131

مشرق وسطیٰ کا بدلتا سیاسی و تزویراتی منظر نامہ

حالیہ اسرائیل ایران جنگ اور پھر اس میں امریکی شمولیت نے مشرق وسطیٰ میں خاص طور پر ، حتیٰ کہ امریکہ کے حلیفوں میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ درون خانہ سوال پوچھے جا رہے ہیں کہ اب ان کا نمبر کب آئے گا اور بہانہ کیا ہوگا؟ ترکیہ کے شہر استنبول کے علی بے کوائے ضلع کی گلیوں میں 78سالہ ایرانی تارک وطن حسن مرادی مجھے بتا رہے تھے کہ ایران کیلئے نہ صرف مسلم دنیا بلکہ استعماریت کے خلاف تیسری دنیا کی لیڈرشپ کے حصول کا اس وقت ایک نایاب و نادر موقع ہے۔ یہ موقع ایران کو 1979میں انقلاب کے بعد حاصل ہوا تھا، مگر مختلف وجوہات، جن میں عراق کی طرف سے جنگ ٹھونسنا، اور پھر ایرانی لیڈرشپ کی تنگ نظری،مسلم دنیا یا تیسری دنیا کے بجائے اپنے آپ کو فرقہ کی لیڈرشپ تک محدود کرنا، اتحاد قائم کرنے کے بجائے دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کروانا، شیعہ مسلح گروپوں کو شہہ دینا وغیر ہ ایسے اقدامات تھے ، جس نے ایران کے اثر و رسوخ کو منفی رخ دے دیا۔ داخلی فرنٹ پر بھی ایرانی حکومتوں کا رویہ کچھ قابل فخر نہیں رہا۔ 2022میں 22سالہ کرد خاتون مہشا امینی کی زیر حراست ہلاکت پر احتجاج سے بے دردی کے ساتھ نپٹا، داخلی سکیورٹی کے ساتھ اس حد تک بے اعتنائی کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ایرانی حکومت کی ناک کے نیچے ایسا موثر نیٹ ورک بنانا ، ایسی چیزیں تھیں ، جس نے ایران کی شبیہ داغدار کی تھی۔خطے میں اب ایران کی قد و قامت کا اندازہ اب اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران جب استنبول میں حال میں اسلامی تنظیم کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ ہو رہی تھی، تو سبھی کی توجہ ایران پر مرکوز تھی۔قطر، سعودی اور دیگر ممالک کے وزراء خارجہ اور وفود ایرانی وفد کے ارد گرد گھومتے دکھائی دئیے اور ان سے صلاح و مشورہ کر رہے تھے۔ ماضی کی کسی ایسی میٹنگ میں ایرانی وفد الگ تھلگ نظر آتا تھا۔ اس لئے وقت اب آگیا ہے کہ ایران کو حقیقی سیاسی اصلاحات کا راستہ اپنانا چاہیے، تاکہ داخلی محاذ پر ایرانی عوام کو دہائیوں کی گھٹن کے بعد آزادی کی تازہ ہوا نصیب ہو، خفیہ ایجنسی کا استعمال اپنی آبادی یا پڑوسی ممالک کے بجائے اسرائیلی نیٹ ورک کے خلاف ہو اوربیرونی محاذ پر مغربی استعماریت کے خلاف ایک اتحاد بنانے پر توجہ صرف کرنی چاہئے۔مزید یہ کہ ایرانی حکومت کو شیعہ محور اتحادیوں اور پراکسی ملیشیاؤں کی پالیسی ترک کرنی چاہیے جنہوں نے شام، لبنان اور دیگر خطوں کو تباہی سے دوچار کیا۔ خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کشیدہ تو تھے ہی، مشرق وسطیٰ کی ایک اور اہم طاقت ترکیہ نے بھی کئی دہائیوں تک ایران کو خطے میں عدم استحکام کی علامت سمجھا اور اس کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہشات کی مخالفت کی۔ مگر ایران پر اسرائیل کے یکطرفہ حملے،انقرہ کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بن گئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید ایک دن اسرائیل ترکیہ کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، حالانکہ ترکیہ نیٹو کا رکن بھی ہے۔ یہ خدشہ ترکیہ کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) کے سربراہ اور صدر رجب طیب ایردوان کے اہم اتحادی دولت باہچلی نے بھی ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی مہم تر کیہ کو گھیرنے اور اس کے علاقائی عزائم کو سبوتاژ کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اسرائیل کا سیاسی و سٹریٹجک مقصد اناطولیہ کو گھیرنا اور اپنے آقاؤں کی طرف سے ترکیہ میں دہشت گردی کی مدد کرنا اور ترکیہ کی ترقی اور ایک طاقت بننے کی راہ کو سبوتاژ کرنا ہے۔