وزیرستان کا نام سنتے ہی دہشت گردی، قتل و غارت، ٹارگٹ کلنگ ،خودکش دھماکوں کی خونی مناظر کی متحرک تصویریں انسان کے آنکھوں کی پردوں پر چلنے لگتی ہیں۔
یہی مناظر ہمارے آنکھوں کی پردوں پر بھی گردش کرنے لگے جب ہم نے فیصلہ کرلیا کہ ہمیں وزیرستان جانا ہے ۔ مشکل فیصلہ تھا لیکن کرنا پڑا ۔ رخت سفر باندھ کر جب کوئٹہ سے وزیرستان کی طرف روانہ ہوئے کم ہی سفر طے کیا تھا کہ ایک خبر موبائل سکرین پر نمودار ہوئی جس میں ایک جرگے کا فیصلہ تھا کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ ایک بار پھراپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کریں۔ اس بابت جرگہ خود تحریک طالبان پاکستان کے لیڈرشپ سے جاکر بات کرے گا ۔
یاد رہے گزشتہ ماہ سے سیکورٹی اداروں پر متعدد حملے ہوئے جس کے بنیاد پر فوج شمالی وزیرستان میں محسود قوم کے علاقے مکین اور اس کے آس پاس علاقوں میں آپریشن کرنا چاہتا ہے۔
مذکورہ خبر پڑھ کر ہمارے خوف میں مزید اضافہ ہوا کہ کہیں ہم اس دوران پھنس نہ جائیں۔ لیکن ہم اپنے فیصلے پر ڈٹے رہیں ۔ اپنا سفر جاری رکھا رات کے ۱۲ بجے ہم ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے وہاں رات گزاری ۔ صبح دوبارہ سفر شروع کیا۔ اور اپنے روٹ میں تبدیلی کی پہلے ہم چاہتے تھے کہ ٹانک کہ راستے جنوبی وزیرستان میں داخل ہوں گے۔ لیکن وزیرستان میں موجود اپنے میزبان کی تجویز پر ہم نے اپنا روٹ تبدیل کردیا اور بنوں کے راستے شمالی وزیرستان میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔
جب ہماری گاڑی بنوں شہر سے کچھ فاصلے پر موجود سیدگئی چیک پوسٹ پہنچی جوکہ وزیرستان کے حدود میں پہلی چیک پوسٹ ہے یہاں پر ہم تلخ تجربے سے گزرے مذکورہ چیک پوسٹ پر ہمیں ڈھائی گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا ہمیں بتایا گیا چونکہ ہم بلوچستان سے آئے ہیں تو ہمیں پہلے شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں انٹری لازمی کروانی چاہیے تھی ۔ چونکہ ہم نے انٹری نہیں کی تو اپنے میزبان سجاد وزیر اور ہدایت خان وزیر کو کال کیا پھر انہوں نے انٹری کا عمل مکمل کیا اور اس کے بعد ہمیں وزیرستان میں داخلے کی اجازت ملی۔
سیدگئی چیک پوسٹ پر سیکورٹی اداروں کی چاک چوبند دستوں کی زیادہ آمدورفت سے ہمیں لگا کہ ہم ایک جنگ زدہ علاقے میں خطرہ مول لیکر جارہے ہیں۔
میرانشاہ تک ہمارے ذہنوں میں خوف منڈلا رہا تھا کہ ہم کسی بھی وقت ایک خطرناک حملے میں گھر سکتے ہیں ۔ لیکن ہمیں سیدگئی چیک پوسٹ سے میرانشاہ تک ہمیں جنگ سے متاثرہ مکانات نظر نہیں آئے۔
جب میرانشاہ پہنچے تو دن کے تین بج رہے تھے ۔ ہدایت وزیر ہمارا انتظار کررہا تھا ۔ وہ نہایت گرم جوشی سے ملا اور پہلے پہل نماز پڑھنے کیلئے مسجد لے گیا ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد پاکستان مارکیٹ کے قریب واقع ہوٹل میں دوپہر کا کھانا تناول فرمایا ۔ اس دوران سجاد وزیر بھی تشریف لائے۔
