617

فرض شناس آفیسر امیرخان 

یوں تو یہ دنیا انسانوں سے بھری پڑی ہے لیکن حقیقی معنوں میں دیکھاجائے تو انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں رہی، دنیا میں انسانیت سب سے بڑی اور انمول چیز ہے اس لئے ہمارے نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ انسانیت سب سے بڑی اور اہم ہے ۔ کعبہ کی حرمت سے زیادہ قلب مومن ہے جس میں رب رہتا ہے ۔جس انسان میں انسانیت نہیں وہ حیوان سے بھی بدتر ہے اس دنیا میں اقتدار عہدے ،مال ودولت کی کوئی قدر وقیمت نہیں لیکن یہاں یہ بات افسوس سے کہنی پڑتی ہے کہ آج کے دور میں لوگ اقتدار عہدے اور مال دولت کو سب کچھ سمجھتے ہیں بڑا آدمی وہ ہے جس کے پاس انسانیت ، رحمدلی ہے۔ ان کے دل میں دوسروں کیلئے درد ہو حقیقی محبت ہو وہی اعلیٰ ترین انسان اور انسانیت کی معراج ہے ۔ میری اپنی ذاتی زندگی میں ایسے خداشناس شخصیات سے واسطہ پڑا  جن کا طرز عمل محبتیں، چاہتیں اور چاہنے کی انداز دیکھ کر میرے دل سے ہروقت اپنے احباب کیلئے نیک تمنائیں اور دعائیں خودبخود دل سے نکلتی ہیں۔ یوں تو اس جہاں میں میرے چاہنے والے بہت ہیں اسی لئے میں ہمیشہ کہتا رہتا ہوں کہ میں دنیا کا امیرترین انسان ہوں وہ اس لئے کہ میرے پاس مال دولت نہیں اس حوالے سے بندہ ناچیز غریب ہے لیکن اپنے دوستوں اور احباب کی محبتوں کی وجہ سے میں اپنے آپ کو دنیا کا امیرترین انسان سمجھتا ہوں ۔وہ اس لیے بھی کہ میرے تمام احباب باشعور ہیں آج میں اپنا کالم ایک اور چاہنے والوں کے حوالے سے لکھ رہاہوں جو کسی تعریف کے مختاج نہیں  وہ شخصیت نہ صرف مجھے نہیں چاہتے بلکہ وہ ہر ایک کو چاہنے والی شخصیت ہے مجھ جیسے ہر غریب طبقے کے لوگ ان کا دوست ہے ہر طبقے کے لوگوں کے لیے ان کے دل میں پیار محبت عشق اور اہمیت ہے۔ جناب امیرخان صاحب کا تعلق گلگت کے حسین وجمیل علاقہ ضلع نگر سے ہے امیرخان ایک امیرترین گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ابتدائی تعلیم نگر سے حاصل کرنے بعد ملک کے دیگر شہروں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں بحیثیت نائب تحصیلدار بھرتی ہوئی ۔لوگ کہتے ہیں کہ آپ اس وقت بھی غریب اور نادار لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے اس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر بن کر بلتستان کے خوبصورت ضلع شگر میں رہے شگر کے لوگ اب بھی ان کو محبت سے یاد کرتے ہیں اس کے بعد روندو میں بھی اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں اس کے علاوہ کھرمنگ کے اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پربھی رہے ۔کھرمنگ کے معاملے اورعوامی مسائل سے آپ بخوبی آگاہ ہونے اور قابل آفیسر ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ آف گلگت بلتستان نے آپ کو ڈپٹی کمشنر تعینات کردیا۔ اس دور میں آپ نے ضلع کھرمنگ کے عوام کے فلاحی کاموں میں بے مثال کردار ادا کیا۔ یہاں کے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کئے اس وقت کھرمنگ ضلع کے ہیڈ کوارٹر کا مسئلہ گھمبیر ہواتھا ہیڈ کوارٹر کی جگہ کا تعین کرنے میں حکومت اور انتظامیہ کو بڑی مشکلات درپیش تھی۔آپ نے اچھے اور بہترانداز میں ضلع کھرمنگ میں ہیڈ کوارٹر کے مسائل کو اچھے انداز میں حل کردیا یہ سب آپ کی قابلیت اور اعلیٰ ظرفی کی مثالیں ہیں۔ آج ضلع کھرمنگ کے عوام بھی آپ کی ان خدمات کو یاد کررہے ہیں اس وقت آپ ڈپٹی کمشنر کھرمنگ تھے تو بندہ ناچیز بطور پی آر او ڈی سی کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔ اس وقت آپ اپنے دفتر کے چھوٹے ملازمین سے کبھی سختی سے پیش نہیں آتے تھے بلکہ ہر ایک سے محبت سے پیش آتے اس وقت ضلع کھرمنگ میں ڈی سی آفس میں اکثر ملازمین آپ کے ہاتھوں سے بھرتی بھی ہوئے آج اللہ کی فضل وکرم سے تمام ملازمین ریگولر ہوگئے ۔ اس وقت سب کے لبوں سے ان کے حق میں دعائیں نکل رہی ہیں ۔ایک دفعہ ڈی سی کھرمنگ کی گاڑی میں امیرخان صاحب کے ساتھ طولتی سے آرہے تھے تو ایک راہگیر نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا تو امیرخان صاحب نے اپنے ڈرائیور سے ان کو بیٹھانے کیلئے کہا تو وہ بندہ گاڑی کی ڈگی میں بیٹھایا تو امیرخان نے اس بندے کو آگے سیٹ پر آنے کا کہا اور اپنے ساتھ بیٹھا کر سفر طے کیا اور کہا کہ ہر انسان کو اللہ تعالی نے عزت دی ہے سب انسان برابرہیں اگر اس کو ڈگی میں بٹھایا توبے چارے کو اس سردی میں تکلیف ہوگی اور میرا خدا مجھ سے بہت ناراض ہوجائیگا اس کی رحمدلی کی اور بھی کافی باتیں ہیں اس کر اگر تفصیل سے لکھوں تو بندہ ناچیز کو کئی رجسٹر درکار ہیں۔ یہاں ان کی یاد کرنے اور اپنے دل میں موجود محبت کا اظہار کرنے کے لیے آج یہ کالم لکھ رہاہوں قارئین میرا ہمیشہ مختلف شخصیات پر کالم لکھنے کا مقصد کسی کو خوش کرنا نہیں یا کسی کو ناراض کرنا بھی نہیں۔ میری ہمیشہ سے یہی عادت رہی ہے کہ میں ہمیشہ زندوں کی قدر کرتاہوں زندوں کی قدر کرنا میرا شیوہ ہے اور مردوں کی مغفرت کیلئے دعاکرنا میری عادت ہے لہذا آخر میں میری دلی دعا ہے کہ فرض شناس آفیسر ہمارے محترم امیرخان کو مزید ترقی عطا فرمائے۔ اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم ودائم رکھے۔آمین

بشکریہ اردو کالمز