یہ مٹی بڑی زرخیز ہے۔ اس نے بڑے بڑے لعل و گہر پیدا کیے ہیں۔ ارشد ندیم کا عالمی سطح پر ملک و قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے فن اور ہنر کے کمال کا ڈنکا بجانے والا یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں, اس سے پہلے بھی عالمی میدانوں میں سرسبز ہلالی پرچم کی دھاک بٹھانے والے اس قوم کے بیٹے موجود رہے ہیں۔ چشم فلک نے ایک وقت وہ بھی دیکھا جب بیک وقت پاکستان چار عالمی کھیلوں کا حکمران تھا۔ ان میں ہاکی اور اسکوائش تو ایسے کھیل تھے کہ جن میں پاکستان ٹائٹلز اور میڈل لینے کا اتنا عادی ہوچکا تھا کہ عالمی گلی کوچوں سے یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ ان کھیلوں کے فارمیٹس تبدیل کیے جائیں تا کہ غیر پاکستانیوں کو بھی ان میں آگے آنے کے کچھ مواقعِ میسر ہوں۔ خصوصاً سکواش میں تو اکثر یوں ہوتا کہ عالمی سطح پر فائنل بھی اکثر دو پاکستانیوں کے درمیان ہی ہوتے, جہانگیر خان اور جان شیر خان کو اس سلسلے میں کون بھول سکتا ہے, جن کا نام لیتے ہوئے آج بھی گورے نظریں جھکا لیتے ہیں۔ ان دنوں یہ افواہیں تک سننے کو ملیں کہ اولمپک کمیٹی اسکواش کے کھیل کو اولمپک گیمز کا حصہ اس لیے نہیں بنارہی کیونکہ صرف پاکستانیوں نے ہی اس کو جیتنا ہے۔
پھر یوں ہوا کہ کچھ ارباب اقتدار کی کم نظری اور کچھ پاکستانی عوام کی بے خبری نے باقی تمام کھیلوں سے دھیان اور توجہ ہٹا کر صرف کرکٹ کو ہی ایک ایسا پلا ہوا سانڈ بنا دیا جو باقی تمام دودھ دینے والے مال مویشیوں کا چارہ اکیلے کھانے لگا, آپ ذرا کھیلوں کے سالانہ بجٹ سے صرف کرکٹ کا حصہ نکال کر دیکھیے, آپ کے چودہ طبق نہ روشن ہوئے تو کہنا کہ کرکٹ کو کیا دیا جا رہا اور باقی سب کو کیا۔۔۔اس PCB نامی سانڈ کے علاوہ باقی تمام کھیلوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں والا سلوک ہوا اور وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دبلے پتلے مریل اور یہاں تک کہ قریب المرگ ہو کر کے پردہ سکرین سے ہی غائب ہو گئے۔ آج حال یہ ہے کہ بیک وقت چار عالمی کھیلوں کی بے تاج بادشاہ قوم " کھسروں کے گھر منڈا پیدا ہونے والے" ری ایکٹ پر مجبور ہے۔
خیر ارشد ندیم نے آج ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی ہے۔ اس کی جیت عشروں سے کھیل کے میدانوں میں خوشی کو ترسی ہوئی قوم کے لیے خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے۔ اب ارشد ندیم نے تو اپنا کام کر دیا لیکن بحیثیت قوم ہمیں اور ہمارے ارباب اختیار کو یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف کرکٹ کے ہی کنویں میں ٹر ٹر کرنے کے علاوہ بھی ایک دنیا ہے۔ جس میں ہمیں خود کو منوانا ہے اور بلاشبہ منوایا بھی ہے۔ بس ذرا ترجیحات کا رخ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے اس پلے پوسے موٹے فربہ سانڈ کا کیا کرنا جو اپنے میدان میں امریکہ جیسی گائے کے نومولود بچھڑے سے بھی بری طرح پِٹ کر آ جائے, اسے مزید کِھلا پلا کر اس کی چربی اور بڑھانے کے بجائے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ باقی دودھ اور گوشت کی پیداوار دینے والے مال مویشیوں کی افزائش نسل کی جائے۔
ارشد ندیم کے گولڈ میڈل پر یوں پذیرائی دیکھ کر اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ عوام کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیل دیکھنا چاہتے ہیں۔ عالمی میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا چاھتے ہیں۔ جب کہ سب کچھ ہے صرف ہمت اور کوشش کی ضرورت ہے۔ یہ صدی ایجادات کی صدی ہے, تیکنیکس اور مہارت کی صدی ہے۔ وسائل و اسباب کے استعمال کی صدی ہے, کھلاڑیوں کو جدید سہولیات مہیا کریں, پیسہ لگائیں، بہترین کوچز اور نت نئی تیکنیکس سے روشناس کروائیں تو کچھ ایسے اتھلیٹس، کچھ ہاکی کے ایسے کھلاڑی، کچھ باکسر، ویٹ لفٹر مل ہی جائیں گے جو اگلے اولمپک میں نہ سہی اس سے اگلے یا اس سے بھی اگلے میں کچھ بڑا کر جائیں۔
ہر وقت رونے دھونے کی عادت چھوڑیں, یہ ہمہ وقت مایوسی اور قنوطیت پھیلانے والے دانستہ یا نادانستہ ملک دشمنوں کے ایجنڈے پر ہیں۔ شخصیت پرستی میں یا اپنے ملک و قوم کے خلاف بولنے لکھنے والوں کی ایک نہ سنیں, ہمیں ایک عظیم قوم بننا ہے۔ یہی کشتی تھی, یہ کشتی ہے۔ یہی ملاح تھے, یہی ملاح ہیں۔ سمندر بہت بڑا ہے۔ فاصلہ بھی زیادہ, رستہ بھی کٹھن, بس مثبت سوچ اور نیک نیتی کی ضرورت ہے۔ منزل ضرور ملے گی۔ سو آغاز کریں, کہیں نہ کہیں سے کبھی نہ کبھی تو ترقی کا سفر شروع کرنا ہی ہو گا تو کیونکہ نہ یہیں سے آج سے ہی کر دیا جائے۔