ٹھوکریں کھاتے معصوم بچے 142

ٹھوکریں کھاتے معصوم بچے

    تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کو جانچنے کا بہترین پیمانہ اور بنیاد ہے۔ تعلیم کی وجہ سے ہی معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ معاشرے میں جس قدر شرح خواندگی زیادہ ہوگی وہ معاشرہ اسی قدر زیادہ ترقی کرے گا اور اس کے برعکس شرح خواندگی کم ہو تو وہ معاشرہ تنزلی میں گرتا چلا جاتا ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک تعلیم کی طرف خصوصی طور پر توجہ دے رہے ہیں وہاں پر سڑکیں پل وغیرہ بنانے کی بجائے تعلیمی شعبے میں کارکردگی بہتر کرنے کی طرف توجہ دی جاتی ہے اور اس کے لیے بجٹ میں بھاری رقم مختص کی جاتی ہے۔ کسی ملک کی ترقی کو جانچنے کا عالمی اصول بھی یہی ہے کہ اس ملک کی اوسط عمر، شرح خواندگی اور فی کس آمدن کتنی ہے؟ ہم نے دفاع کے شعبے میں تو اچھی طرح ترقی کی لیکن دیگر شعبوں میں ہماری کارکردگی بہتر نہ رہی جن میں تعلیمی شعبہ سر فہرست ہے۔
    ترقی یافتہ ممالک میں تو شرح خواندگی بہت زیادہ ہے اور وہ اس پر مزید توجہ بھی دے رہے ہیں اور اسے مستحکم کرنے کے لیے پالیسیاں بنا رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں مگر پاکستان تو جنوبی ایشیا کے کم ترقی یافتہ ممالک سے بھی شرح خواندگی میں پیچھے ہے ۔ سری لنکا بنگلہ دیش اور بھارت کی شرح خواندگی بھی پاکستان کی نسبت بہت مستحکم ہے۔ پاکستان کی شرح خواندگی بمشکل 50 فیصد سے بڑ ھی ہے اس میں اضافہ تو ہو رہا ہے لیکن نہایت سست رفتاری کے ساتھ جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ 
    پاکستان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو تعلیم دلانے سے قاصر ہیں کچھ لوگ تو شعور کی کمی کی وجہ سے تعلیم نہیں دلاتے اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو تعلیمی اخراجات برداشت نہ کرنے کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلا سکتے۔ پاکستان میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں سکول موجود ہی نہیں ہیں ۔ کہیں کہیں سرکاری سکول تو موجود ہیں لیکن ان کی تعداد نہایت کم ہے جو ضرورت کو پورا نہیں کر سکتے۔ ایسے بچے جو غریب ہیں اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ چھوٹی سی عمر میں ہی گھروں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے محنت اور مزدوری شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بچے تو سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں کچھ بچے ٹریفک سگنلز پرکھڑے گاڑیوں پر وائپر لگا رہے ہوتے ہیں اور کچھ دیگر اشیاء فروخت کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف امراء کے بچے اسی عمر میں گھروں سے باہر نہیں نکلتے ان کے والدین انہیں ہر وقت اپنے ساتھ چپکائے رکھتے ہیں اور انکے لیے ہر ضرورت کی اشیاء مہیا کرتے ہیں مگر افسوس کہ یہ غریب بچے بنیادی ضروریات حاصل کرنے میں بھی ناکام ہوتے ہیں اور تعلیم جو ان کا بنیادی حق ہے اس سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ان بچوں کی عمر ہی کیا ہوتی ہے اکثر 6سے14سال کی عمر کے بچے ہوتے ہیں اتنی چھوٹی سی عمر میں ان غریبوں کی زندگی میں زمانے کی دھتکار آ جاتی ہے۔ بہن بھائیوں اور دوستوں کو ساتھ کھیلنا ان کے مقدر میں کہاں اور اگر سکول جائیں تو ان کے تعلیمی اور گھریلو اخراجات کہاں سے پورے ہوں۔ ان کے گھروں میں انتہائی غربت ہوتی ہے جس کی وجہ سے مجبور ہو کر ان کے والدین انہیں بھیک مانگنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ 
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بچوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ کیا یہ ساری زندگی یوں ہی بھیک مانگتے رہیں گے؟ کیا ان بچوں کو پڑھنے کا کوئی حق نہیں ہے؟کیا ان کی ساری زندگی یونہی سڑکوں پر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے گزرے گی؟ اگر یہی حالت رہی تو نہ ہی ان کی دنیا بنی اور نہ ہی آخرت،بیچارے دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں خسارے میں رہیں گے اور کیا وہ اپنی اولادوں کو بھی بہتر مستقبل دے پائیں گے یا انہیں بھی اسی راستے پر چلائیں گے جس پر وہ خود چل رہے ہیں۔ان کی معصوم نظروں میں جھانک کر دیکھیں کہ وہ کس کو تلاش کر رہی ہیں، ان کی نظریں ہم میں سے ہی کسی اہلِ خیر کو تلاش کر رہی ہیں جو ان کا ہاتھ تھام لے اور انہیں اس اندھیر نگری سے نکال دے۔ انہیں تعلیم دلائے اور ان کا مستقبل سنور جائے۔
    نہ جانے ان بچوں میں ہی کتنے ہیرے پوشیدہ ہوںیہ بچے کتنی صلاحیتوں کے مالک ہوں جن کی صلاحیتیں سڑکوں پر ضائع ہو رہی ہیں۔ہمارے ملک میں کچھ ادارے ایسے موجود ہیں جو ایسے بچوں کو اپنے پاس رکھتے ہیں انہیں تعلیم دیتے ہیں لیکن یہ ادارے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ایسے ادارے تب ہی کامیابی سے اس ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں جب انہیں حکومت کی سرپرستی میں چلایا جائے اور وہ بڑے پیمانے پر کام کریں اور ان کی بہت زیادہ تشہیر کی جائے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیم کے فروغ کے لیے مؤثر پالیسی بنائے اور بجٹ میں ایک بڑا حصہ تعلیم کے لیے مختص کرے۔ اس کے علاوہ غریب بچوں کی مفت تعلیم کا کوئی انتظام کرے ۔ اہل خیر حضرات سے بھی درخواست ہے کہ وہ اجتماعی طور پر ایسے ادارے بنائیں جو ان بچوں کی صحیح طور پر کفالت کر یں اور اگر اجتماعی طور پر کوئی صورت نہ بن سکے توانفرادی طور پر ہی حسبِ توفیق ایک یا دو بچوں کی کفالت کا ذمہ لے لیں تو بھی کافی حد تک ایسے بچوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ 

بشکریہ اردو کالمز