واپڈا۔ سفید ہاتھی 308

 واپڈا۔ سفید ہاتھی

         ۔
واپڈا کی انتظامیہ کوکیا علم کہ اس بچے کی ذہنی حالت کیا ہوگی، وہ کس کرب سے گذر رہا ہو گا، جس کی والدہ بسترمرگ پر درد سے کراہ رہی ہوگی، جس کا واحد علاج آپریشن تھا، مگر بجلی کے طویل بریک ڈاون کے باعث ڈاکٹربھی اس کی زندگی نہ بچا سکے ،اس مزدور کی کیا کیفیت ہوگی جو صنعت کے بند ہونے پراس گرانی میں خالی ہاتھ گھر کو لوٹ گیا۔ اُس کسان سے تو پوچھیں جو کسی سے ٹیوب ویل کا پانی خرید کر لگانے کی امیُد پر بجلی کا منتظر رہا کہ اسکی فصل خشک اور ضائع ہونے سے محفوظ رہے، اس طالب علم کا کیا حال ہو گا،جو امتحان کی تیاری کے لئے بیٹھ کر بجلی کا منتظر رہا ،اُس امیدوار کے دل پر کیا گذری ہو گی جو ملازمت کے حصول کیلئے ٹسٹ کی تیاری میں بجلی کی راہ دیکھتا رہا،شادیوں کے اس موسم میںٹیلر کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی،جو وعدہ ہی وفا نہ کر سکا۔
 یہ پتھر کا زمانہ نہیں،انفارمیشن ٹیکنالوجی کا عہد ہے ،اب تو ہرخوشی، غم بھی توانائی کے ساتھ منسلک ہیں، مہمانوں کی خاطر تواضع کے علاوہ مردے کے کفن دفن کے لئے بھی پانی درکار ہے بغیر بجلی اس کا حصول مشکل نہ سہی ناممکن ضرور ہے۔
 بجلی کے بریک ڈاون پر ادارہ کی نااہلی پر سوالات اٹھتے رہے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ہاوسز کو چلانے میں غفلت اور عجلت کا مظاہرہ کیا گیا جس کی وجہ سے فریکیوئنسی میں کمی بیشی ہوئی جو بریک ڈاون کی و جہ بنی، واپڈا کے انجینئرزکی یہ حماقت قوم کو سوا ارب کے نقصان میں پڑی ہے، کہا جاتا ہے کہ بریک ڈاون کا ایک ماہ میں دوسرا واقعہ ہے جبکہ2014 سے نویں بار بریک ڈاون کی اذیت عوام کو برداشت کر نا پڑی ہے۔ جب پورا ملک بجلی جیسی نعمت سے محروم رہا۔بعض ناقدین کا ماننا ہے کہ بجلی کی کم پیداوار سے بریک ڈاون ہوا ہے۔
توانائی کے وزیر نے اس سانحہ میں بیرونی ہاتھ کی مداخلت کا عندیہ بھی دیا ہے کہ انٹرنیٹ کی مدد سے بریک ڈاون کیا گیا، وزیر اعظم نے اس کا جائزہ لینے کے لئے تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے، تاہم اس میں کوئی دورائے نہیں کہ دیگر قومی اداروں کی طرح یہ شعبہ بھی زوال پذیر ہے۔
نیشل الیکٹرک پاور ریگولر اتھارٹی ''نیپرا''نے گذشتہ سال کی سالانہ رپورٹ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کا پول کھول دیا ہے، انہوں نے2021-2022 میں 292ارب کا نقصان قومی خزانہ کو پہنچایا ہے،170ارب کی کم وصولیاں کی ہیں، لائن لاسز اس کے علاوہ ہیں، کرنٹ لگنے سے 196قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں جو گذشتہ سال کے مقابلہ میں17فیصد زیادہ ہیں،رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ان کمپنیز کو صوبہ جات کے حوالہ کر دیا جائے۔
 زمینی حقائق یہ ہیں کہ پن بجلی کی پیداوار میں 90 فیصد کمی ہوئی ہے،بارہ سے زائد پاور پلانٹس فنی خرابی کی بدولت بند ہیں، نیلم جہلم پاور پر جیکٹ فنی خرابی کی بدولت آٹھ ماہ سے بند ہے،عوامی سطح پر یہ تاثر قائم ہے کہ بدعنوانی میں اس محکمہ کا اب کوئی ثانی نہیں ہے،اس کے ملازمین کی دلچسپیاں اب ہاوسنگ سوسائٹیاں بنانے میں ہے،المیہ یہ کہ وہاں کے انتظامی امور بھی صاف شفاف نہیں ہیں،بدعنوانی کی داستانیں زد عام ہیں،جن شہروں میںواپڈا ٹاونز موجود ہیں وہاں کے روح رواں اینٹی کرپشن کی یاترا کر کے آئے ہیں بدعنوانی کے الزامات میں نیب میں پیش ہونے کی سعادت تو چیرمین واپڈا کے حصہ میں بھی آئی ہے۔
