عوام کی شدید خواہش ہے کہ ہمارے ارباب اختیار بھی برطانیہ، امریکہ کی طرح حکمرانی کرتے ہوئے باعزت طور پر مسند اقتدار سے الگ ہوںاور اپنے پیچھے وہ کہانیا ں نہ چھوڑ جائیں جسکی بدولت انکی سبکی ہو اور عوام کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے، ہم یہ سنتے کہ امریکی صدر نے اقتدار سے الگ ہوکر کسی ریستوران میں ملازمت اختیار کرلی ہے، روزگار کے لئے جامعات میں لیکچر دینے شروع کر دیئے ہیں، روزی کمانے کے لئے یاداشتوں پر مبنی کتاب تحریر کر رہے ہیں، انکے زیر استعمال اب بھی پرانے ماڈل کی کار ہے ،بچوں کی فیس کی ادائیگی کے لئے انھیں سخت محنت کرنا پڑی ہے۔ اپنے عہد اقتدار میں اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لئے انھوں نے نہ تواپنے وطن میں جائیداووں کی ایک سیریز لواحقین کے لئے چھوڑی نہ ہی انکو بیرون ملک پراپرٹی بنانے کا خیال ان کے دل میں آیا، نہ ہی یہ بڑے بڑے محلات میں رہنے کے خبط میں وہ مبتلا ہیں ، مسلم بادشاہوں کے شاہانہ طرز زندگی کو دیکھ کر انکے دل میں ایسا لائف سٹائل اپنانے کی بھی خواہش پیدا نہیں ہوئی، نہ ہی انکی اولادوں نے شہزادوں اور شہزادیوں کی طرح رہنے پر اصرار کیا ہے۔ انکی پارلیمنٹ نے بھی انکی خدمات کے اعتراف میں غیر ضروری مراعات بل منظور کرنے کی زحمت نہیں کی، انھیں وہ مالی سہولیات بھی میسر نہیں جو ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک کی اشرافیہ کا مقدر ہے۔ اقتدرا میں آنے سے پہلے یہ کوئی بیانہ جاری نہیں کرتے ، نہ ہی الزامات کا پنڈورہ بکس کھولتے ہیں، آئین اور قانون کے راستہ پر چلتے ہوئے ،اپنی آئینی مدت پوری کرتے ہیں، تاریخ کا یہ بھی سبق ہے جب کبھی لا قانونیت کے مرتکب ہوئے، پارلیمنٹ نے ان کا محاسبہ کیا تو انھوں نے مستعفی ہونا پسند کیا اور اس باب کو ہمیشہ کے لئے بند کردیا، میڈیا نے ان کا اگر ٹرائل کیا بھی تو انھوں نے کھلے بندوں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا۔ زیادہ تر حکمران جب رخصت ہوئے تو انکے دامن پر بدعنوانی کا کوئی دھبہ نہیں تھا، عدالتوں میں انکی کرپشن کے مقدمات زیر سماعت نہیں ہیں،ہٹو بچو، پکڑو، بھاگو جیسی بے چینی اور خفت سے یہ آزاد ہیں،نہ تو عدلیہ کو ان کے مقدمات کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے نہ ہی انتظامیہ کے لئے سابق حکمران درد سر بنے ہوئے ہیں، ان اداروں کی ساری توجہ عوام کو ریلیف دینے پر ہے لیکن دکھ اس بات کاہے کہ ایسے حکمرانوں میں سے کسی ایک کا تعلق بھی اسلامی ریاست سے نہیں ہے۔ تاریخ کا ورق پلٹئے تو ہمیں اس پائے کا ایک ہی منفرد با اصول سیاسی راہنما ء نظر آتا ہے ، وہ محترم ہستی بانی پاکستان کی ہے، اس کے بعدہماری سرزمین پر بدعنوانیوں کی وہ فصل تیار ہوئی ،اختیارات کا ایسا ناجائز استعمال ہوا کہ اب تلک ظلم بچے جن رہا ہے۔ روٹی، کپڑا، مکان کے بیانیہ سے شروع ہونے والا سفرایشین ٹائیگر سے مسافت کرتا ہوا ووٹ کو عزت دو تک آن پہنچا ہے، اس دوران'' تبدیلی ''کا ایسا چکمہ دیا گیا جس کے سراب سے لوگ تاحال نکلنے میں ناکام ہیں،یہ بیانئے نہ تو عوام کی حالت بدل سکے نہ ہی عالمی سطح پر اس ریاست کی قدرو منزلت میں اضافہ کا باعث بن سکے ہیں۔ سیاسی نورا کشتی نے ماحول کو پراگندہ کر دیا ہے کہ ادارے ایک دوسرے کے سامنے آکھڑے ہوئے ہیں، منفی پروپیگنڈہ اس انداز میں پھیلا یا گیا ہے کہ محبت کو نفرت میں بدل دیا گیا ہے، نسل نو کی ایسی برین واشنگ کی گئی ہے کہ اس نے قومی اداروں پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ بد عنوانی پر مشتمل لمبی داستانیں عالمی میڈیا میں زیر گردش ہیں، یہ معاملہ سیاسی شخصیات تک محدود نہیں ہے، ایسی فہرست میں چند پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں، جن کا جینا مرنا اس ریاست سے ہونا چاہئے تھا لیکن وہ ملازمتوں سے الگ ہوتے اس سر زمین کو الوداع کہہ گئے ہیں ، انھیں دیکھ کر مایوسی کے اس عالم میں سماج کا پڑھا لکھا طبقہ اِن معاشروں میں ہجرت پر مجبور ہوا ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہے، ریاست وہاں کے شہریوں کے لئے ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ پردیس میں جانے والے اپنے ملک کے لئے فکر مند ہیں، اس لئے بھی انھیں غیر مسلم معاشرو ں میں ایسا کوئی حکمران نہیں ملتا جس نے قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ کے بعد اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لئے دوہری شہریت لینے کو لازمی خیال کیا ہو، بے ورزگاری کے سمندر میں غوطہ زن نوجوان کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں،بے چینی اضطراب کی کیفیت کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے، ہمارا مزاج ہے کہ ہم اپنی ناکا میوں کا ملبہ دوسروں پر ڈال کر دل کو تسلی دے لیتے ہیں، بد قسمتی سے یہ روش ہر قومی ادارہ میں ہے۔الزام تراشی کی ہر دو صورتوں میں قربانی کا بکر ا عوام ہی کو بننا پڑا ہے ۔ دستیاب حالات میں ہر ادارہ سے عوام کا اعتماد اٹھ رہا ہے، جو عزت و احترام کا رشتہ تھا اس میں عوامی سطح پر کمی محسوس کی جارہی ہے،اس نا خوش گوار صورت حال کے لئے کسے منصف اور مجرم سمجھا جائے ؟ چھوٹی ریاستو ں کی بہترین معاشی ترقی عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے،کہ کوئی تو انکی پسماندگی کا ذمہ دار ہے، مگر ہمیں مغربی سماج جیسی مقتدر کلاس کہاں میسر ہے جو ڈنکے کی چوٹ پر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگے اور ترقی کے نئے سفر کا آغاز کرے۔ نامساعد حالات میں سابق وزیر اعظم جلا وطنی ختم کرکے وطن لوٹ رہے ہیں، بڑے احتساب سے انھوں نے ''یوٹرن ''لیا ہے ان شخصیات کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے جنہوں نے ان کے خلاف سازش کرتے ہوئے ،انھیں اقتدار سے محروم کیا بلکہ نااہل بھی کروایا ۔کہا جارہا ہے عوامی خطاب کے موقع پر سیاسی قائد نیا بیانیہ دیں گے خواہش ہے کہ وہ'' عوامی بیانیہ'' پر کان دھریں ،ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کی طرح ڈالیں، تاریخ سنہری حروف میں انھیں یاد رکھے،ہمیں اعتراف ہے کہ انھیں کبھی پارلیمانی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن انھیں بھی اپنی ادائوں پر غور کرنا پڑے گا۔ پارلیمنٹ کی بالا دستی ہی سے'' سول سپر میسی ''ممکن ہے،یہ خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہوگا جب قومی مفادات کو ذاتی سے زیادہ عزیزرکھا جائے، با صول سیاست کی جائے گی،خدا کرے میاں جی عوامی جلسہ میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے وہ بیانیہ پیش کریں جس کا راستہ قومی ترقی کی طرف جاتا ہو۔یہی عوامی بیانیہ ہے۔
372