‘‘ایک ترک کالم نگار نے کے مطابق ایران پر حملوں کے دوران اسرائیلی ایف 35 طیاروں کے ترکیہ کے اوپر پرواز کرنے کی کوشش کی تھی۔جن کو ترکیہ کے ایف 6 اور AWACS ایئرکرافٹ نے بھگایا۔ یہ طیارے شاید ترکیہ کے ڈیفنس سسٹم کو ٹیسٹ کررہے تھے۔ ترک ایف 16 کی ریڈیو وارننگ کے بعد یہ طیارے فوری واپس پلٹ گئے۔ اس جنگ کے دوران ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے دو بار سکیورٹی اجلاس منعقد کیے ۔ ترک فوج نے اسرائیل کے جنگی حربوں کا باریک بینی سے مطالعہ بھی کیا۔ ایردوان نے خود بھی اسرائیل کے حملے پر خطے کے رہنماؤں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کو فون کیے۔ انہوں نے شام کے صدر احمد الشرا ع اور عراقی وزیر اعظم محمد شیا السودانی سے بھی رابطہ کیا۔اس جنگ کے فوراً بعد ہی ایردوان کے اعلان کیا کہ ترکیہ درمیانے اور طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو تیز کرے گا اور اپنے دفاعی نظام کی سطح مزید بلند کرکے اس کو مکمل خودکفیل بنائے گا۔ انہوں نے اپنی تقریر کو سوشل میڈیا پر عثمانی سلطنت کے شاہی مہر کے ساتھ شیئر کیا۔ایردوان نے کہا: ’’عثمانی سلطنت کی فاتح فوج کا اصول تھا: اگر تم آزادی چاہتے ہو، اگر تم عزت، وقار اور ایمانداری سے اس دھرتی پر جینا چاہتے ہو، اگر تم خوشحالی، دولت اور ہم آہنگی چاہتے ہو، اگر تم امن چاہتے ہو، تو جنگ کے لیے ہمیشہ تیار رہو۔‘‘ ایردوان کو سب سے زیادہ اس بات نے برہم کیا کہ یورپی ممالک نے ایران پر حملے کی حمایت کی، حالانکہ اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری تنازع پر اعلیٰ سطح کی بات چیت جاری تھی۔ ذرائع کے مطابق پچھلے سال ستمبر میں جب اسرائیل نے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کو قتل کیا، ترک حکام نے اسی وقت ممکنہ اسرائیلی حملے اور ممکنہ وسیع تر علاقائی جنگ کے مختلف منظرناموں پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔ حکام نے ہنگامی منصوبے بنائے، جن میں ممکنہ پناہ گزینوں کی آمد سے متعلق اقدامات بھی شامل تھے۔اکتوبر میں انقرہ نے قید کرد باغی تنظیم پی کے کے رہنما عبداللہ اوجلان سے بات چیت شروع کی تاکہ اس گروپ کو ایران یا اسرائیل کا پراکسی بننے سے روکا جا سکے۔یہ بات سچ ہے کہ ترکیہ پہلا مسلم ملک تھا جس نے 1949 میں اسرائیل کو تسلیم کیا اور 1990 کی دہائی میں تل ابیب کا اتحادی بنا، جب ترک سلامتی اداروں کو اندرونی عدم استحکام کے دوران کرد باغیوں اور آرمینیا کے خلاف مدد درکار تھی۔جب 2003 میں رجب طیب ایردوان نے اقتدار سنبھالا تو فلسطینیوں کے حوالے سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہونا شروع ہو گئے تھے۔مگر چونکہ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں ترک تنظیموں کو رفاء عام کے کام کرنے کی اجازت دی ہوئی تھی، اس لئے ان تعلقات میں زیادہ ابتری دیکھنے کو نہیں ملی۔ 2010 میں ماوی مرمرہ جہاز پر اسرائیلی چھاپے کے بعد تعلقات میں زبردست بگاڑ آیا، جس میں 10 ترک کارکن بین الاقوامی پانیوں میں ہلاک ہو گئے۔ بعد میں تعلقات میں کچھ بہتری آئی، مگر 2023 کے آخر میں غزہ کی جنگ کے باعث ترکی نے اسرائیل کے ساتھ مفاہمت کی کوششیں ختم کر دیں۔ (جاری ہے)

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز