234

*پاکستان میں غریب اور امیر کے لیے قانون کے دو الگ معیار کیوں؟*

یہ کافی پرانی بات ہے کہ ایک بار پاکستانی حکومتی وفد ایک سرکاری دورے پر افغانستان گیا جس کی ملاقات افغان سرکاری عہدیداروں سے ہوئی, اس وقت افغانستان میں ریلوے کے نظام کا کوئی وجود نہیں تھا۔ دوران ملاقات افغان کیبنٹ میں ایک وزیر ریلوے بھی موجود تھے۔ ایک پاکستانی وزیر نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ ریلوے ہے نہیں وزیر کیسا؟ تو اسے جواب ملا؛ " یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کے پاکستان میں قانون ہے نہیں جب کہ وزیر ہوا کرتے ہیں "۔ پاکستانی وفد اس برجستہ جواب پر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگا۔ اس واقعہ کے کئی عشروں بعد آج کے حالات دیکھیں تو افغان وزیر ریلوے کی کوششیں تو رنگ لے آئیں کہ آج افغانستان میں ایک بہترین ریلوے نظام موجود ہے, لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں قانون آج بھی صخیم کتابوں اور فائلوں کی شکل میں لائبریریوں اور عدالتوں کی الماریوں اور طاقچوں تک ہی محدود ہے, حقیقت میں اس کا عملی نفاذ آج بھی نہ ہونے کے برابر پے۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ المناک پہلو نہایت توجہ طلب ہے کہ ایک ایسا ملک جو آئینی ذرائع اور قانونی مباحث کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا, آزادی کے بعد کے تئیس چوبیس سال تک "سرزمینِ بے آئین" کہلایا جاتا رہا۔ ایسا نہیں کہ یہاں قوانین نہیں بنے تھے یا اس کے لیے کوششیں نہیں ہوئیں, یہاں بارہا آئین و قوانین کی تخم ریزیاں ہوئیں۔ لیکن اصل مسئلہ ان قوانین اور قواعد پر عمل در آمد کا تھا, جس کے لیے آج تک نہ صرف سنجیدہ کوششیں نہیں ہوئیں بلکہ شعوری طور پر ان کے بنیادی ڈھانچوں میں اتنے جھول اور سقم رکھے گئے کہ وقت پڑنے پر ہر طاقت ور نے اسے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر تروڑ مروڑ کر اپنے گھر کی باندی بنا لیا۔ بدقسمتی سے یہ المیہ شروع دن سے ہی بحیثیت قوم ہمارا مقدر بنا۔ شروع دن سے ہی ہم قانون کی علمداری کے قحط کا شکار رہے, بیرونی دنیا میں پاکستان کے حوالے سے امیر اور غریب کے لئے علیحدہ علیحدہ قانون کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، جو بالکل حقیقت پر مبنی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے کی پاکستان میں نمائندہ "آلیانا نکولیتا" کے بقول پاکستان میں عدم مساوات صرف آمدنی اور دولت تک ہی محدود نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں امیر کی دنیا الگ اور غریب کی دنیا مکمل طور پر الگ ہے۔ اُن کے بقول خواندگی کی سطح ہو یا صحت کے ثمرات، یا پھر رہن سہن کے معیارات، انتہائی امیر اور انتہائی غریب لوگ اپنی الگ الگ دنیا بسائے بیٹھے ہیں۔ یہاں بلاشبہ رنگ نسل زبان قومیت کے نام پر ریاست کے اندر ریاستیں قائم ہیں۔ یہاں سیاسی کلچر, وڈیرہ شاہی، سردار ازم اور جاگیرداری نظام کے درخت نے گہرائی تک جڑیں پھیلا رکھی ہیں۔ جس کا پھل لوٹ مار, ڈکیت گینگ, اغوا برائے تاوان, ٹارگٹ کلنگ، بم بلاسٹ، خودکش حملوں کی صورت میں دہائیوں سے ہم کھا رہے۔ تشدد، قتل و غارت گری, ہڑتالیں، سائبرکرائم، بچوں اور خواتین کی بے ہودہ ویڈیوز، ،جنسی ہراسمنٹ, ،پراپرٹی جرائم، اسلحہ و منشیات جیسے جرائم تو عام اور معمولی سمجھے جاتے ہیں۔ جسمانی تشدد, دہشت گردی، وائٹ کالر کرائمز، سیاسی تعصب و خاندانی دشمنیاں ،نفرت انگیز یا ہیٹ کرائم، کے سامنے موثر قوانین ہونے کے باوجود ریاست بے بس و لاچار نظر آتی ہے۔ بے روزگاری اور غربت کی شرح بے قابو ہے, آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ طاقتور کا کتا بھی فرنشڈ بیڈ رومز میں رہ کر امپورٹڈ کھانے کھاتا ہے اور غریب کی پہنچ بس جھونپڑی میں رہتے ہوئے بچے کھچے یا کچرے کے ڈھیر پر پھینکے ہوئے تک ہی ہے۔ یہاں انصاف اور پولیس کا تمام نظام کرپشن, سفارش، اور کسی بھی چیک اینڈ بیلنس کے بغیر چل رہا ہے۔ گواہان اور عینی شاہدین کو پل صراط جیسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے, جس کی وجہ سے لوگ دن دیہاڑے سرعام واقعات پر بھی چپ سادھ لیتے ہیں اور مجرمان دندناتے پھرتے ہیں۔ نظام انصاف کی عمارت اتنی کمزور اور لرزیدہ کہ باپ کا کیس ہو تو فیصلے کے انتظار میں دو نسلیں دُنیا سے جا چکی ہوتی ہیں اور فیصلہ جا کر پوتا سنتا ہے۔ غریب جیلوں میں پڑے سڑتا رہتا ہے, جب مر جاتا ہے، تو بے گناہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ مطلب کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے۔ یہاں حضرت علیؓ کرم اللہ وجہہ کا قول یاد آتا ہے, فرمایا: " کفر کا نظام تو چل سکتا ہے, ظلم اور زیادتی کا نہیں"۔ آج ہماری سب پریشانیوں کی وجہ اور ہمارے تمام مسائل کی جڑ یہ ہمارا کمزور ناقص بودا اور لولا لنگڑا قانونی نظام ہے۔ جس میں حد درجہ سقم ان گنت اور لاتعداد پیچیدگیاں ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر طاقتور اس کے شکنجے سے بچ نکلتا ہے اور غریب بیچارا رگڑا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بحیثیت قوم سب سے پہلے تو ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ کیا ہمیں اس ملک کو واقعی اس مقام اور سطح پر پہنچانا ہے جس کا خواب آج سے ایک صدی پہلے دیکھا گیا؟ اگر واقعی ہم ایک پائیدار اور مضبوط اسلامی ریاست کی خواہش اور تمنا رکھتے ہیں تو اس نظام کی تمام ناپختہ اور کمزور عمارت کو سرے سے ہی اکھاڑ پھینکنا ہو گا, پھر اس کی جگہ ایک مضبوط مستحکم قانون پر عمل در آمد کرنے والی جدیدیت کے میٹیریل سے تیار عمارت کی بنیاد رکھنا ہو گی۔ ملک میں عدم مساوات, شخصی, نسلی, گروہی اور مذہبی منافرت کے خاتمے کے لیے اجتماعی شعور کی فضا کو پروان چڑھانا ہو گا, آئین و قانون کی عملداری اور اس کے پیچ و خم کو دور کرنے کی کڑوی گولی نگلنی ہو گی۔ اس کا سیدھا سادھا سا اصول نبی مکرم ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا کہ "اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو یقینا ً اسے بھی یہی سزا ملتی "۔ اس کے لیے بلاشبہ محب وطن, ملک و قوم کا درد رکھنے والے باشعور اور باصلاحیت افراد کو آگے آنے کی ضرورت ہے جو اپنے تمام ذاتی انفرادی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک و ملت کے اس درد کو سمجھ سکیں اور حکومتی نظام کو ایمان داری کے ساتھ مؤثر بنانے, عدالتی نظام کی بہتری غربت کے خاتمے کے لیے مخلصانہ کوشسوں کا آغاز کر سکیں۔ ان کی رگوں میں بدلے و انتقام کے بجائے جمہوری قوتوں کے درمیان ربط ضبط اور اتحاد و ارتباط کا خون دوڑ رہا ہو۔ اگرچہ ان موجودہ حالات میں یہ سب ممکن نظر نہیں آتا, کیونکہ اس وقت ہر کوئی اپنے مخالف کا تیا پانچہ کرنے کے در پے ہے, لیکن بحرحال یہ سب ناممکنات میں سے نہیں۔ یہ الیکشن کا موسم ہے, اور اگلے کئی سالوں کے لیے اس ملک کی باگ ڈور تھمانے کا وقت ہوا چاھتا ہے۔ ایسے میں ہر باشعور شہری جو اس تمام بوسیدہ نظام سے اکتا چکا ہے, اسے چاھیے کہ اپنے ضمیر اور ظرف کے مطابق اپنے حصے کا دیا جلائے۔

بشکریہ اردو کالمز