بجلی چوری کروانے، ریڈنگ پیچھے کرکے اپنی جیب کو گرم رکھنے کی مشق تو ہر اہلکار کرتا رہتا ہے،اگر نیب کی بشرف نگاہ ان کے ملازمین کے اثاثوں کی طرف اٹھے توچشم کشا انکشافات منظر عام پر آئیں گے،بڑی بڑی مارکیٹوں میں شارٹ سرکٹ  کے واقعات کی وجہ وہ گچھا نما بجلی کی تاریں ہیں جو ہر شہری کو بھرے بازار موت کی دعوت دیتی پھرتی ہیں، غیر محکمانہ منافع بخش سرگرمیوں میں مشغول اہلکاروں کے پاس انکی اصلاح کی منصوبہ بندی کا کوئی وقت نہیں ہے۔
بدقسمتی سے دیہی علاقہ جات میں اگر بجلی کا ٹرانسفامر خراب ہو جائے تو عوام اپنی جیب سے چندہ جمع کر کے اسکی مرمت کرواتے ہیں، جبکہ یہ ذمہ داری واپڈا کی ہے،اس شعبہ کی انتظامیہ کے اخلاص کا یہ عالم ہے کہ 75 سال کا طویل دورانیہ گذرنے کے باوجود  قریباً ہر شہر میںسب ڈویژن آفیسرز کے دفاتر کرایہ کی بلڈنگ میں ہیں، سرکارکرایہ کی مد میں اب تلک ارب ہا روپیہ خرچ چکی ہے حالانکہ اس سے نصف رقم میں سرکاری دفاتر بن جاتے تو محکمہ کا اثاثہ ہوتے، مگر اس ''کار خیر'' میں کسی کی دلچسپی نہیں ہے۔
واپڈا ذرائع کا کہنا ہے کہ پری پیڈ کارڈ  برائے بل بجلی کی سکیم تعارف کروانے کی غرض سے محکمہ کی بیوروکریسی نے کام شروع کیا تاکہ بجلی چوری روکی جا سکے،مگر یہ سوچ کر بند کر دیا کہ اس سے ملازمین کی خاطر خواہ تعداد ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے گی، عملہ میں خاطر خواہ کمی ہو جائے گی اس پر مزید کام بند کردیا گیا یہ منصوبہ عوام اور قوم کے وسیع تر مفاد میں تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹراسمیشن لائن کی اپ گریڈیشن پر کوئی توجہ نہیں دی گئی،کسی ایک لائین میں خرابی سے پورے ملک میں بریک ڈاون ہو جاتا ہے، گڈو، مظفرگرھ، تربیلا ہی وہ مراکز ہیں جہاں سے خرابی کا آغاز ہو تا ہے۔
ترسیل اور پیداواری نظام میں کوئی ربط نہیں ہے،کچی آبادیاں جہاں غیر قانونی طور پر لوگ آباد ہیں وہاں بھی محکمہ کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور انکے بل ملازمین کی مٹھی میں جاتے ہیں، بعض علا قہ جات سے بلوں کی وصولی کی شرح حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ اس کا بوجھ دوسرے صارفین پر ڈالا جاتا ہے اس لئے آمدن اور اخراجات میں توازن نہیں پایا جاتا ہے، ماضی کی حکومتوں کے پرائیویٹ کمپنیز کے ساتھ معاہدے بھی وبال جان ہیں، لوڈشیڈنگ اس لئے بھی لازمی خیال کی جاتی ہے کہ بجلی بلوں کے پیش نظر مہنگے پلانٹس بند رکھنے پڑتے ہیں۔باوجود اس کے سردیوں میں بجلی کی کھپت کم ہوتی ہے۔
ہمارے مقابلہ میں بھارت نے توانائی کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنایا ہے قریباً ہر دیہات میں بجلی فراہم کی ہے، اس نے'' ایک ملک، ایک گرڈ ایک فریکیوئنسی ''کا ٹارگٹ حاصل کیا ہے، سولولر انرجی کی صلاحیت میںانڈیا نے 15فیصد اضافہ کیا ہے، وہ لوگ واقعی قابل تحسین تھے جنہوں تربیلا اور منگلا ڈیم بنانے اور چلانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، مگر اب یہ محکمہ'' سفید ہاتھی ''ثابت ہو رہا ہے، ناقص کارکردگی، لائین لاسز پر عدم کنٹرول، مہنگی بجلی کی پیداوار، بجلی چوری، بدعنوانی، اقرباء پروری، رئیل اسٹیٹ میں سرما یہ کاری،غیر ضروری محکمانہ مراعات ،لیبریونین کے ہاتھوں محکمہ کی یرغمالی وہ جارج شیٹ ہے، جس کی بدولت یہ شعبہ انحطاط کا شکار ہے،دیگر کی طرح خسارہ میں چلنا اِس کا مقدر ہے ،جس میں بڑا ہاتھ واپڈا کی بیورو کریسی کا ہے۔نیپرا کی رپورٹ ارباب اختیار کو دعوت فکر دے رہی ہے کہ اس میں تطہیر کا عمل شروع کیا جائے قبل اس کے ایک بڑا بریک ڈاون عالمی سطح پر ہماری جگ ہنسائی کا  پھر سے سبب بنے۔
 

بشکریہ اردو کالمز