نوشی گیلانی صاحبہ کا یہ شعر
"تیری خوشبو نہیں ملتی، ترا لہجہ نہیں ملتا
ہمیں تو شہر میں کوئی تیرے جیسا نہیں ملتا"
میری زندگی میں ایک بہت خاص مقام اور ایک خاص معطر تعلق رکھتا ہے۔۔۔لیکن آج اس عنوان کی تشریح قدرے مختلف بلکہ سائنسی ہے۔۔
انسان کو اللہ کریم نے عجیب خواص سے نوازا ہے۔۔ آج سے بہت سال قبل ابھی میں نے نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا ۔ تو نوجوانی کا تقاضہ تھا کہ ایک قریبی جگہ نین مٹکا شروع ہونے لگا۔۔ چونکہ ناتجربہ کاری تھی یا والد کی تجربہ کاری ، میرے والد صاحب نے مجھے ایک دن یونہی گاڑی چلاتے ہوئے کہا، بیٹا!!! ہر انسان کو اللہ نے ایک خوشبو عطا کی ہے۔۔ جس سے اس کے چاہنے والے یا جنہیں وہ چاہتا ہے محسوس کرتے اور تسکین پاتے ہیں۔۔۔ یہ جو لوگ ہر جگہ منہ مارتے ہیں یا لوگوں کو دھوکہ دینے کی عادت ہوتی ہے ۔ ان کی یہ خوشبو کھو جاتی ہے۔۔ بالکل ایسے ہی جیسے عطر یا پرفیوم کی بوتل خالی ہو جائے تو کچھ عرصہ بعد وہ بہت زور لگانے پر بھی خوشبو نہیں دیتی۔۔ تو بیٹا!! غیرت مند مرد کی خوشبو پر لوگ اعتبار کرتے ہیں۔۔ انسان بن جاو ،مرد بنو اور اپنی خوشبو کو اعتماد کے لئے سنبھال کر رکھو۔۔
یقین جانیں یہ باتیں بہت بورنگ تھیں اس مجھ سے بھی کمسن حسینہ کے مقابلے میں۔۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے صرف باتیں یاد رہیں۔۔ کرتوت مثالی بنتے گئے۔۔
بہت سالوں بعد ایک مشہور زمانہ فلم Scent of a Woman جو 1992 میں ریلیز ہوئی دیکھی تو ایک بار پھر سے وہ باتیں یاد آئیں جو والد محترم نے فرمائیں تھیں۔۔ جستجو پیدا ہوئی کہ یہ بات ڈھونڈی جائے کہ یہ انسانی پرفیوم کیا ہے۔۔ تب علم ہوا کہ یہ پسینہ کی بو نہیں ۔۔ بلکہ یہ جب کسی سے تعلق گہرا ہو تو اس کی ایک مخصوص خوشبو آپ کے ذہن کو معطر کر دیتی ہے۔۔ جیسے والدہ یا والد ،اولاد کو ان کی ایک خوشبو یاد رہتی ہے۔۔ اسی طرح جب انسان کسی خاتون یا کوئی خاتون کسی مرد سے بے پناہ پیار کرے تو وہ ایک دوسرے کا لمس اور خوشبو محسوس کرتے ہیں۔ نیک مرد و خواتین اپنی معشوق کی غیر موجودگی میں ان کے ہاتھوں کی لمس جو کسی رومال میں ہوتی سونگھتے اور روتے ،یا کبھی کبھار ان کے کپڑے سونگھتے اور آہیں بھرتے یہ وہ زمانہ تھا جب حلال عشق یعنی منکوحہ سے تعلق ہوا کرتا تھا۔۔ جو ہمارے زمانے تک مفقود ہو گیا تھا۔۔ میرے ذہن کو جھنجھوڑنے والی ہیجان انگیز اور ذہنی مریض قاتل کی فلم
Perfume: The Story of a Murderer
جو کہ شائد 2006 میں ریلیز ہوئی تھی۔۔ اس فلم نے مجھے پھر سے تحقیق کرنے کی دعوت دی اس وقت تک تحقیق آسان ہو چکی تھی اور نیٹ آسانی سے میسر تھا۔۔ اور دوسرا میں 5 سالہ ایک کامیاب شادی کے دور سے گزر رہا تھا لہذا بہت سی باتوں کا ادراک ہو چکا تھا ۔۔
