صدر رجب طیب اردوان نے اس بحران کے دوران انقرہ کو ثالث کے طور پر پیش کرنے کی سعی کی۔ ساتھ ہی اب دفاعی منصوبہ ساز ترکی کی فوجی جدید کاری کی رفتار بڑھانے، میزائل نظام کو اپ گریڈ کرنے اور اسٹیلتھ فائٹر پروگرام کو تیز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔اس جنگ کے ابتدائی دنوں میں انقرہ نے خاموشی سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطہ کار کے طور پر کام کیا۔ اردوان نے جون کی 14 اور 15 تاریخ کو دو بار ٹرمپ سے بات کی اور پھر 16 جون کو ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے گفتگو کی۔ خطے کے دیگر رہنماؤں سے بھی انقرہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے کیے۔تجزیہ کار سونر چاغاپتے کے مطابق اردوان ٹرمپ کے ساتھ اپنی قربت کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔اسلئے اسلامی تنظیم کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے اعلامیہ میں اسرائیل کی مذمت تو کئی گئی، مگر امریکہ کا نام نہیں لیا گیا۔ چاغاپتے کے بقول گزشتہ دہائی میں مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی پر ترکی کا اتنا نرم لہجہ کبھی نہیں رہا ہے۔ اس کی وجہ اردوان اور ٹرمپ کے درمیان ذاتی کیمسٹری بتائی جاتی ہے۔ انقرہ کی اصل تشویش ایک اور مشرق وسطیٰ کے ہمسایہ ملک میں شام اور عراق کی طرح عد م استحکام کا خطرہ تھا، جہاں طاقت کے خلا نے شدت پسند جہادیوں اور PKK کے عناصر کو ترکیہ پر حملوں کا موقع دیا۔اسرائیل اور ایران کے تنازع کا ایک فوری اثر یہ ہوا کہ ترکیہ کی دفاعی حلقوں میں خطے میں اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کی تیاری اور لچک پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ اسرائیل کی برق رفتاری اور جدید حربوں کے بعد اب ترک ماہرین متفق ہیں کہ ملک کو اپنے جدید اسٹیلتھ فائٹر ''MMU Kaan''، اسٹیل ڈوم ایئر اور میزائل دفاعی نظام، اور میزائل ہتھیاروں کے ذخیرے پر مزید سرمایہ کاری کرنی ہو گی۔ترکی کا اسٹیل ڈوم ایک جدید فضائی دفاعی نظام ہے جو میزائلوں، ڈرونز اور طیاروں جیسے فضائی خطرات کو مختلف فاصلے اور بلندی پر روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگست 2024 میں اردوان نے اس کا اعلان کیا تھا اور اکتوبر 2024 میں اس کا اہم جزو ''سیپر بلاک-1'' فعال ہو چکا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام ابھی مکمل آپریشنل نہیں ہوا۔دفاعی تجزیہ کار کوزان سلچوق ارکان نے کہا کہ ترکی کو نہ صرف یہ نظام تیزی سے مکمل کرنا ہوگا بلکہ AWACS طیارے خریدنے ہوں گے اور سیپر ایئر ڈیفنس کے کم از کم آٹھ یونٹ بنانے ہوں گے۔ اردوان نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ میزائل ذخیرہ اتنا بڑھایا جائے گا کہ کوئی بھی ترکیہ پر حملے یا اس کی طرف میلی نظر ڈالنے کی جرات نہ کر سکے۔ انقرہ میں مقیم ایران امور کے ماہر اور سابق تھنک ٹینک محقق عارف کسکن کا ماننا ہے کہ ایران کی بڑھتی مشکلات کے نتیجے میں ترکی کے لیے خطے میں کچھ امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک اہم موقع جنوبی قفقاز میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں آرمینیا، جو ایران کا قریبی اتحادی ہے، آذربائیجان کے ساتھ امن معاہدے کی راہ پر گامزن ہے۔ 2023 میں آذری افواج نے نگورنو کارا باخ کے آرمینیائی اکثریتی علاقے میں کارروائی کر کے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا اور وہاں سے بڑی تعداد میں آبادی نقل مکانی کر گئی۔ مارچ میں دونوں ممالک نے اپنے دیرینہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے امن مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔کسکن کے مطابق ایران کی کمزوری ترکیہ اور آذربائیجان کی آرمینیا کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی کوششوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ امید بندھی ہے کہ ترکیہ ،آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ایک نیا سہ فریقی تعلق بن کر نخشیویان کے راستے زنگزور کوریڈور کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے، جس سے ترکیہ باقی ترک دنیا سے منسلک ہو جائیگا۔اقتدار سے علٰحیدگی سے قبل اردوان تاریخ میں ایک ایسے ترک حکمران کے بطوراپنے آپ کو درج کروانا چاہئے ہیں ،جس نے وسطی ایشیا ء کی چار ترک ریاستوں، روس کے ترک اکثریتی صوبوں اور آذربائیجان کے ساتھ ترکیہ کے زمینی روابط بحال کئے۔ اس کوریڈور کی بحالی اردوان کیلئے خصوصی طور جذباتی حثیت رکھتی ہے۔ اسی سلسلے میں آرمینیائی وزیر اعظم نیکول پاشینیان نے حال ہی میں ترکیہ کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔اسرائیل۔ایرا ن جنگ سے قبل شاید ہی ایسی پیش رفت ہو سکتی تھی۔بھارت بھی آرمیناء کو ترکیہ کے مقابل کھڑے رہنے کیلئے اکساتارہا ہے۔ یہ دورہ اس وقت ہوا جب آذربائیجانی صدر الہام علییف ایک روز قبل انقرہ آئے تھے۔ آرمینیا اور ترکی کے درمیان 1993 میں سفارتی تعلقات ختم ہوئے تھے اور سرحدیں بند کر دی گئی تھیں، جب آرمینیا نے نگورنو کاراباخ پر قبضہ کیا تھا۔ ایک سینئر آرمینیائی سفارت کار نے بتایا کہ اردوان نے پاشینیان کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد کے فون کے بعد اس دورے کی دعوت دی تھی اور بعد میں یہ دعوت سفارتی ذرائع سے باضابطہ بھیجی گئی۔سفارت کار نے اس دورے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی قائدانہ بصیرت اور صبر سے تعلقات میں مثبت پیش رفت ممکن ہو رہی ہے۔ پاشینیان نے حالیہ دنوں میں ترکیہ کے ساتھ بہتر ہمسائیگی کے تعلقات کی خواہش ظاہر کی ہے تاکہ آرمینیا کی تنہائی ختم ہو اور تجارتی و سفارتی تعلقات بحال ہوں۔ مارچ میں آرمینیا اور آذربائیجان نے ایک ابتدائی امن معاہدے پر اتفاق کیا، مگر باکو مزید مطالبات کرتا رہا اور اس نے انقرہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ 2023 میں اروان کے ساتھ طے پانے والے اعتماد سازی کے بعض اقدامات پر عمل درآمد نہ کرے۔ ان اقدامات میں ایک اہم نکتہ الیجان-مارگارا سرحدی گزرگاہ کا کھولنا تھا تاکہ تیسرے ملکوں کے شہریوں اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کو آمد و رفت کی اجازت دی جا سکے۔ آرمینیا نے اپنی طرف سے مرمت کا کام مکمل کر لیا ہے، مگر ترکیہ نے اب تک اس معاہدے پر عملی قدم نہیں اٹھایا۔دوسری جانب، آذربائیجان اصرار کر رہا ہے کہ آرمینیا اپنے آئین میں ترمیم کرے جس میں ابھی تک نگورنو کاراباخ پر دعویٰ موجود ہے، اس شرط کے بغیر وہ امن معاہدے پر دستخط کرنے سے گریزاں ہے۔ پاشینیان عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ آئینی ترمیم پر غور کر سکتے ہیں، مگرابھی فی الحال ان کو انتخابات کا سامنا کرنا ہے، وہ سال کے اختتام تک آذربائیجان کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ ایران اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے ترکیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ نہ صرف مسلم دنیا کی قیادت کا رول نبھائے، بلکہ استعماریت کے خلاف تیسری دنیا کیلئے بھی ایک استعارہ بن جائے۔ (ختم شد)
122