اداروں کو کارکردگی بحال رکھنی ہوگی

امن عامہ قائم رکھنے والے تمام اداروں نے ملک بھر میں محرم الحرام کے دوران بہترین حفاظتی اقدامات اپنائے تھے جن کی وجہ سے ملک میں کسی بھی جگہ اب تک  کوئی نا خوشگوار واقعہ نہیں ہواجس کے لئے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں‘خدا کرے کہ یہ ماہ امن و آشتی سے اسی طرح گزر جائے‘بہرحال چہلم تک امن و عامہ سے متعلق اداروں کو چوکس رہنا ہوگا۔ ان ابتداہی سطور کے بعد تازہ ترین عالمی اور قومی سطح کے واقعات پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا بے جا نہ ہوگا،اگلے روز ملک میں  دو ایسے دل خراش واقعات رونما ہوئے جن سے ایک مرتبہ پھر ٹریفک پولیس اور لوکل گورنمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشاں اٹھ گئے۔کوٹ ادو کے قریب ٹریفک کے ایک حادثے میں کئی قیمتی جانیں لقمہ اجل ہو گئیں‘حادثہ تیز رفتاری کے
 باعث رونما ہوا ہمیں یہ لکھنے میں کوئی  باک نہیں کہ خالی خولی جرمانہ لگانے سے بات نہیں بنے گی وقت آ گیا ہے کہ مقننہ قانون میں ترمیم کر کے اس میں یہ شق بھی شامل کر لے کہ  تیز رفتاری کے مرتکب ڈرائیور کا ڈرایونگ لائسنس  تا حیات کینسل ہو گا۔ کراچی میں  اگلے روزایک بوسیدہ عمارت کے گرنے سے کئی لوگ جاں بحق ہوئے اس ضمن میں میونسپل ادارے کے متعلقہ اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے  میں کھڑا کیا جائے کہ جن کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں واقع ٹوٹ پھوٹ کی  شکار  عمارتوں کو کسی قسم کے  استعمال کے لئے کسی کو بھی اجازت نہ دیتے‘ وطن عزیز کے کئی شہروں میں اس قسم کی عمارتیں موجود ہیں جو متعلقہ لوکل گورنمنٹ کی نظروں سے اوجھل ہیں اور جو کسی بھی وقت کسی جان لیوا حادثے کا  شکار ہو سکتی ہیں‘یہ خبر تشویش ناک ہے کہ پاکستان عنقریب دنیا کا پندرہواں وہ ملک بن جائے گا کہ جو پانی کی کمی کا شکار ہے‘ متعلقہ حکام کو اس ضمن میں بارش کا پانی سٹور کرنے کیلئے  ٹھوس منصوبے بنانے ہونگے۔

 

بشکریہ روزنامہ آج