یہ پتہ چلا کہ ایک چیز جسے Body scent کہا جاتا ہے۔ اسے pheromones کے کیمیکل نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک ہارمون جسے oxytocin کانام دیا گیا ہے اسے love hormones بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں صورتوں میں آپ کا پیار بڑھاتا ہے چاہے یہ پیار اور تعلق جنسی ہو یا روحانی۔( والدین ،اولاد یا بزرگ)
اس خوشبو یا body scent کی وجہ سے آپ اپنے پیاروں سے جڑتے ہیں ۔۔ اسی لئے تو قتیل شفائی بولے
"تجھ کو چھو لوںتو پھر اے جانِ تمنا مجھ کو
دیر تک اپنے بدن سے تری خوشبو آئے"
دوسری چیز جسے Body Odor یا پسینے کی بو کہا جاتا ہے۔ یہ مختلف حالات و واقعات میں اپنی بو اور مزاج تبدیل کرتا ہے۔۔ اگر آپ محنت مشقت کر رہے ہیں تو اس کی بو فرق ہو گی۔۔ اگر کسی سے محبت ہو رہی ہے تو فرق ۔۔ لیکن اگر کسی کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ یا جھوٹ بول رہے ہیں ۔ یا کچھ غلط کرتے پکڑے جانے کا ڈر ہے یا کسی جگہ اجنبی ہیں اور خوف کا احساس ہے یا پکڑے جانے کا خوف تو اس پسینے کی بدبو نا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔
تب مجھے سمجھ آئی کہ میرے والد کے کہنے کا کیا مطلب تھا۔۔ جیسے جیسے ہم فلرٹ، جنسی درندے ،یا مرد جو خواتین کے دلدادہ ہیں یاخواتین جو دیگر اشغال رکھتی ہیں ۔۔تب ان میں جذبات کی کمی ہوتی جاتی ہے۔ جس سے ان کا love hormone طاقتور نہیں رہتا۔ اور اس کی جگہ ان کو اپنی مخصوص اداوں سے کام لینا پڑتا ہے۔۔ چونکہ یہ چاہے مرد ہو یا خاتون ایک شکاری جال پھیلا کر جنس مخالف کو راغب کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا اس وقت یہ اپنے پرانے تجربات،ندامت پکڑے جانے کے ڈر سے بھی گزر رہے ہوتے ہیں لہذا اس وقت ان کا جسم body scent کی بجائے body odor جاری کر رہا ہوتا ہے جس کی بدبو کبھی پیاز یا اس ملتی جلتی جو ناقابل برداشت ہوتی ہے۔۔
لہذا اسے چھپانے کے لئے فلرٹ مرد و خواتین مختلف قسم کے پرفیومز اور اداوں کا سہارا لیتے ہیں جنہیں انہی مخصوص مقامات پر یا ان کے قریب لگایا جاتا ہے جہاں کبھی شدت جذبات اور حقیقی محبت کے وقت آپ کا body scent معطر کیا کرتا تھا۔۔ اس لئے یہ فلرٹ عاشقی معشوقی کرنے والے مصنوعی تعلق کے باعث جلد ایک دوسرے سے بےزار ہو کر نیا شکار ڈھونڈتے ہیں تاکہ جذبات کی سردمہری ختم ہو اور پھر سے گرمئی جذبات انہیں کچھ عرصہ خوشبودار بنائے۔۔ لیکن در حقیقت یہ اپنا body scent اپنے پارٹنر کے لئے ختم کر چکے ہوتے ہیں ۔۔اور بہت زبردستی کر کے بھی ان سے بس صرف پرفیوم کی خالی بوتلوں جتنی خوشبو نکلتی ہے جو دو یا چار ماہ حتکہ ایک سال میں بالکل ختم ہو جاتی ہے۔۔ لیکن یہی لوگ اپنی اولاد اور ان قریبی رشتوں جن سے بے لوث محبت ہو وہاں ان کی یہ خوشبو برقرار رہتی ہے۔اپنے life partner میں اپنے جسمانی عطر کے کھو جانے کی وجہ سے دور ہوتے جاتے ہیں پھر دونوں طرف جس کی وفاء زیادہ ہو اس کا body scent دوسرے بدکار ساتھی کو کھینچے رکھتا ہے۔۔
