دو دن پہلے سٹیزن پورٹل کے دو سال مکمل ہونے کے بعد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترم وزیر اعظم پاکستان نے عوام کو ایک بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا کہ آج کے بعد "کوئی اے سی ڈی سی آپ سے پیسے مانگے تو آپ نے اس ایپ کے ذریعے ہمیں بتانا ہے اور پھر ہمارا کام ہے کہ ہم اس سے نمٹیں گے"۔
یہاں غالب کا ایک مصرعہ یاد آ گیا " اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا" کیا ہی بھولے ہیں وزیر اعظم صاحب, یا پھر کچھ پتا ہی نہیں, یا پھر یہ سیدھی سادھی عوام ہی بدھو, مورکھ اور احمق ہے جو ہر ایسی خوشخبری پر ناچنا گانا شروع کر دیتی ہے۔۔۔حضور! جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ " یہ پیسے اے سی, ڈی سی یا تھانیدار نہیں مانگتا۔۔۔ یہ پیسے سسٹم مانگتا ہے, یہ پھسپھسا, فرسودہ اور گھسا پٹا اداروں کا نظام اور دستور پیسے مانگتا ہے۔ جہاں ایک چپڑاسی کو سو روپے کا نوٹ دے کر بڑے صاحب سے ملنے کا رواج ہو وہاں کئی کئی گھنٹے باہر بینچوں پر انتظار کون کرتا ہے؟ جہاں مٹھی گرم کرنے والی چابی سے ہر تالا باآسانی کھلنے کا شارٹ راستہ موجود ہو, وہاں ہفتوں اور مہینوں کا سفر کون کرتا ہے؟ اور جہاں "چائے پانی" کا استعمال ہماری رگ رگ اور گھٹی تک میں پڑا ہو وہاں کسی اے سی, ڈی سی یا تھانیدار کو پیسے مانگنے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ جناب والا! یہاں تو پیٹوں کا ایندھن آٹا اور چینی تک لائنوں میں کھڑے ہو کر لینا پڑتا ہے, اور اس ذلالت اور خواری سے بچنے کے لیے ایم پی اے, ایم این اے سے فون کروانا پڑتا ہے۔ یہاں تو 50 روپے میں 500 کا ٹریفک چالان رک جاتا ہے۔۔۔اور بعض اوقات تو ایک پولیس کانسٹیبل کو ایس پی اور ڈی ایس پی آفس سے فون کروا کر وہ پچاس سو بھی بچا لیا جاتا ہے۔ عالیجاہ! یہاں بھوک سے بلکتے غریب اور بیماریوں سے گلتے سڑتے مریض کو "سٹیزن پورٹل" کا یہ نام اپنی زبان سے بولنا تک بھی نہیں آتا, کجا کہ وہ اس پر شکایت لکھے, اور اگر کہیں سے مر مرا کر لکھوا بھی لے تو اتنے ماہ و سال انتظار میں کہاں گزارے گا ؟ معاف کیجیے حضور! یہ پورٹل ممی ڈیدی طبقے کے لیے ضرور فائدہ مند ہے, جن کو سوٹڈ بوٹڈ دیکھ کر ویسے بھی کہیں کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا, اگر کوئی آۓ بھی تو وہ ہینڈل کرنا جانتے ہیں, وہ سٹیزن پورٹل پر کئی کئی ماہ تک انتظار کی کیفیت سے بھی گزرنے کی اہلیت رکھتے ہیں, لیکن وہ مزدور کیا کرے جو 700 کی دیہاڑی گنوا کر اور کسی سے کرایہ مانگ کر دوردراز شہروں میں سارا دن دفاترز کے دھکے کھاتا ہے اور جسے کسی چھوٹے سے صاحب کا کوئی چپڑاسی بھی منہ نہیں لگاتا اور جا بجا دھتکارتا ہے۔ قبلہ! یہاں تو سرکاری ہسپتالوں میں مفت مرنا بھی آسان نہیں ہے, اس کے لیے بھی کسی ڈاکٹر کے اٹینڈنس کے گھنٹے پکڑنے پڑتے ہیں یا پھر وہی مٹھی گرم فارمولا لگانا پڑتا ہے۔
گستاخی معاف, حضرت! ایسی جدّت لانے کے لیے پہلے نظام میں بھی جدّت لانا پڑتی ہے۔ نئے قوانین بنانا پڑتے ہیں, برسوں کے گھسے پٹے عادات و اطوار خود چھوڑنا اور چھڑوانا پڑتے ہیں۔ کمزور اور نحیف و نزار اداروں کے گھوڑوں کو خلوص اور توجہ سے کھلا پلا کر موٹا فربہ اور تنومند بنانا پڑتا ہے۔ انہیں میرٹ اور شفافیت کا امرت پلانا پڑتا ہے۔ پھر اس کا کریڈٹ بھی ملتا ہے, اور پھر آپ کو اپنی اعلیٰ کارکردگی کے دعوے بھی نہیں کرنا پڑتے, اور بار بار ایسی خوشخبریاں سنانے کی نوبت بھی نہیں آتی, اور آپ پر ناکامی اور نااہلی کا لیبل بھی نہیں لگتا۔
مہاراج! آپ اپنے قول و فعل میں تضاد ختم کر دیجیے, اور اپنے ازلی وعدے سٹیٹس کو, افسر شاہی, اقرباء پروری جیسی لعنتوں سے خود کو بھی بچا لیجیے, اور اپنوں کے لیے بھی ایمان داری کی شرط لاگو کیجیے, پھر اس پر خلوص نیت سے کاربند رہیے, تو یقین مانیے کسی اے ڈی سی اور تھانیدار کو رشوت مانگنے کی جرأت کبھی نہیں ہو گی۔ لیکن اگر آپ خود میرٹ کے بخیے ادھیڑ کر سب سے اوپر اپنے ذاتی دوستوں کو بٹھائیں گے اور جہازوں پر لادے گئے پیسوں کے عوض اپنے ساتھ ملائے گئے اپنے کرم فرماؤں پر سب کچھ نچھاور کرتے رہیں گے تو پھر معاف کیجیے گا حضور! آپ کی یہ نام نہاد تبدیلی بھی نئی بوتل میں پرانی شراب کے مصداق رنگ بازی ہی کہلائے گی۔