے کہ یہ قانون ھی ختم ہو گیا ، بدقسمتی یہ ہے کہ یہ زیادہ تر مسلم ممالک میں ھے اور پاکستان میں سب سے زیادہ ھے ، ھم کیوں ایسے ہیں ، خارجہ ، داخلہ سمیت تمام پالیساں راتوں رات بنتی اور بدلتی ہیں ، آپ امریکہ کو دیکھیں غیر ملکی باشندوں کے قوانین بنانے میں اتنا عرصہ بحث چلتی رہی ، پھر جا کر قانون بنا جو سال ہا سال جاری رہا ، جب ضرورت محسوس ھوئی پھر اس پر طویل کام ھوا ، برطانیہ میں برگزٹ کو دیکھیں دو وزیراعظم گئے ، حکومتیں بدلیں مگر آخر عوام کے فیصلے کو ماننا پڑا ، کیا ثابت قدمی و استقامت ھمارا مقصد ھونا چاھئے تھا کہ ان کا؟ ، یہاں تو ھماری ساری تعلیماتِ قرآن کا محور و مرکز استقامت اور ثابت قدمی ہی ھے ، فطرت نے اس میں ایسی خوبی رکھی ہے کہ کہتے ہیں کہ کسی غلط کام پر بھی استقامت اور ثابت قدم رہنے والوں کو بھی نتائج مل جاتے ہیں تو کیا اچھائی کے لیے ثابت قدم رہنا ، سماج کو بہتر نہیں کرے گا ؟ ضرور کرے گا ، ھم صبر و استقامت اور ثابت قدمی اختیار تو کریں نتائج حیران کن ھوں گے.
248