660

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میں اختلافات کی وجوہات کیا ہیں؟

 محمودخان اچکزئی اور اس کی پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اسٹبلشمنٹ کی سیاست اور افغانستان کے اندرونی  معاملات میں دخل اندازی کے خلاف ایک موثر آواز رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ملکی سیاست جس اسٹبلشمنٹ مخالف بیانیے پر چل رہا ہے ، اس بیانیے کی پیچھے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کی کہی دہایئوں کا جہد مسلسل اور قربانیاں کارفرما ہیں ۔ اسٹبلشمینٹ نے حتی الامکان کوششں کی کہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کو دباؤ میں لاکر اسے اس اسٹبلشمینٹ مخالف بیانیے سے منحرف کرے۔  لیکن اسٹبلشمنٹ کا ہر حربہ ناکام رہا ہے۔  اسٹبلشمنٹ کی آنکھوں میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا توانا بیانیہ اور تنظیم کٹکتی رہی ۔ مگر اب  پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی میں  اندورنی طور پر بیانیے پر ںظریاتی اورتنظمیں اختلاف سامنے آئے ہیں ، جس کی وجہ سے مذکورہ پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم نظر آرہی ہے ۔ 
ایک دھڑے کا سربراہ پارٹی چئیرمین محمودخان اچکزئی خود ہیں۔ جبکہ دوسرے دھڑے کی سربراہی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری مختیار یوسفزی کررہےہیں۔
 
یاد رہے پارٹی چئیرمین محمودخان اچکزئی نے مختیار یوسفزئی سمیت اس کے دیگر ساتھی پارٹی کے مرکزی اطلاعات سیکرٹری اور سابق سینٹر رضا محمد رضا، سابق صوبائی وزی عبیداللہ جان بابت ، صوبہ پشتونخواہ کے پارٹی صدر خورشید کاکا جی اور بلوچستان اسمبلی کے موجودہ ممبر اور پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نصراللہ خان زیرے سمیت سینکڑوں مرکزی اور صوبائی عہدے داران کو پارٹی کے منشور اور آئین کے خلاف کام کرنے پر خارج کرکے ان کی رکنیت ختم کردی تھی۔ 
یاد رہے مختیار یوسفزئی دھڑے کا اس بابت موقف ہےکہ ۲۳ اور ۲۴ نومبر کو کچلاک میں پارٹی کے مرکزی کمیٹی اجلاس میں پارٹی چیئرمین کی اختیارات کو محدود کردیا گیا۔ اس لیے وہ اس کے مجاز نہیں ہے کہ وہ کسی  کی رکنیت ختم کردیں اور جن اراکین کی رکنیت ختم یا معطل کی گئی تھی ان کی رکنیت مرکزی کمیٹی نے بحال کیے ۔ اس کے ساتھ مرکزی کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں لکھا ہے کہ پارٹی چیئرمین نکالے گئے اراکین کی بابت اپنا موقف مرکزی کمیٹی کے جانب سے طلب کیے گئے ۲۷ اور ۲۸ دسمبر کے مرکزی کانگریس میں پیش کرکے پارٹی کو مطمیئن کریں ۔ 

یاد رہے یوسفزی دھڑے نے کوئٹہ میں مرکزی کمیٹی کے فیصلے  کی روشنی میں مرکزی کانگریس بھی طلب کررکھا ہے ۔
دوسری جانب پارٹی چیئرمین محمودخان اچکزئی نے ان تمام اقدامات  کو پارٹی آ ئین سے متصادم قرار دےکر اور اس کی اہمیت کو تسلیم سے انکار کیا ہے۔ 

پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں مرکزی کمیٹی میں شرکت کرنے والے تمام پارٹی اراکین کی سوائے عثمان کاکڑ کے بیٹے خوشحال کاکڑ کی رکنیت ختم کردی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ جنوری میں ہونے والے مرکزی  کانگریس میں مرکزی کمیٹی ختم ہوگئی تھی آئینی طور پر اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ 