یہ لوگ "مرد و زن " بہت جلد اور تعلقات کی تبدیلیوں کی وجہ سے ذہنی بیماریوں ،جذباتی تناو، سائیکالوجییکل مسائل کا شکار ہوتے جاتے ہیں اور اگر ان کے یہ anxiety اور اسٹریس ناقابل برداشت ہو جائے تو یا تو یہ ذہنی بیماریوں یا پھر خودکشی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔۔ کیونکہ ان میںlove hormone بننا یا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔۔ ان کی مثال ایک روبورٹ کی ہو جاتی ہے۔ جو اداکاری کرتے ہوئے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یا انتہائی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔ اور اس کی سزا کے طور پر ان کا جسم ان کی وہ خوشبو بھی کھینچ لیتا ہے جو ان کے پیاروں کے لئے ہوتی ہے۔۔ یہ body scent یا body odor سمجھنے کی حس انسانوں سے زیادہ جانوروں میں ہوتی ہے، اس لئے وہ شکاری اور دوست کو دور سے پہچان جاتے ہیں ۔۔جبکہ انسان یا تو جان کر شکار ہو تے ہیں یا قدرت کے عطیہ کردہ حسیات کے بے ڈھنگے استعمال سے نقصان اٹھاتے ہیں۔۔
مذہب میں طلاق کے بعد 4 ماہ دس دن عدت کے اندر بہت سے راز پنہاں ہیں۔۔ یہ وقفہ سادہ ترین طور پر تو واضح حمل کے لئے سوچا جاتا ہے۔۔ لیکن 90 دن بعد انسانی جسم مکمل طور پر تبدیل ہو جاتا ہے ۔ اگر اسے اس restart پر دوبارہ سے وہی لوگ اور پیارے میسر ہوں تو وہ خوشبو دوبارہ install ہو جاتی ہے اور شدت حاصل کر لیتے ہے کیونکہ اب اسے یادداشت nostalgia کا سہارا بھی حاصل ہوتا ہے .. جو ہمیں اور ہمارے تعلق کو مزید تقویت دیتا ہے۔۔لیکن اگر آپ اپنے پارٹنر سے الگ ہو گئے ہیں تو جسم اپنے کیمیکل reset میں ان تعلقات کو صرف یادداشت تک محدود کر دیتا ہے اور جسم کسی دوسرے فرد کو قبول کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔۔
یاد رہے۔۔ بدکار اور وفادار اپنی بو سے پہچانا جاتا ہے۔۔ جیسے عطر فروش کی دکان اور لوہار کی دکان۔۔۔
مدینہ منورہ میں آقاﷺ کے دور میں کوئی ڈیڑھ لاکھ صحابہ کرام کا آنا جانا رہتا تھا۔۔ لیکن سب کو اپنے آقاﷺ سے عشق تھا۔۔ لہذا ہر وہ گلی جس سے آقاﷺ گزر جاتے وہ گواہ ہوتی کہ حضورنبی کریمﷺ یہاں سے تشریف لے گئے ہیں۔۔ اور آپ کریمﷺ کا جسم پاک اتنا خالص تھا کہ آپ کے پسینہ مبارک کو بطور عطر استعمال کیا جاتا۔۔ یعنی آپ کریمﷺکے Body Odor بھی اعلی ترین خوشبو سے بھی زیادہ خوشبودار ہے۔ کیوں نہ ہو کہ جنت کو خوشبو آپ کریمﷺکے طفیل نصیب ہے۔۔