اچھے لوگ اس دنیا میں نہیں رہتے مگر ان کے کارنامے اس جہاں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور اس دنیا میں رہنے والے لوگوں نے ان کے بہترین کارناموں کو ہر پل یاد بھی کرتےہیں آج اپنا کالم ایک ایسی شخصیت کے نام کر رہا ہوں جنہوں نے خطے کیلئے تاریخ رقم کی جن کو علم وادب شاعری اور سیاست پر بڑی دلچسپی تھی ان کی شاعری اور بہترین اور مثبت سیاست کی وجہ سے آج بھی ہر ایک کے دلوں میں اب بھی زندہ ہیں وہ شخصیت کوئی اور نہیں وہ رشتے میں میرے ناناجان ہیں میرے نانا جناب ماسٹرمحمد تقی نے 1928 میں مہدی آباد سابق پرکوتہ کے ایک علمی وادبی اور سیاسی گھرانے میں آنکھ کھولی انہوں نے اپنی ساری زندگی علم وادب اور تدریس کیلئے واقف کر رکھی تھی علاقے کی سیاست میں بھی حصہ لیتے رہے اور عوامی امنگوں پر پورا اترتے رہے اسی لئے ان کو ایک بہترین سیاستدان بھی مانا جاتا تھا ان کے ادبی خدمات کے حوالے سے لکھنا شروع کروں تو ان کی پہلی اولین کتاب جو انہوں نے پاکستان اور ہندوستان الگ ہونے سے قبل اپنی ہاتھوں سے تحریر جو اس وقت پرینٹنگ مشین موجود نہیں تھی انہوں نے بڑی ہمت کرکے شائع کروا دی ۔ بندہ ناچیز نے اس کتاب کو ڈھنڈنے میں بڑی جستجو کی مگر وہ کتاب نہ مل سکی اس حوالے سے میری جستجو کا سفر ابھی جاری ہے نانا جان نے سرکاری جاب شروع کی اس وقت کرگل زانسکار میں بحیثیت ویکسینٹر محکمہ ہیلتھ میں اپنی خدمات سرانجام دیں جب پاکستان اور ہندوستان الگ ہوا تو اس نوکری کوخیر باد کہہ کر علم وادب سے تعلق جوڑ لیا۔ ۔۔ محکمہ تعلیم میں بحیثیت استاد تعیناتی عمل میں آئی تو سرکای نوکری کے ساتھ ساتھ یہاں علاقے کے لوگوں کے مسائل حل کیلئے ایک سماجی خدمت گار کے طور پر کام عوام میں مقبول رہے سیاسی حوالے سے بھی انہوں نے علاقے میں ایک مقام حاصل کیا۔ اس وقت جب سابق وزیراعظم زوالفقارعلی بھٹو نے گلگت بلتستان میں پاکستان پیلپزپارٹی کی بنیاد رکھی تو آپ بلتستان میں پیلپزپارٹی کے بانیوں میں شامل ہوگئے انہوں نے اپنا گھر پیلپزپارٹی کے دفتر کے طور پر استعمال کیا اوریہاں سے لوگوں کے مسائل حل کرتے رہے اس کے بعد انہوں نے مہدی آباد پرکوتہ کے بازار میں اپنی دکان کو پیلپزپارٹی کھرمنگ کا سیکٹرٹیریٹ بنادیا۔۔ ایک دفعہ جب پاکستان پیلپزپارٹی کے مدمقابل کچھ مفاد پرست لوگوں نے اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کیلئے اور الیکشن میں اپنی کامیابی کی خاطر مذہب کو استعمال کرتےہوئے تحریک جعفریہ کو میدان میں اتارا تو مذہب کے نام پر مخلتف فتوے جاری کئے گئے۔ تحریک مخالف لوگوں کو باقاعدہ مرتد اور سوشل بائیکاٹ کیا اس وقت جب میرے نانا جان کی دکان جوانہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے دفتر کے طور پر استعمال کر رکھی تھی۔ دکان کے چھت پر پیلپزپارٹی کے جھنڈے لگے ہوئے تھے تو مخالف پارٹی نے رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے راتوں رات پیلپزپارٹی کے جھنڈے کو اکھاڑ کے غائب کردیا پھر بھی انہوں نے کسی کو کچھ نہیں کہا حالانکہ اس وقت اس زمانے میں پیلپزپارٹی کی گورنمنٹ عروج پر تھی یہ سب ان کی سیاسی بصیرت تھی پیلپزپارٹی کے جان نثار سپاہی کے طور پر وہ ہر برے وقت میں ساتھ رہے۔ اسی لئے ان کو پارٹی کے اندر بہت عزت بھی تھی 1990 میں مرحوم قربان علی گلگت کے بانیوں میں شامل تھے ان کے اعزاز میں ہائی اسکول مہدی آباد کے گراونڈ میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کیا جس میں پورے جی بی کے لوگوں نے شرکت کیں
مرحوم ناناابوجان نے وہاں کے جلسے میں تاریخی تقریر کرکے محترمہ بینظیر بھٹو اور پاکستان پیلپزپارٹی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اس جلسے کی خبر محترمہ بینظیر بھٹو تک پہنچ گئی تو اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے محترم ناناجان ماسٹرمحمد تقی کو زبردست خراج تحسین پیش کرتےہوئے خط لکھا ۔۔ وہ خط اب بھی راقم کے پاس موجود ہے
میرے نانا جان نے علمی وادبی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے 1998 میں ایک اور کتاب شائع کردی انہوں نے اس کتاب کا نام ارمغان بلتستان رکھا ارمغان بلتستان کی کتاب اس وقت کے وزیرامور کشمیر وگلگت بلتستان جناب عبدالجمیدملک کے نام مسوب کیا امورکشمیروگلگت بلتستان نے اس کتاب کی اشاعت کے لیے امداد بھی کردی اس کے علاوہ اس وقت کے وفاقی وزرا خصوصا سیدہ عابدہ حسین ،جناب مشاہد حسین سید نے بھی ان کی علمی وادبی خدمات کو خوب سراہا
اس کے بعد 2012 میں ان کا انتقال ہوگیا انتقال سے قبل انہوں نے ایک اور کتاب لکھ رہی تھی مگر ان کو موت نے فرصت نہیں دیا میں اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ ان کہ ادھوری کتاب ان کے بیٹے میرے ماموں جان ماسٹرمحمد سکندر مکمل کررہےہیں جو انشااللہ بہت جلد منظرعام پر آئی گئی
میری دعاہے کہ میرے ماموں جان اس مشن میں کامیاب ہوں ۔۔آمین