422

آگ کے شعلوں میں گھرے چلغوزوں کے درخت حکومتی لاپرواہی پر نوحہ کناں 

کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے کے ایک بڑے حصے پر محیط چلغوزے کے جنگلات جو کہ بلوچستان کے ضلع شیرانی اور خیبرپشتونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درانذدہ تک  پھیلے ہوئے ہیں رواں  سال ان  جنگلات میں کئی بار اگ بھڑک اٹھی۔ جس سے سینکڑوں درخت جل کر خاکستر ہوگئے۔  لیکن نہ بلوچستان کی حکومت نہ خیبرپشتونخواہ کے کان پر جوں  تک نہیں رینگی ۔
اس غفلت اور لاپروائی کے باعث دس دن قبل شیرانی کے علاقے میں واقع چلغوزے کی جنگل میں ایک بار پھر خوفناک آگ بھڑک اٹھی جو گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ یہ خوفناک آگ اب تک سینکڑوں قیمتی درختوں کو اپنی لپیٹ میں  لے کر جلا کر راکھ کرچکی ہے۔ 
افسوس کن امر یہ حکومتی بے پرواہی اور غفلت کے باعث تین مقامی نوجوان اب تک اس آگ کے نظر ہوچکے ہیں ۔ جو پھیلتے ہوئے آگ پر قابو پانے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے کوشش کررہے تھے ۔  اس کے ساتھ سینکڑوں جنگلی حیوانات بھی اس آگ کے نظر ہوگئے ہیں ۔
اب خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ممکن ہے بے قابو آگ مقامی آبادیوں کو بھی لپٹ میں نہ لے۔  اس لیے اب تک پینتالیس گھر خالی کردے گئے ہیں ۔ ان بے گھرآفراد کیلئے بھی تاحال حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے ۔
 
یاد رہے مقامی لوگوں کے بڑی تعداد کا معاشی انحصار چلغوزے کے انھیں جنگلات پر ہے ۔ بڑی تعداد میں درختوں کے جلنے سے بہت سے لوگ بیروزگار ہوجائیں گئے ۔ دوسری طرف ملک کا 1.8فیصد حصہ رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے ۔ پالیسی تو یہ ہونی چاہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ درخت اگائے جاتے تاکہ ملک میں ہریالی زیادہ ہو اور موسمیاتی تبدیلی سے باآسانی نمٹا جاسکیں ۔ لیکن یہ اس کے برعکس ہورہا ہے۔ قیمتی درخت جل رہے ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں  تک نہیں رینگ رہی ۔ وفاقی حکومت کے طرف سے ۱۹ مئی کو نیشنل ڈزاسٹرمنجمنٹ کے جانب سے ژوب ایک ہیلی کاپٹر آگ پر قابو پانے کیلئے پہنچتا ہے ۔ لیکن وہ ناکام ہوکر لوٹ جاتا ہے ۔ اس کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومت بھی کمبل اڑا  کر سوجاتی ہے ۔ انسان، حشرات اور قیمتوں درختوں کو بھڑکتے آگ کے رحم کرم پر چھوڑ جاتے ہیں ۔ بین الاقوامی تنظیم یونین آف کنزورشن کے ایک جائزے کی مطابق پاکستان میں جنگلات میں مسلسل کمی کے باعث  12جنگلی حیات کی نسلیں معدومی کا شکار ہیں ، جبکہ گیارہ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ 
پاکستان میں جنگلات پہلے ہی ناپید ہیں۔ اس طرح کی کوتاہی موسم کی تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافے کا  باعث بن سکتا ہے ۔ یہ آنے والے وقت میں ایک بہت بڑی المیے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ یاد رہے ملک میں ہر سال ستائیس ہزار ہیکڑ قدرتی جنگلات  کی کمی واقع ہورہی ہے ۔
 یاد رہے بلوچستان میں شدید خشک سالی اور زیرزمین پانی کے ذخائر کم ہونے کے باعث باغات بھی معدوم ہورہے ہیں ۔ جس کے باعث بلوچستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہے ۔  مگر حکومت بلوچستان کے محکمہ جنگلات ، ماحولیات اور محمکمہ زراعت کے پاس کوئی واضح پالیسی نہیں ہے ۔ ان محکموں کے دفترمیں  سوائے کوئٹہ کے ملازمین اپنا حاضری لگانے  کیلئے بھی نہیں آتے ۔
 سالمین خپلواک  بلوچستان میں قدرتی جنگلات اور نباتات اور حشرات کے تحفظ کیلئے کرنے والی تنظیم اشر تحریک کا سربراہ ہے ۔ ان کا اس بابت کہنا تھا کہ ہم نے اس دنیا کو ان جنگلات کے توسط سے مفت آکسیجن مہیا کیا ہے ۔  ان کی بھی یہ ذمہ داری بنتی  اور ہمارا ان پر  قرض بنتا ہے  کہ وہ ان جنگلات کی تحفظ میں ہماری مدد کرے ۔ ایک ایسا طریقہ کار وضع کرے کہ ہم اس بھڑکتے ہوئے شعلوں پر جلد از جلد قابو پالیا جائے۔ 
خپلواک کے مطابق : چونکہ یہ جنگلات پر محیط علاقہ ہے انہوں نے کوشش کرکے یہاں درخت کاٹنے پر پابندی عائد کردی ۔ عوام کو آگاہی فراہم کرکے اسے اس کیلئے تیار کیا کہ وہ جنگلات کی تحفظ یقینی بنائیں  ۔ ریاست اور ملکی اداروں کی غیرزمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔ 
سالمین خپلواک نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سالوں محنت کی لیکن وہ ایک ہی دن میں اگ کی نظر  ہوگئی ہے ۔

بشکریہ اردو کالمز