یہ 1995 کی بات ہے جب ہائی سکول مہدی آباد میں ساتویں کلاس کا طالبعلم تھا، ہائی سکول میں سائنس ٹیچر کی عدم دستیابی کے باعث پورے سکول کے طالب علموں نے سائنس ٹیچر کی تعیناتی کا مطالبہ کردیا سائنس ٹیچر کی تعیناتی کیلئے طلبا سڑکوں پر نکل آئے ۔راقم نے اس احتجاج کی خبر ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو جوڑ کر اپنے ناناابو جان مصنف ارمغان بلتستان حاجی ماسڑ محمدتقی بقید حیات تھے سے اس خبر کی اصلاح لینے کی غرض سے ان کو دکھائی تو انہوں نے اس خبر کی نوک پلک درست کرکے میرے علم میں اضافہ کیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ خبر یوں تحریر کی گئی تھی کہ ہائی اسکول مہدی آباد میں سائنس ٹیچر تعینات کیا جائے اور اس خبر میں میرا نام بطور رپورٹر کے تحریر تھا جسے میں نے گلگت بلتستان کے اولین اخبار اس وقت کے ہفت روزہ اخبار کے ٹو والوں کے ایڈریس پر بائی ڈاک راولپنڈی ارسال کردیا اگلے ہفتے وہ خبر کے ٹواخبار میں بڑے حرف میں شائع ہوچکی تھی اس وقت ڈاک خانے کے ذریعے ارسال کرنے کے علاوہ آج کی طرح سوشل میڈیا انٹر نیٹ یا ای میل کی سہولیات موجود نہیں تھی میری اس خبر پر محکمہ ایجوکیشن اسکردو کے حکام بالا نے ایکشن لیتے ہوئے ایک ماہ کے اندر اندر سکول ہذا میں سائنس ٹیچر کی تعیناتی کیلئے اقدامات اٹھائے۔ میری خبر پر ایکشن کے بعد سکول ہذا میں مکمل طور پر سائنس ٹیچر کی تعیناتی عمل میں لائی گئی علاقے کے اور بھی مختلف ایشوز کو کے ٹو اخبار کی وساطت سے حکام تک پہنچاتے رہے اس کے بعد کےٹو اخبار کے مالک جناب راجہ حسین خان مقپون سے میرے شناسائی ہوئی انہوں نے میری تحریر اور شوق کو دیکھ کر اپنا اخبار کا کھرمنگ کیلئے بطور رپورٹر نامزد کردیا اور اسی طرح کہیں سالوں تک راجہ کے ٹوصاحب کے ساتھ کےٹو اخبار کیلئے کام کرنے کا شرف حاصل ہوا کے ٹو اخبار گلگت بلتستان کا وہ واحداخبار ہے جس کو چھاپنے میں راجہ حسین خان مقپون نے بہت سے مشکلیں اور پریشانیاں برادشت کرلی ہے ایک زمانے میں اخبار کی پشانی پر یہ تحریر لکھی ہوئی تھی سر زمین بے آئین کی آواز جو بڑے حرف میں لکھتے تھے جو کچھ اداروں کو ناگوار گزرا اس تحریر کے جرم میں راجہ صاحب کو مختلف قسم کے سزا کاٹنی پڑی اور جیل کے بھی ہوا کھانا پڑا اس کے علاوہ گورنمنٹ کے کسی ادارے کی اہم شخصیت کی کوتاہی کی نشاندہی کرنے پر ان کو سزا دینے کے علاوہ کے ٹو اخبار کی ڈیکلریشن بھی منسوخ کرڈالی لیکن راجہ حسین خان مقپون ایک حوصلہ مند صحافی تھا ان کی ہمت نہیں ہاری اور اپنا مشن کو جاری رکھنے کا مصمم ارادہ جاری رکھا اسکردو سے جب ان کے اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ ہونے کے فورا بعد انہوں نے ڈی سی گنگچھے سےاین اوسی لینے کیلئے درخواست دی تو اس وقت ڈی سی گا نچھے خپلو کے ایڈمن آفسیر نے اپنے دستخط سے راجہ کےٹو کو فورا این او سی جاری کردیا اور ساتھ ساتھ اخبار کا اجرا جاری رکھا یہ راجہ حسین خان مقپون مرحوم کا باہمت اور باصلاحیت ہونے کا اعلی مثال تھا انہوں نے لاکھ مخالفت کے باوجود بھی اپنا مشن کو جاری رکھا اور اپنے اخبار کے زریعے یہاں کے غریب عوام کی آواز اعلی ایوانوں میں پہنچاتے رہے۔اس کے علاوہ راجہ کے ٹو مرحوم کو اخبار کے اشاعت کی ابتدائی دنوں میں بھی کافی مسلے اور مشکلات پیش آئے بہ قول راجہ کے ٹو جب وہ زندہ تھے تو وہ خود یہ کہانی باربار سنایا کرتے تھے کہ اخبار کی اجرا کے ابتدا میں اس کے پاس اخبار شائع کرنے کے لیے مالی مشکلات تھے شائع کرنے سے پہلے وہ گلگت بلتستان کے ایک سیاسی شخصیت جو خدا کی فضل وکرم سے بقیہ حیات ہے کے پاس اخبار کی اشاعت کے لیے مالی تعاون کے لیے گیاتو انہوں نے اس وقت ایک لاکھ پچاس ہزار روپے جو اس وقت بہت بڑی رقم تھی لیکر آئے اگلے دن سے اخبار کی اشاعت مسلسل جاری رکھا اور اللہ تعالی نے راجہ حسین خان مقپون کو کامیابی عطا کی راجہ صاحب کی محنت کی وجہ سے کے ٹو اخبار آج پورے پاکستان سطح پر اعلی درجے کا اخبار ہے جو اب بھی شان وشوکت سے شائع ہوتارہا ہے یہاں کے غریب عوام کی آواز کو ہر دم بلند وبلا رکھا ہواہے اورآج گلگت بلتستان کو شناخت ملی ہوئی ہے تو مرحوم راجہ حسین خان مقپون اور ان کے ٹواخبار کی مرہومنت ہے میں آج اپنا یہ کالم ان کی بارہواں برسی کے مناسبت میں لکھ رہاہوں اور اس مضمون کی وساطت سے شمالی عوام سے التجا کرتاہوں کی راجہ حسین خان مقپون کا بہت سے ہمارے اوپر احسانات ہیں لہذا ان کے روح کےلیے ایک دفعہ ضرور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کریں آخر میں ان کے لواحقین اور قراقرم پبلشنگ نیٹ ورک گلگت بلتستان کے پوری انتظامیہ سے اظہار ہمدردی کرتاہوں آخر میں میں اپنا اس اشعار جو راجہ حسین خان مقپون کے غم میں لکھےہوئے تھے سے اجازت چاہوں گا۔
ہر دل عزیز شخص تھا سب کو پسند تھا
کے ٹو کی طرح حوصلہ ان کا بلند تھا
جھکتا نہیں تھا وہ کسی ظالم کے سامنے
نہ ہی کسی امیر کا وہ احسان مند تھا۔