301

حقیقی مسیحا ڈاکٹرامجد علی

 وہ شخص نہایت خوش نصیب ہے جس کو خداتعالی نے اپنی مخلوق کی شفا کے لیے منتخب کرتا ہے لیکن وہ شخص انتہائی بد قسمت ہے جو ڈاکٹر بننے کے باوجود کبھی انسانوں پر رحم نہیں کھاتا لیکن بدقسمتی سے یہاں تحریر کرنا پڑتا ہے کہ آج کے ڈاکٹروں کی اکثریت کے اپنے پرائیویٹ ہسپتال ہیں اور زیادہ تر ٹائم پرائیویٹ ہسپتال اور کلینک کو دیتے ہیں سرکاری ڈاکٹروں کی تخواہ دو لاکھ کے قریب ہے پہلے ماضی کے زمانوں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے بنگلے کوٹھیاں ہوا کرتی تھیں آج کل ڈاکٹروں کی نہایت دیدہ زیب اور خوبصورت کوٹھیاں اور پرائیویٹ ہسپتال دیکھنے کو ملتے ہیں کچھ ڈاکٹر صاحبان راتوں رات امیر ہونے کی چکر میں مریضوں کے گردے نکال کر فروخت کررہےہیں اور کچھ ڈاکٹر دو نمبر سٹنٹ دل کے مریض کو ڈال کر لاکھوں کمارہےہیں کسی کو یاد نہیں کہ ایک نہ ایک دن سب کچھ چھوڑ کر قبر میں ایک گست کفن لے کے جانا ہے جس کا قبر میں ضرور حساب وکتاب لیا جائے گا پاکستان کے کسی قلم کار جنہوں نے اپنی کتاب میں لکھاہوا ہے کہ بقول ان کے کہ امریکہ میں ایک پاکستانی ڈاکٹر ایسا بھی موجودہے جس کے پاس اگر کوئی پاکستانی مریض علاج کی غرض سے چلا جائے تو وہ نہ صرف اس کا مفت علاج کرتا ہے بلکہ اس کو کھانا کھلائے بغیر واپس نہیں آنے دیتا کسی نے اس مہربانی کی وجہ پوچھی تو اس نےبتایا کہ میرے والد صاحب نے مجھے نصیحت کی تھی کہ بیٹا تم اتنے بڑا ڈاکٹر نہ بن جانا کہ تیرا کوئی ہم وطن تیری فیس ادا کرنے کی وجہ سے علاج سے محروم رہ جائے اس لیے جب بھی کوئی پاکستانی کلینک آٹا ہے تو مجھے میرا والد میرے سامنے کھڑا ہوا دکھائی دیتا ہے جو لوگ میڈیکل شعبے میں قدم رکھتے ہیں انہیں اپنے مقصد اور مشن کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے
میرا کالم طویل ہوتا گیا آج کا کالم لکھنا کسی ڈاکٹر صاحبان کی دل دھوکھانہ نہیں نہ میرا مقصد کسی کو ٹارگٹ کرنا ہے بلکہ آج ایک ایسے ڈاکٹر کی علاقہ کھرمنگ میں ان کی خدمات پر مختصر تبصرہ کرناہے وہ فرشتہ صفت انسان ہمارے بہت ہی مہربان معرفی ہسپتال مہدی آباد کے میڈیکل آفیسر جناب ڈاکٹرامجد علی جنہوں نے اپنی ساری زندگی غریب اور نادار مریضوں کی خدمت کےلیے واقف کررکھے ہوئےہیں ان کا تعلق بھی ہمارے علاقے کھرمنگ سے ہے ان کے خاندان میں جناب افضل علی شگری صاحب اور بھی اہم شخصیات جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے اور گلگت بلتستان کے لوگوں کے خدمات کررہےہیں 
ڈاکٹرامجد علی صاحب نے اسلام آباد لاہور جیسے جگے کو چھوڑ کر یہاں اپنے آبائی گاوں  کھرمنگ میں معرفی فاونڈیش کے ساتھ منسلک رہ کر علاقے کی خوف خدمت کررہےہیں جو کہ ان کی علاقے اور علاقے کے لوگوں کے ساتھ خلوص اور محبت کا ثبوت ہے معرفی فاونڈیشن نے معرفی ہسپتال مہدی آباد میں اس وقت مریضوں کے لیےمفت دوائی اچھے اچھے کمپینی کے مہیا کررہےہیں اسی لیے معرفی ہسپتال مہدی آباد میں دوسرے ہسپتالوں کی نسبت کیثر تعداد میں مریض اپنی چیک اپ کے لیے آتےہیں اور تمام مریضوں کی چیک اپ بھی ڈاکٹرامجد صاحب خود بہت اچھے انداز سے کرتےہیں اور یہاں کی عوام ڈاکٹرامجد علی صاحب اور معرفی ہسپتال کے انتظامیہ مطمین ہیں معرفی فاونڈیشن سے آج اپنے کالم کے زریعے اپیل کرتاہوں کہ مزید علاقے کی خدمات کرنے کے لیے یہاں کے ہسپتال جس کی بلڈینگ بھی پورا کھرمنگ میں واحد شاندار اور اچھے ہیں جس میں مزید مخلتف ٹسیٹ سہولیات مہیا کریں تاکہ اس منگائی کے دور میں علاقہ کھرمنگ کے عوام کو اسکردو جیسے دور دراز علاقوں میں اپنی علاج کے لیے جانا نہ پڑے آخر میں معرفی فاونڈیشن خصوصا ہسپتال کے میڈیکل آفیسر جناب ڈاکٹرامجدعلی صاحب کو مزید علاقے کے خدمات کرتے رہنے کی توفیق عطا کرے۔۔آمین

بشکریہ اردو کالمز