453

"دیسی مزاج اور بدیسی سماج, آخر کب تک؟ 

  کچھ دن پہلے اسلام آباد میں موجود ایک کیفے کی مالکان دو خواتین نے اپنے ہی کیفے مینجر کے ساتھ تضحیک آمیز سلوک کی ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال دی, جو خوب وائرل ہوئی, اس ویڈیو میں انگریزی لب و لہجے میں رعونت و نخوت کا شکار دونوںخواتین اپنے کیفے کے منتظم و مہتمم ایک نوجوان شخص کو اپنے پاس بلا کر اس سے انگریزی زبان میں بات کرتی ہیں اور جواب میں اس نوجوان منتظم کی انگلش بولتے ہوئے گرائمر میں اغلاط پر خوب ٹھٹھہ, مخول اور تمسخر اڑاتی ہیں۔ جس کی مقصدیت میں بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنی علمی دھاک بٹھانا اور دانستہ یا نادانستہ انگلش بول چال اور لب ولہجے  میں مہارت کو ایجوکیٹڈ, تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھا ہونے سے تعبیر کرنا تھا۔  

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہمارے ایک ماسٹر غلام مصطفی صاحب (مرحوم) اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس کی نعمتوں سے سرفراز فرمائیں ( آمین), سکول دور میں ہمیں انگلش کا نصاب پڑھایا کرتے تھے, اور اکثر دورانِ کلاس ہمیں کچھ اس طرح سے سمجھایا کرتے؛  " بیٹا دل لگا کر انگلش سیکھو, اس کے بغیر اب چارہ نہیں, آنے والے وقتوں میں یہ زبان صرف ان پڑھ اور جاہل کے درمیان تفریق ہی نہیں کیا کرے گی, بلکہ اسے نہ سیکھنے والے بھوکے ننگے ہو کر مریں گے بھی۔۔" اکثر کہا کرتے کہ ؛ "انگریز خود تو چلے گئے لیکن اپنی غلامی کا یہ پٹہ ہمارے گلے میں ہی چھوڑ گئے, جسے ہم اتارنے کو تیار نہیں, لہذا اب یہ ہم سب کی مجبوری بن چکی , اس پٹے کو خوب چمکا کر رکھا کرو, تاکہ یہ لش لش کرتا رہے, ورنہ یقین کرو بہت پیچھے رہ جاؤ گے"

اس وقت تو ہم ماسٹر صاحب کی ان بے تکی باتوں پر خوب ہنسا کرتے, اور شاید سمجھتے تھے کہ یہ سب ماسٹر جی کی رگِ ظرافت کا کمال ہے, لیکن بخدا اس ویڈیو میں کیفے مینیجر کے خجالت اور ندامت زدہ چہرے اور کیفے مالکان کے گلے میں چمکتے دمکتے اس لش لش کرتے انگریزی پٹے کو دیکھ کر آج یہ عقدہ وا ہو چکا کہ ماسٹر جی سچ کہا کرتے تھے, ہم واقعی بہت پیچھے رہ گئے ہیں, اتنا پیچھے کہ اسلام آباد کے پوش ایریا میں 9 سال سے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایک جدید اور ماڈرن کیفے چلا کر بھی جگ ہنسائی ہمارا مقدر ٹھہرتی ہے۔ 

شاید یہ احساس کمتری کا اثر ہے یا پھر بحیثیت قوم غلامانہ روش ہمارے جسم و جاں میں اس قدر رچ بس چکی ہے کہ ہم کسی انگریز کو تو ٹوٹی پھوٹی اردو بولتا دیکھ کر فخر محسوس کرنے لگتے ہیں اور کئی بار تو حیرت و استعجاب سے ہم عش عش بھی کر اٹھتے ہیں کہ دیکھیں جی انگریز ہو کر کمال اردو بول رہا ہے۔ حالانکہ ہو سکتا ہے وہ گرائمر کے لحاظ سے اردو کی ٹانگیں توڑ رہا ہو, اور اگر اس وقت کوئی اردو دان اس کی گرائمری غلطیاں نکالنے بیٹھ جائے تو ایک سو ایک اغلاط نکال دے۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے فرط و انبساط کے سوتے پھوٹنے لگتے ہیں, اور ہم اسے رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں, لیکن یہاں اگر دیسی مزاج کا کوئی شریف آدمی بدیسی زبان میں گرائمری غلطی کر بیٹھے تو فوراً ہمارے کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور دیدے پھاڑے اسے ایسے دیکھنے لگتے ہیں کہ جیسے کسی اور سیارے کی کوئی اور ہی مخلوق ہو, اور پھر یہی نہیں اس کی ہر طرح کی قابلیت, صلاحیت, لیاقت و استعداد کے باوجود اس کی تعلیم و تعلم پر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے۔ 