پارٹی میں اختلاف کا آغاز کب ہوا۔۔۔؟

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی میں اختلافات ۲۰۱۳ کے انتخابات کے بعد اس وقت نمودار ہوئے جب پارٹی بلوچستان حکومت میں شامل ہوئی۔ محمودخان اچکزئی مخالف گروپ کا الزام ہے کہ انہوں نے اپنے من پسند اور خاندان کے لوگوں کو وزارتیں عنایت کیں  ۔ اس کے بعد پارٹی چئیرمین محمودخان اچکزئی نے بنا مرکزی کمیٹی سے پوچھے اپنے بھائی محمدخان اچکزئی کو گورنربلوچستان تعینات کروایا۔  جس کے بعد اس وقت کے پارٹی مرکزی جنرل سیکرٹری اکرم شاہ جو گورنری کے امیدوار تھے ناراض ہوکر کنارہ کشی اختیار کی ۔انہوں نے ۲۰۱۸ کے عام انتخابات میں اپنے بیٹے مزمل شاہ جو کہ اب محسن داوڑ کی پارٹی نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں کوہرنائی کے صوبائی علاقے پر پشتونخواہ ملی پارٹی کے نامزد امیدوار عبدالرحیم زیارتوال کے مخالفت میں کھڑا کیا۔ اس بنیاد پر اس کی رکنیت ختم کردی گئی۔
یاد رہے مختیار یوسفزی کا دھڑا عثمان کاکڑ سے منسوب ہے۔ عثمان کاکڑ کی موت  سے پہلے  پارٹی چیئرمین محمودخان اچکزئی کے حمایتوں کا یہ موقف تھا  کہ اس کی سربراہی عثمان کاکڑ کررہا ہے۔ اور انہوں نے  ایک لابی بنائی ہوئی  ہے جس کی وجہ سے انہوں نے پارٹی پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ جو چاہتے ہیں کہ پارٹی چیئرمین بنیں ۔ اب بھی یہ دھڑا لالا گروپ سے پارٹی میں جانا جاتا ہے۔ یاد رہے  ۲۰۱۵ کے بعد پشتونخواہ اسٹوڈنٹس ارگنائزیشن واضح طور پربلوچستان میں دو دھڑوں پہلے ہی سے تقسیم تھی۔
 ایک دھڑے کا سربراہ کبیرافغان کررہا تھا۔ جس کی حمایت عثمان کاکڑ کرتے رہے ،جبکہ دوسرے دھڑے کی سربراہی بلوچستان میں ملک عمر کاکڑ تھے۔ کبیر افغان پر پارٹی چیئرمین کے خلاف سنگین الزامات  لگانے کا بھی الزام ہے۔ لیکن اب وہ پارٹی چئیرمین کے کمپ میں ہے۔  اب اس دھڑے کے سربراہ لطیف کاکڑ ہیں جو کہ خوشحال کاکڑ کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں۔
عثمان کاکڑکا دھڑا خود کو نظریات کا حامی اور موروثی سیاست کے خلاف گردانتے ہیں۔ محمودخان اچکزئی پر پارٹی عہدوں پراقربا پروری کی بنیاد پر تعیناتی کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔  لیکن عثمان کاکڑ کی موت کے بعد یہ دھڑا چاہتا تھا کہ عثمان کاکڑ چونکہ پارٹی کا صوبائی صدر تھا۔ اس لیے اس کا جانشین اس کا بیٹا خوشحال کاکڑ ہے اس کا حق ہے کہ وہ صوبائی صدر بننے۔ لیکن رواں سال کے جنوری میں ہونے والے پارٹی کانگریس میں صوبائی صدر عبدالقہار ودان منتخب ہوئے۔ جس کی وجہ سے پارٹی میں اختلافات کو تقویت ملی ۔