سجاد وزیر اور ہدایت نے ہمیں کہا کہ پہلے میرانشاہ بازار دیکھنے چلتے ہیں ۔ چونکہ عید کے دن تھے تو بازار میں گہماگہمی معمول سے کم تھی ۔ سجاد نے ضرب عضب کے دنوں کے بارے میں بتایا کہ میرانشاہ کا بہت بڑا بازار تھا جو کہ تقریباً سات ہزار سے زائد دکانوں پر مشتمل تھا۔ روزانہ کروڑوں کا کاروبار ہوتا تھا ۔ لیکن آپریشن کے دوران مکمل بازار ملیامیٹ ہوگیا۔
سجاد نے گاڑی ایک جدید طرز پر بنی مارکیٹ کی طرف موڑے ہوئے کہا کہ یہ مارکیٹ حکومت نے پہلے والی بازار کے مقام پر بنائی ہے۔ لیکن یہ آدھا مارکیٹ جائیداد کے تنازعات کی وجہ سے بند پڑا ہوا ہے ۔ سجاد نے گاڑی مارکیٹ کے پیچھے والے حصے میں کھڑی کی اور ہمیں بتایا کہ اس مقام پر اسحلہ کی ایک بہت بڑی مارکیٹ تھی۔ اور اس کے ساتھ کئی منزلہ پلازے ایستادہ تھے جو کہ بارود کے نظر ہوئے ہیں۔ وہاں پر اب پلازوں کی جگہ ملبہ نظر آتا ہے۔ سجاد نے ایک ملبے کے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ہمارے دوسرے میزبان ہداہت وزیر کا ایک بہت بڑا کاروباری پلازہ تھا جو اب نہیں رہا۔
سجاد کے مطابق میرانشاہ سرحدی شہر ہونے وجہ سے کاروباری مرکز تھا ۔ لیکن اب سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے ہیں ۔ یاد رہے میرانشاہ سے بارہ کلومیٹر مشرق کی طرف غلام خان سرحد واقع ہے۔ جس کو حکومت نے بہتر طور پر تعمیر کیا ہے۔ یہ سرحد پاکستان کو وسط اشیا سے ملاتا ہے ۔ تجارت کیلئے یہ ایک بہترین روٹ ہے ۔
دن ڈھلنے کو تھا رات گزارنے کیلئے ہم نے سروبی علاقے کا رخ کیا جو کہ سجاد وزیر کا گاوں ہے۔
میرانشاہ سے ہمارے ساتھ سرسبز پہاڑوں نے بھی سفر شروع کیا اور یہاں سے ہمارے ذہنوں میں وزیرستان کے بارے میں جو نقشہ تھا۔ وہ تبدیل ہونا شروع ہوا۔
ہمیں وزیرستان کا وہ چہرہ نظرآنے لگا جو کہ دنیا سے کئی سالوں سے چھپا رہا ہے ۔ وزیرستان کی خوبصورتی دیکھ کر مجھ سمت میرے دوست حیرت زدہ ہوگئے ۔ بل کھاتی سڑک کی طرح ہماری چہروں کی تاثرات بھی دیکھنے کے لائق تھے۔
بلند وبالا چنار اور نشتر کے درخت بارش کے پانی سے نہائے ہوئے تھے ۔ان کے صاف وجود سے پانی کی بوندیں ٹپک رہے تھے ۔ جب ہوا ان درختوں کی نرم پتوں سے ٹکرا کر انسانی وجود کو چھولیتا تھا تو انسان کی وجود میں ایک رومانیت انگڑائی لے لیتی۔ ہوا کی رومانیت کو محسوس کرنے کیلئے میں اپنا گاڑی سے نکالا اور دیر تک ہوا کی رومانیت محسوس کرتا رہا ۔
جو ہم سوچ کر آئے تھا ایسا کچھ بھی نہیں تھا ۔ اس دوران ہدایت وزیر نے سوال پوچھا اس کی آواز میں بیس سال کا درد چھپا ہوا تھا ۔ کہنے لگا کہ آپ لوگ بھی ہمیں دہشت گرد ،قاتل ،وحشی اور انسانیت دشمن سمجھتے تھے ۔۔؟
مجھ سے جھوٹ کہا نہ گیا اور میں نے اقرار کرتے ہوئے ہدایت وزیر سے گویا ہوا کہ بلکل ۔۔!!
