ھیبت خان نے 2008 میں بطور سب ایڈیٹر ٹرینی صحافت کے سفرکا آغاز روزنامہ شال کوئٹہ سے کیا۔ بعد ازاں 2010 میں روزنامہ آزادی میں 6 مہینے کام کرنے کا موقع ملا، 26 فروری 2011 کو روزنامہ انتخاب کوئٹہ میں بطور سب ایڈیٹر کام کیا یہ سلسلہ 2018 فروری تک جاری رہا۔ انہوں نے صحافت کو ایک سفید پوش پیشہ کے طور پر اپنایا اور یہی سوچ کر قدم رکھا کہ معاشرے کی بہتری میں کردار ادا کرنے کے لیے بھی موقع ملے گا۔ اور گھریلو اخراجات میں اپنے حصہ کا حصہ بھی ڈالے گا ۔لیکن انہوں نے ۲۰۱۸ میں فیصلہ کرلیا کہ اب مزید صحافت کو جاری رکھنا اس کیلئے ممکن نہیں ہے ، کیونکہ گھر کے اخراجات زیادہ ہوگئیں اور ان کو ملنے والا معاوضہ ان کی ضروریات سے کہیں گنا کم تھا جس کی وجہ سے وہ فاقہ کشی پر مجبور ہونے کی قریب تھا ۔ ان کے مطابق انہوں نے یہ محسوس کیا کہ صحافت میں ان کی مستقبل محفوظ نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کا اثر گھر اور بچوں پر بھی پڑ رہا تھا وہ سکول کے فیسز ادا کرنے سے بھی قاصر ہوگیا تھا ۔
ھیبت خان کے بقول انہوں نے
مجموعی طور پر 10 سال صحافت کو دیا، بلوچستان میں نجی مارکیٹ کی کمی کے باعث ادارے بھی معاشی اعتبار سے زیادہ مضبوط نہیں اور یہی اثرات کارکن کو بھی متاثر کرتے ہیں،اوراجرت کے حوالے سے صوبائی حکومت کی پالیسیز پر عملدرآمد نہیں ہو پارہا تھا اس وجہ سے بھی اس پیشہ کو خیر باد کہنا پڑا، ایک وجہ بلوچستان کی مخدوش صورتحال بھی ہے اور میرا ادارہ روزنامہ انتخاب اس صورتحال میں زیادہ متاثر تھا تو لامحالہ کارکن بھی کوفت کا شکار رہتے ۔
ان کے بقول بلوچستان میں دو چند صحافیوں کے علاوہ ایسا کوئی کارکن نہیں ہے جن کا مستقبل محفوظ ہو ، پالیسز کا فقدان ہے کارکن کی معاشی بہتری کے حوالے سے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے اور یہی اسباب ہیں جو مجھے کسی اور پیشے کے انتخاب پر مجبور کیا۔
ہزار خان بلوچ انڈیپنڈنٹ اردو سے وابستہ ہے ۔ انہوں نے اپنے عمر کا انیس سال صحافت کو دیں ۔ ان کے بقول بلوچستان میں صحافت جانی اور معاشی حوالے سے ایک کھٹن شعبہ ہے ۔ بلوچستان چونکہ ایک کنفلکٹ زون ہے اس وجہ سے یہاں صحافی ہمیشہ عدم تحفظ کے شکار رہتے ہیں ۔ لیکن پاکستان کے مین سٹریم مالکان قانون میں طے معاوضہ بھی ادا نہیں کرتے اس لیے یا تو صحافی صحافت چھوڑرہیں یا بیک وقت کئی جگہوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں ۔
ہزارخان کے بقول: وہ خود جب اخبار میں کام کرتا تھا تو بیک وقت متعدد اخبارات کے ساتھ گھریلو معاشی مشکلات کے باعث کام کرتا تھا ۔ لیکن اب بلوچستان میں اخبارات مارکیٹ میں آنا کم ہوگئے ہیں۔ اخبارات مالکان کے بقول اخبارات چونکہ اشتہارات پر چلتے ہیں۔ لیکن اب اشتہارات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اخبارات بند یا اخراجات کم کرنے کیلئے ملازمین کو نکالنے پر مجبورہے۔ کئی اخبارات نے اپنے ملازمین فارغ کیے ہیں ، جو ایک المیہ ہے ۔
منظور بلوچ بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا کی صنعت معاشی بحران کا شکار ہے۔ یہ صحافت کیلئے ایک بہت بڑا چیلنچ ہے ۔اور اس بحران کا سب سے زیادہ اثر بلوچستان میں صحافت پر ہوا ہے ۔ ان کے مطابق بلوچستان میں اتنی تنخواہیں انتہاہی قلیل ہوتی ہیں۔ خاص کر اخبارات میں اور اس کے ساتھ کئی کئی مہینے تںخواہیں ادا نہیں کیجاتی ہے۔ اور اب اس سلسلے الیکٹرنک میڈیا تک پہنچ گیا ہے۔یہ تمام عنصر صحافی کی مستقبل عدم تحفظ کا شکار بنادیتا ہے۔ اس لیے اکثر صحافی صحافت چھوڑنے پر مجبور ہیں ۔
منظور بلوچ کے بقول : میڈیا کی صعنت صورتحال اس نہج تک پہنچ گئی ہے۔ میڈیا ہاوسز اپنے ورکرو کو تقررنامہ تک نہیں دیا جاتا۔ انھیں اپنا ورکر تک تسلیم نہیں کیا جاتا اس لیے صحافیوں کو اپنے بنیادی تنخواہ کا بھی نہیں معلوم ہوتا۔ بیروزگاری کی وجہ سے صحافی یہ سب کچھ قبول کرلیتا ہے لیکن ادارے اس چیز کا ناجائز اٹھاتے ہیں ۔ منظور کے بقول پاکستان یونین آف جرنلسٹ کم تںخواہوں کی کمی اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ایک منظم تحریک شروع کرنے جارہا ہے۔ کیونکہ یہ سلسلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں یہی صورتحال ہے ۔ اور یہ تحریک مرحلہ وار ہوگئی ۔ اور ہم حکومت کے ساتھ اس مسئلے پر بات کریں گے تاکہ یہ مسئلہ حل ہو ۔
منظور بلوچ کے بقول : بلوچستان یونین آف جرنلسٹ صحافیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے روز اول سے کام کررہا ہے۔ اور ہم نے اس کیلئے آواز اٹھایا ہے۔ حال ہی میں لاہور میں ہونے صحافیوں کے اجلاس میں نے قرار داد پیش کی جس میں صحافیوں کا معاشی عدم تحفظ اور سروس اسٹریکچر کے نقطے صف اول میں شامل تھے کیونکہ اسٹریکچر نہ ہونے کی وجہ سے صحافی اضطراب کاشکار ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں جس کی وجہ صحافی صحافت چھوڑنے پر مجبور ہیں ۔