31

بہار اسمبلی انتخابات۔ مودی کا وقار داوٰ پر

آبادی کے لحاظ سے بھارت کے تیسرے بڑے صوبہ بہار میں دو مرحلوں پر محیط ریاستی اسمبلی کی 243 نشستوں کیلئے انتخابات کا عمل جاری ہے۔ ووٹنگ 6اور11نومبرکو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 14نومبر کو ہوگی۔ ویسے تو بھارت میں ہر سال کسی نہ کسی صوبہ کیلئے الیکشن ہوتا ہی رہتا ہے، مگر سیاسی شعور کے لحاظ سے خاصی اہم ریاست بہار کے یہ انتخابات وزیر اعظم نریندو مودی کی بقا ء کیلئے اہمیت اختیارکرگئے ہیں۔ گو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی نے اس صوبہ میں اب خاصے پاوں پھیلائے ہیں، پھر بھی یہ ابھی تک سوشلسٹ سیاست کا آخری قلعہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ دو سوشلسٹ پارٹیاں راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یونائیٹڈ ابھی بھی اس صوبہ کی سیاست پر حاوی ہیں۔ بہار کے باسیوں کے سیاسی شعور اور مزاحمتی مزاج کی وجہ سے ہی شاید مہاتما گاندھی نے جنوبی افریقہ سے واپسی کے بعد 1917میں اسی صوبہ کے چمپارن ضلع سے ہی برطانوی اقدار کو للکارنے کی داغ بیل ڈالی تھی۔ اسی طرح 70کی دہائی میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کی مطلق العنانی کے خلاف سوشلسٹ لیڈر جے پر کاش نارائینن نے اس صوبہ میں طلبہ کی ایجی ٹیشن کی قیادت کی تھی۔ اسی ایجی ٹیشن کی کوکھ سے موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار، سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو، آنجہائی رام ولاس پاسوان سمیت ان گنت سیاسی قد آور شخصیتوں نے جنم لیا۔ گو کہ گجرات ، مہاراشٹرہ یا جنوبی ریاستوں کے برعکس بہار وسائل کے اعتبار سے غریب ہے، مگر اس کی سیاست میں ایک رومانیت ہے، اس لئے سیاسی جماعتوں کیلئے اس صوبہ پر کنٹرول حاصل کرنا وقار کا معاملہ بن جاتا ہے۔ یہ صوبہ ذات پات کی سیاست کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ماضی میں اس صوبہ کے انتخابات کو کورکرنے کیلئے جب کسی دیہات میں جانا ہوتا تھا، تو پہلا سوال لوگ ذات کے بارے میں پوچھتے تھے۔ ’’کون ذات ہو۔‘‘ جب انکو بتایا جاتا تھا کہ میں مسلمان ہو اور وہ بھی کشمیر سے، تب وہ کھل کر بات کرنا شروع کرتے تھے۔ موجودہ انتخابات کی خاص بات یہ ہے کہ پہلی بار ووٹنگ ریاست کی ذات پات کی مردم شماری کے بعد ہو رہی ہے۔ ذات پات کی یہ مردم شماری 2022 میں مکمل ہو گئی تھی اور اسکے اعداد و شمار نے برسوں سے قائم سماجی ڈھانچے کو چیلنج کر دیا ہے۔ اس کے مطابق انتہائی پسماندہ طبقات (EBCs) ریاست کی سب سے بڑی آبادی ہیں۔ان کا حصہ 36 فیصد ہے، جس میں 112 ذیلی ذاتیں شامل ہیں۔پسماندہ طبقات (OBCs) 27 فیصد اور دلت و قبائیلی برادریاں تقریباً 21 فیصد ہیں۔یعنی 80 فیصد آبادی وہ ہے جو تاریخی طور پراقتدار کے مراکز سے باہر رکھی گئی۔فرنٹ لائن میگزین کے سیاسی مدیر آنند مشرا کے مطابق یہ مردم شماری ووٹ بینک کی سیاست سے کہیں زیادہ گہری چیز ہے اور اس نے سماجی شعور کو بیدار کر دیا ہے۔ ’’جب ذاتیں اپنے اعداد جان لیتی ہیں،تو ان کی خاموشی طاقت میں بدل جاتی ہے۔‘‘ اسلئے اس بار ہر برادری، ہر طبقہ، اپنی آبادی کے تناسب سے حصہ داری مانگ رہا ہے۔1990 میں لالو پرساد یادو نے “منڈل کمیشن” کے نفاذ کے بعدریاست کے اقتدار کی بنیاد بدل دی تھی۔ان کا نعرہ تھا: “جس کی جتنی آبادی، اُس کی اتنی حصہ داری۔ لالو نے یادو، مسلمان اور پسماندہ طبقات کواقتدار کے مرکزی دھارے میں لاکر کھڑا کردیا۔ گو کہ ان کی سیاست نے سماجی انصاف کوجمہوری جذبے کے ساتھ جوڑ دیا، مگر چونکہ ذات پات کی مردم شماری ہو نہیں رہی تھی، اس لئے بس اندازوں سے ہی اعداد و شمار ترتیب دئے جا رہے تھے۔ لالو یادو نے سیاست کے دھا رے کو بد ل تو دیا، مگر وقت کے ساتھ “جنگل راج” یعنی لاقانونیت اور بد عنوانی کا دور شروع ہوا اور ان کی مقبولیت کم ہونے لگی۔یہ وہ وقت تھا جب نیتیش کمار نے ترقی اور نظم و نسق یعنی سوشاسن کا نیا نعرہ دیا۔انہوں نے بہار کو بدعنوانی سے نکالنے،خواتین کو بااختیار بنانے،اور نظم و نسق قائم کرنے کا وعدہ کیا۔بھارت میں گجرات کے بعد بہار دوسری ریاست ہے جہاں مکمل شراب بندی عائد کی گئی۔ پنچایتوں میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن اور سکولوں میں لڑکیوں کے لیے اسکالرشپ یہ سب ان کے سُشاسن کے ستون تھے۔لیکن 2020 کے بعد حالات بدلے۔ ترقی کا وعدہ پرانا لگنے لگا۔عوام کے سوال اب بدل گئے ۔ نتیش کمار سیاسی پالے بھی بدلنے لگے۔ کبھی لالو پرساد کے فرزند تیجسوی یادو کے ساتھ ہاتھ ملا کر مل کر سرکار بناتے ہیں تو کبھی بی جے پی کی گود میں بیٹھ کر ان سے حمایت لیکر حکومت سازی کرتے ہیں۔ ان ہی داو پیچوں سے نو بار وزیر اعلیٰ رہنے والے نیتیش کماراب اپنی سیاسی زندگی کے نازک موڑ پر ہیں۔وہ اس وقت بی جے پی کی زیر قیادت قومی جمہوری اتحاد کے رکن ہیں۔ مگر بی جے پی ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان کے اثر کو کم کرنے کی پالیسی پر چل رہی ہے۔وہ اب اپنے بل بوتے پر اس اہم صوبہ میں حکومت سازی کرناچاہتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی گو کہ نیتیش کے سہارے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے، مگر نتائج کے بعد ان کو کنارے کرنے کے امکانات بھی ڈھونڈ رہی ہے ،جس طرح اس نے مہاراشٹرہ میں شیو سینا کے سہارے ووٹ تو لئے مگر پھر ان کو دودھ میں مکھی کی طرح قیادت سے باہر نکال دیا۔ بی جے پی ، چونکہ تاریخی طور پر اونچی ذات کی پارٹی رہی ہے، اس لئے وہ ذات پات کی سیاست سے پرہیز کرتی رہی ہے۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ ہندو اتحاد کے نعرے کے ساتھ ساتھ بی جے پی نے ذاتوں کو اپنے بیانیے میں سمو لیا ہے۔وہ اب ذات پات کو مٹانے کی نہیں،بلکہ اس کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ پارٹی نے بہار کے ایک سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی کرپوری ٹھاکر کو اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ بھارت رتن دے کرای بی سی طبقے میں رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طبقہ کیلئے قرض معافی،اور دیہی روزگار پروگراموں میں ترجیحی حصہ دیکر و ہ اس طبقہ میں ایک طرح کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ دوسری طرف راشٹریہ جنتا دل ، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد جس کو عظیم اتحاد یا مہا گٹھ بندھن کہتے ہیںظاہری طور پر ذات پات کی بیداری کا سب سے فطری وارث تھا۔مگر اندر سے اس اتحاد کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں۔حکومت کے خلاف ناراضگی کا فائدہ اٹھانے کی اس کی کوششیں نشستوں کی تقسیم کی لڑائی میں دب گئی ہے۔ لگتا ہے کہ اس کے پاس ووٹر ہے مگر وژن نہیں۔اس اتحاد کی کلیدی پارٹی راشٹریہ جنتا دل کا ووٹ بینک مسلم اور یادو یعنی ایم وائی رہا ہے۔ اس کے لیڈر تیجسوی یادو اگرچہ پرعزم دکھائی دیتے ہیں،مگر پرانے یادو لیڈران کی نوجوان قیادت پر کھلے عام اعتماد نہیں کرتے ہیں۔ (جاری ہے)

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز