20 مارچ 2003 کو جب دوسری خلیجی جنگ شروع ہوئی، تو اس سے بس تین ماہ قبل ہی پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بطور غیر مستقل رکن اپنی مدت کا آغاز کیا تھا۔ یعنی سر منڈواتے ہی اولے پڑ گئے تھے۔ چونکہ اس جنگ کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا تھا، پاکستان کی پوزیشن نازک بنی ہوئی تھی۔ ایک طرف وہ عالمی دہشت گردی سے نپٹنے اور افغانستان میں جاری کاروائیوںمیں امریکہ کا حلیف تھا، دوسری طرف اپنے حلیف کی طرف سے ایک مسلم ملک پرجارحیت اور قبضہ ہوگیا تھا۔ اس نازک صورت حال کی وجہ سے پاکستان کے مندوب منیر اکرم نے اسلام آباد میں وزارت خارجہ سے موقف جاننے کیلئے رجوع کیا۔ جب وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے صدر پرویز مشرف سے ہدایات طلب کیں تو بتایا جاتا ہے کہ صدر نے کہا کہ پاکستان کو موقف اختیار کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرنی چاہئے۔ ان کے مطابق یہ بڑی طاقتوں کے معاملات ہیں، پاکستان ، جس کے اپنے معاملات دگرگوں ہیں، کوآخر ان سفارتی الجھنوں میں الجھنے کی ضرورت نہیں ہے؟ مگر جب ان کو یاد دلایا گیا کہ پاکستان اس وقت سلامتی کونسل کا رکن ہے، اس لئے اس کو ووٹنگ کرنی ہے، جس کیلئے واضح سفارتی موقف اختیار کرنا ہے۔ تو بتایا جاتا ہے کہ مشرف پہلے تو بگڑ گئے اور پوچھا کہ پاکستان کو دنیا کی اس اعلیٰ ترین میز پر بیٹھنے کی کیا ضرورت تھی؟ خیر بعد میں پاکستان نے نہایت محتاط، قانونی اور کثیرالجہتی اصولوں پر مبنی موقف اختیار کیا۔ پاکستان نے امریکہ کی قیادت میں ہونے والے یکطرفہ حملے کی حمایت نہیں کی اور اسے بین الاقوامی قانون کے لیے نقصان دہ قرار دیکر حملہ کو اقوامِ متحدہ کے دائرہ کار سے باہر اقدام قرار دیا۔ یہی کچھ صورت حال اس وقت بھارت کے سامنے درپیش ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس وقت اسرائیل کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی اورمغربی ایشیاء میں اپنی قومی و انرجی سلامتی کے تحفظ کے بھنور کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے اپنے آپ کو گلوبل ساوتھ کا لیڈر اور وشو گورو کا لقب دینے کے بعد خاموشی مصلحت نہیں، بلکہ دنیا کی لیڈرشپ کے دعوے سے دستبرداری بن گئی ہے۔ گو کہ بیشتر اپوزیشن پارٹیاں اور سابق سفارت کار اس خاموشی پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، کانگریسی لیڈر ششی تھرور، جنہیں طویل عرصے تک بھارت کے سب سے زیادہ عالمی سطح پر معروف اور منجھے ہوئے سفارت کاروں میں شمار کیا جاتا رہا ہے، نے اپنی پارٹی کے موقف سے ہٹ کر نئی دہلی کی اس نام نہاد ’’ذمہ دارانہ‘‘ خاموشی کا دفاع کیا ہے۔ تھرور کا یہ موقف نہ صرف حیران کن ہے بلکہ زمینی حقائق سے بھی مکمل طور پر میل نہیں کھاتا ہے۔ سفارت کاری کا ایک ادنی سا طالب علم بھی بتا سکتا ہے کہ یہ کوئی ایسا دور افتادہ تنازع نہیں ہے جسے بھارت محض ایک تماشائی بن کر دور سے دیکھتا رہے۔ یہ آگ براہِ راست بھارت کے تزویراتی ، توانائی، معاشی اور مغربی ایشیاء میں مقیم کروڑوں بھارتیوں کے مفادات کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب بھارت دنیا کے سامنے خود کو 'گلوبل ساؤتھ' کی آواز اور ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کا دعویدار ہے، وہاں اس طرح کی خاموشی مصلحت یا تدبر نہیں، بلکہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار اور 'دستبرداری ہے۔ جس ملک نے 2023 میں جی-20 سربراہی اجلاس کی میزبانی بڑے طمطراق اور ’’وسودھائیو کٹمبکم‘‘ یعنی تمام انسانیت ایک ہی خاندان کا حصہ ہے، کے نعرے کے ساتھ کی ہو، اس کے پاس اتنا سفارتی سرمایہ اور پلیٹ فارم موجود تھا کہ وہ اس خونی کھیل کو رکوانے کے لیے جی-20، برکس یا دیگر کثیر جہتی فورمز کا ہنگامی اجلاس طلب کرسکتا تھا۔ نئی دہلی یا نیویارک میں عالمی طاقتوں کو دستک دے کر فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنا وقت کی اہم ترین ضرورت تھی، مگر مصلحت پسندی کے پردے میں یہ موقع گنوا دیا گیا۔ بھارت کے سابق قومی سلامتی مشیر اور منجھے ہوئے سفارت کار شیو شنکر مینن، جو عام طور پر حکومتی پالیسیوں پر سرِ عام تنقید سے گریز کرتے ہیں، اس بار وہ بھی خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ حالیہ انٹرویو میں ان کے لہجے کی تلخی صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔ مینن نے نئی دہلی کی خاموشی کو ایک "خطرناک روایت" قرار دیتے ہوئے کہا:"ہماری خاموشیاں اور ہمارے اقدامات، سچی بات یہ ہے کہ بالکل ناقابلِ فہم ہیں۔ ایک ایسے ملک کے سربراہ کے قتل پر، جسے آپ باقاعدہ تسلیم کرتے ہوں اور جو آپ کے پڑوس میں واقع ہو، ایک لفظ بھی نہ کہنا نہ صرف سفارتی کوتاہی ہے بلکہ یہ 'ناقابلِ معافی' ہے۔ یہ ایک ایسا پیٹرن بنتا جا رہا ہے جو بھارت کی اس 'آزاد خارجہ پالیسی' کی بنیادیں ہلا رہا ہے جس پر ہمیں کبھی فخر تھا۔" مینن کا یہ تجزیہ محض جذباتی نہیں بلکہ خالصتاً تزویراتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب آپ اصولی موقف سے پیچھے ہٹتے ہیں، تو آپ اپنی عالمی اخلاقی برتری کھو دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر ہم آج ایران کے معاملے پر خاموش ہیں، تو کل کو جب ہمارے اپنے مفادات پر زد پڑے گی، تو ہم کس بنیاد پر دنیا سے حمایت کی توقع رکھیں گے؟"۔ 1979 میں جب چین نے ویتنام پر حملہ کیا۔ اس وقت بھارت کے وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپائی بیجنگ کے سرکاری دورے پر تھے۔ جیسے ہی انہیں اس حملے کی خبر ملی، انہوں نے اپنے تمام شیڈول منسوخ کر دیے، اپنا دورہ مختصر کیا اور احتجاجاً فوراً وطن واپس لوٹ آئے۔ اس ایک فیصلے نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بھارت اپنی اقدار اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا، چاہے میزبان کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔مودی حکومت کے پاس اس سے بھی بہتر موقع تھا۔ اسرائیل کے ساتھ اس کے کھلے چینلز اور تل ابیب میں اپنے اثر و رسوخ اور تزویراتی وزن کی بدولت، نئی دہلی اپنی پوزیشن کو جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔ لیکن اس کے برعکس، حکومت نے ایسی احتیاط برتی جو بزدلی کی سرحدوں کو چھو رہی ہے۔ بحران کے وقت عالمی قیادت خاموشی سے نہیں، بلکہ عمل سے ثابت ہوتی ہے۔ مغربی ایشیا کے معاملے پر ہندوستان اب تک اس امتحان میں ناکام نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نئی دہلی میں شاید یہ خاموش اتفاق رائے تھا کہ امریکی اور اسرائیلی حملے ایرانی حکومت کو دنوں میں گرا دیں گے۔ تہران میں حکومت کی تبدیلی کے خواب دیکھنے والوں نے ایران کی تاریخ اور اس کے عوام کی 'صبر و تحمل' کی طاقت کو فراموش کر دیا۔سریناتھ راگھون، جو ایک مایہ ناز مورخ ہیں، اس نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں:بھارتی حکومت نے ایران کی اس صلاحیت کو بہت کم تر سمجھا کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود نہ صرف کھڑا رہے گا بلکہ جوابی وار بھی کرے گا۔ (جاری ہے)
43