پارٹی میں نظریاتی اختلاف کیا ہے ۔۔؟ 
 پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے آئین ۲۹،۳۰اور ۳۱ مارچ۱۹۸۹ کوئٹہ میں تاسیسی کانگریس جو کوئٹہ میں منعقد ہوا پیش کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی پشتونخواہ نیشنل عوامی پارٹی کے نام سے فعال تھی اس کے ساتھ  پشتونخوا مزدور کسان پارٹی کے انضمام کے  بعد پاکستان پشتونخوا ملی عوامی پارٹی وجود میں آئی مذکورہ دونوں پارٹیوں کے رہنماوں نے ایک مشترکہ آئین تشکیل دیا جس کا محور جمہوری مرکزیت پر مرتکز ہے اور یہ آئین کمنونزم سے بھی متاثرہ ہے ۔ 
اس وجہ سے جب افغانستان میں رجیم چینچ سامنے آیا اور طالبان برسراقتدار آئے تو پارٹی چئئرمین محمودخان اچکزئی کا طالبان کی بابت موقف سخت تھا اور بارہا انہوں نے مختلف مواقع پر کہا کہ طالبان پاکستان کی ایما پر افغانستان میں کارروائیاں کررہے ہیں۔ لیکن اب اس کے موقف میں بدلاؤ آیا ہے جو کہ پارٹی کا بیانیہ بھی ہے۔ محمود خان اچکزئی اب سمجھتے ہیں کہ طالبان ہمارے اپنے پشتون ہیں وہ دشمن  کے ہاتھوں میں ہیں ہمیں انہیں سمجھانا ہے اور مل بیٹھ کر افغانستان کا ایک مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ کیونکہ افغانستان ایک نئی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ 


واضح رہے کہ  محمودخان اچکزئی نے ۱۸گست ۲۰۲۲ کو افغانستان کے استقلال کے دن طالبان کی جانب سے اسلام آباد میں افغان سفارت خانے میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی تھی۔ جس پر پارٹی کے اندر اس پر سخت تنقید کی گئی ۔
جبکہ دوسرا دھڑا محمودخان اچکزئی کے بیانے کو اپنا ذاتی بیانیہ قرار دیتے ہوئے کہتا ہے  کہ پارٹی کا بیانیہ وہ افغانستان کے بابت ۱۹۸۹میں درج بیانیہ ہے۔ اس میں کوئی تغیر نہیں آیا ہے۔ اس دھڑے کا موقف ہے اگر محمودخان اچکزی چاہتے ہیں کہ منشور میں تبدیلی آئے اور پارٹی ایک نیا بیانیہ قوم کو  دے تو وہ  مرکزی کمیٹی کا اجلاس بلا لیں جو کہ ۱۳ سال  سے نہیں بلایا گیا ہے۔ جو کہ پارٹی آئین کے مطابق ہر تین مہینے بعد اجلاس بلایا جانا چاہیے۔ مرکزی کمیٹی میں وہ اپنی بات رکھیں اور ممبران کو قائل کریں۔ جبکہ محمودخان اچکزئی مرکزی کمیٹی میں عثمان کاکڑ گروپ کے نمائندوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے مرکزی کمیٹی کا اجلاس بلانے سے کتراتے رہے۔  
محمودخان اچکزئی کا دوسرے دھڑے کے ساتھ  دوسرا بڑا اختلاف مذہبی ہے ۔ محمودخان اچکزی مخالف دھڑا پارٹی کو کمیونزم کے اصولوں کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ وہ مذہبی جماعتوں سے اتحاد کو پارٹی اصولوں کے خلا ف سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں سے اتحاد پشتون کاز کیلئے نقصان دہ اور ان کا موقٖف یہ کہ پشتونوں کو سب سے زیادہ نقصان ملاؤں نے پہنچایا ہے۔


جبکہ محمودخان اچکزئی چاہتے ہیں کہ کوئی اور ازم چاہے وہ کمیونزم ہو سوشلزم  یا کوئی اور وہ پشتون معاشرے پر اپلائی نہیں ہوتا اور نہ پشتون معاشرے پر فٹ آتا ہے۔ پشتونوں کے اپنے اصول روایات اور نفسیات ہے ۔ ہمیں ان اصولوں کے مطابق چلنا ہوگا اگر ہم نے کوئی اور نظام ان پر نافذ کرنے کی کوشش کی تو قوم تقسیم در تقسیم ہوتی جائیگی جس کے منفی نتائج سامنے آئیں گے اور پشتون قوم وہ منفی نتائج بھگت رہی ہے۔

بشکریہ اردو کالمز