اس حقیقت سے کچھ انکار نہیں کہ ہر طرح کے  دنیاوی و عصری علوم میں مہارت کے لیے انگریزی سے واقفیت اور اس میں مہارت ضروری ہے, اور بلاشبہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے اسے سیکھنا بھی ناگزیر ہے, لیکن اس کو جنون کی حد تک اپنی سماجی و نجی زندگیوں میں اس قدر اہمیت دینا اور اس سے مرعوبیت اور احساس کمتری کا شکار ہو کر اسے اپنے سروں پر سوار کر لینا یقیناً ذہنی و فکری غلامی کی بہت اعلیٰ مثال ہے۔

 دنیا کی معلوم دس ہزار سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں شاید ہی کوئی قوم ایسی ہو جس نے اپنی مادری زبان کو چھوڑ کر اوروں کی کسی زبان میں ترقی کی ہو, یا کسی اور کے تہذیبی و ثقافتی رنگ میں رنگ کر رفعت و بلندیوں سے آشنا ہوئی ہو, کیونکہ بلاشبہ کسی بھی خطے یا علاقے کی زبان کا  بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق اس کرہ ارض کے کسی حصے پر بسنے والوں کی تہذیب و ثقافت, رسوم و راوج اور رہن سہن کے انداز و اطوار سے بھی ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم دیسی مزاج کے حاملین اس بدیسی سماج کو قبول نہیں کر پاتے اور نتیجے میں ایسے کمپلیکس کا شکار ہو کر ایسی الٹی سیدھی اوچھی حرکتیں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں, یہ واقعہ جس کی ایک تازہ مثال ہے۔

 شاید ہمیں یہ سمجھنے میں ابھی بھی وقت لگے گا کہ تعمیر و ترقی کے اس دور جدید میں  بین القوامی سطح پر بھی یہ اصول پختہ ہو چکا ہے اور دنیاوی ترقی کے ماہرین علوم و فنون بھی اس حقیقت کو اب مان چکے ہیں کہ جس کی جو مادری زبان ہے، اسی زبان میں اس کی سب سے اچھی تعلیم وتربیت ہو سکتی ہے اور اسی کے ذریعہ اس کے ذہن اور دماغ میں علم و شعور کی روشنی سب سے مؤثر طریقے سے پھیلائی جا سکتی ہے۔ اور بلاشبہ مغربی جمہوریت کے علمبردار بھی جمہوریت کے اس  مسلمہ اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہرشخص کو اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے، اس کو برتنے اور استعمال کرنے، اس میں لکھنے پڑھنے کا حق حاصل ہے, کیونکہ یہ انسان کے بنیادی حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اور اس کی عمدہ مثال دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسا کہ چین, جاپان, فرانس, جرمنی اور ترکی ہیں جنہوں نے اپنی مادری زبانوں کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر ترقی کی تمام منازل طے کیں, اور آج دنیا ان کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کر رہی ہے, تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج ہم انگلش سے اس قدر مرعوب اور متاثر ہو چکے ہیں کہ اسے کامیابی و لیاقت کا معیار گرداننے لگے ہیں۔ اور اس پر عبور نہ حاصل کر سکنے کو نالائقی اور کم علمی کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔ اور انگریزی زبان کے ایک ایسے خبط اور جنون میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ اس کے سوا ہمیں ہر کہیں بے علمی, جہالت اور گنوار پن کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں۔ کاش کہ یہ علمی شدت ہماری میٹھی رسیلی قومی زبان اردو کے متعلق ہوتی۔۔۔۔

 بلاشبہ ہمیں اب اس آدھے تیتر اور آدھے بٹیر والی کیفیت سے نکلنا ہو گا کیونکہ دنیا میں ہمارا اپنا ایک مقام ہے, ہمارا اپنا مزاج, سماج اور تہذیب و ثقافت کا اپنا ایک الگ انداز ہے, جسے ہمارے اسلاف نے بطور ورثہ ہمارے لیے چھوڑا ہے۔ اگر کسی کو اس ورثے کا مان, آبرو اور لاج کا خیال نہیں تو پھر یقیناً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوسروں سے مستعار لیے ہوئے راستوں سے کٹھن منزلوں کا سفر کیسے ممکن ہے؟ اور پھر  ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں ان بدیسی بیساکھیوں کا سہارا آخر کب تک لیتے رہیں گے, اور کیا ایسے سہاروں پر فخر کیا جانا چاھیے؟

بشکریہ اردو کالمز