ہم بھی آپ کو اس میڈیا کی نظر سے دیکھ رہے تھے جو کہ ایک مخصوص ایجنڈا پر عمل پیرا ہیں۔
سورج کی کرنیں خود کو سمٹ رہی تھیں۔ جس پر وہ آفسردہ نظر آرہی تھیں۔ یہ بات کم سروبی کی خوبصورتی کا غرور لے کر سینہ تان کر کھڑے بلند وبالا پہاڑوں پر زرد ماہی رنگ سے ظاہر ہورہا تھا ۔
سروبی کے علاقے میں عصر کی نماز پڑھی سروبی میرانشاہ سے پندرہ منٹ کے مسافت پر واقع ایک خوبصورت علاقہ ہے ۔ نماز کے بعد مسجد میں موجود بزرگوں سے علیک سلیک کیا اور ان سے اجازت چاہی تو مہمان نوازی کیلئے مشہور وزیرستان کے غیور بزرگوں نے رات کو ٹھہرنے کیلئے سختی سے اصرار کیا۔ لیکن ہمارے میزبان سجاد وزیر نے بزرگوں کو سمجھایا کہ ہم ان کے مہمان ہیں۔ اسی لیے ہم سروبی کے طرف جارہے ہیں۔
مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا مسجد کے قریب فٹبال کے میدان میں فٹبال کا مقابلہ ہورہا تھا۔ جس کو دیکھنے کیلئے بڑی تعداد میں مقامی تماشائی بیٹھے ہوئی تھے جو کھلاڑیوں کو وقتاً فوقتاً داد رہے تھے ۔
یہاں سے ہدایت نے اپنے دوست امین وزیر کو بھی اپنے ساتھ لیا اور وہ ہمارے ساتھ سفر میں شریک ہوا ۔ امین وزیر ایک نوجوان شاعر اور شمالی وزیرستان کا واحد پشتو زبان کا استاد ہے جو کہ سکول میں بچوں کو پشتو زبان کا مضمون پڑھاتا ہے ۔
رات کی اندھیروں نے وزیرستان کو اپنے اغوش میں لے لیا ۔ ہر سو ایک عجب سی خاموشی چھائی ہوئی رہی ، انٹرنیٹ بند تھا اور بجلی دن میں زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے ہوتی تھی ۔ لوگوں کو انحصار شمسی توانائی پر تھا ۔ انٹرنیٹ بند ہونے سے ہمیں یہ فائدہ ہوا کہ ہم نے مقامی لوگوں سے مختلف موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی ۔ لیکن مقامی لوگوں کو بہت مشکل درپیش تھی وہ انٹرنیٹ کے حصول کیلئے میرانشاہ کا رخ کرتے وہاں پی ٹی سی ایل کا انٹرنیٹ موجود تھا ۔
سجاد وزیر نے عشائیہ پر قبائلی روایات کے مطابق بہترین انتظام کیا ہوا۔
خصوصی طور پر وزیرستان کا مشہور ڈش دم پخ مرغی تھی ۔ یہ ڈش بے حد لذیذ اور ذائقہ دار تھی ۔ یہ ڈش مرغی کی ہر پیس ایک ٹماٹر،الو اور مکمل پیاز کے ساتھ دم یعنی بھاپ پر پکایا ہوا تھا ۔
کھانا تناول کرنے کے بعد تھکن اور اگلے کے مصروفیات کو دیکھ کر جلد ہی ہم نیند کی وادیوں میں اتر گئے۔
چنار کے درختوں پر پرندوں کی چہچاہٹ سے ہم نے نئی صبح کا آغاز کیا اب کے بار ہماری منزل رزمک اور جنوبی وزیرستان کا علاقہ شوال تھا ۔
تقریباً ایک بجے کے قریب ہم رزمک کے مقام پر پہنچے رزمک کی خوبصورتی دیکھنے لائق ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہاں روز بارش لازمی برستی ہے ، جس سے اس خوبصورت وادی کی خوبصورتی میں نکھار آجاتا ہے ۔ جس وقت ہم پہنچے تو اس وقت بادل اپنے صفیں ترتیب دے رہے تھے ۔ تھوڑی دیر کے بعد گرج چمک نے بادلوں سے بوندوں کی برسنے کی نوید سنا دی ۔ ہمیں لگا کہ ہم رزمک میں نہیں بلکہ یورپ کے کسی ملک میں ہیں۔ کیونکہ بارش کے برستے ہی رزمک مزید صاف ہوگیا عموماً پاکستان میں بارش کے ساتھ ہی گندگی باہر سڑکوں پر آجاتی ہے ۔
مضمون طویل ہورہا ہے تو قاری کے تکلیف کا احساس کرتے ہوئے اس سمٹنے کی کوشش کرونگا ۔
رزمک سے ہم جنوبی وزیرستان کے علاقے شوال تک گئے اگر میں یہ کہوں کہ شوال روئے زمین پر خوبصورت ترین علاقہ ہے تو میں غلط نہیں ہونگا ۔ سرسبز میدان ، چنار اور نشتر کے درختوں سے بھرے خوبصورت پہاڑ اور اس کے ساتھ ایک رومان پرور موسم جو کسی بھی انسان کو اس کے سحر میں جکڑ لیتا ہے ۔ زندگی میں اگر کبھی بھی موقع ملے تو وزیرستان اور وہاں کا علاقہ شوال اور رزمک لازمی جانا چاہیے ۔ یاد رہے شوال کے علاقے میں چلغوزے کی پیداوار بھی وافرمقدار میں ہوتی ہے ۔ لیکن مقامی لوگ اس پیداوار سے بدامنی کے باعث مستفید نہیں ہوپارہے ہیں ۔
شوال سے واپس ہم مکین کے طرف آئے ۔ مکین محسود قوم کا مسکن ہے سیکورٹی اداروں کے مطابق یہ علاقہ ابھی تک کلئیر نہیں ہے تو وہ اس علاقے میں دوبارہ آپریشن کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن مقامی لوگ واپس اپنے گھروں کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق دس سال تک انہوں نے کیمپوں میں دربدری کی زندگی گزاری ہے۔ اب وہ مزید کیمپوں میں نہیں رہنا چاہتے۔ اس مناسبت محسود قبائل نے ٹانک میں جرگہ منعقد کیا اور اس میں یہ فیصلہ ہوا کہ وہ محسود قوم کے مشران تحریک طالبان پاکستان سے بات کریں گے کہ وہ مکین اور اس کے آس پاس دہشتگردانہ کاروائی نہ کریں۔
یاد رہے عید کے بعد شمالی وزیرستان میں اکا دکا دہشت گردی کے واقعات سامنے آئے جس کے بنیاد پر حکومت اس علاقے میں ایک بار پھر آپریشن کرنا چاہتی ہے ۔
لیکن ہم نے مکین بازار کو پرسکون پایا کوئی ایسی بات محسوس نہیں کی جس سے لگے کہ یہاں مسقبل میں کوئی جنگ ہونے جارہی ہے۔ اور نہ ہم نے مکین سے لیکر ٹانک تک ریاست مخالف عناصر کی سرگرمی میں ملوث لوگ دیکھے۔ یہاں تک کہ ہم نے مسلسل دو گھنٹے بلند وبالا پہاڑوں کے درمیان مسلسل سفر کیا ۔
مجموعی طور پر وزرستان کے لوگ زندگی سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ اس کا اندازہ وزیرستان کے نوجوانوں کے مخصوص ٹوپیوں میں لگے تازہ پھولوں سے لگا سکتے ہیں ۔ ہم نے اکثر نوجوانوں کو دیکھا جو کہ ٹوپیوں میں تازہ پھول لگا رکھے تھے ۔
ضرب عضب کے بعد وزیرستان میں جو اہم تبدیلی ہمیں دیکھنے کو ملی وہ کلاشنکوف کلچر کا خاتمہ ہے۔ ہم نےپورے شمالی وزیرستان میں کسی بندے کے ساتھ اسلحہ نہیں دیکھا جو کہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ دوسری اہم تبدیلی وزیرستان کے لوگوں میں سیاسی شعور بیدار ہوچکا تھا۔ اور اس کے ساتھ جو بات ہم نے اپنے سفر کے دوران محسوس کی وہ نوجوانوں میں شعر شاعری سے لگاؤ تھا۔ نوجوان اپنے شعروں میں مٹی سے اور زندگی سے محبت کا درس دیتے ہوئے ہمیں نظر آئے۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ زرخیز زمین ہونے کے باوجود زراعت اور گلہ بانی ہمیں دیکھنے کو نہیں ملی۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے وزیرستان سیاحت کے لحاظ سے ایک زرخیز خطہ ہے بس اس پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ سیاح اب بھی بنا کسی خوف کے وہاں جاسکتے ہیں ۔ ہم جب وزیرستان سے نکلے تو ہماری رائے وزیرستان کے بارے میں مکمل طور تبدیل ہوچکی تھی ۔ وہاں کے لوگوں سے ، مٹی سے ، چرند پرند،ہوا اور دراز قامت درختوں سے زندگی ، پیارمحبت اور انسانیت کی خوشبو محسوس ہوئی۔