بنگلہ دیش ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے ایک راستہ حقیقی جمہوریت اور معاشی خود مختاری کی طرف جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ سیاسی تقسیم اور علاقائی دشمنیوں کے دلدل کی طرف ملک کو دھکیل دے گا
بنگلہ دیش کی کامیابی اس بات میں پنہاں ہے کہ وہ اپنی داخلی سیاست کو بیرونی مداخلت سے پاک رکھے اور اپنی معاشی پالیسیوں میں توازن برقرار رکھے
شبیرحسین امام
فروری 2026 کے عام انتخابات نے بنگلہ دیش کی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ طویل عرصے تک ایک ہی جماعت کے اقتدار میں رہنے سے جو سیاسی گھٹن پیدا ہو گئی تھی اُس میں انتخابات کے نتائج تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے ہیں اُور یہی وجہ ہے انتخابی نتائج سے متعلق زیادہ ترپیشگوئیاں بھی غلط ثابت ہوئی ہیں۔ حالیہ انتخابی نتائج نے نہ صرف اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنایا ہے بلکہ بنگلہ دیشی حکومتی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں جن کے اثرات دہائیوں تک محسوس ہوں گے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بھاری اکثریت سے واپسی اور جماعت اسلامی کا بطور طاقتور اپوزیشن ابھرنا ایسے سیاسی منظر نامے کی عکاسی کر رہا ہے جہاں استحکام اور بحران ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔
انتخابی نتائج اور طاقت کا نیا توازن لائق توجہ ہے۔ حالیہ انتخابات میں طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی نے 212 نشستیں حاصل کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی محض انتخابی جیت نہیں بلکہ عوامی سطح پر برسوں سے دبے ہوئے غصے اور حکمرانوں کی تبدیلی کی عوامی خواہش کا اظہار ہے تاہم اِس جیت کا سب سے حیران کن پہلو جماعت اسلامی کی غیر معمولی کارکردگی ہے۔ 68 نشستیں (اتحادیوں کے ساتھ مل کر 71 نشستیں) حاصل کر کے جماعت اسلامی اب بنگلہ دیش کی دوسری بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے۔ عوامی لیگ کی عدم موجودگی نے جہاں بی این پی کے لئے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی‘ وہیں سیاسی خلا بھی پیدا کیا جسے جماعت اسلامی نے اپنے منظم نیٹ ورک اور ’’اصلاح پسند بیانیے‘‘ کے ذریعے پُر کیا۔ اب بنگلہ دیش کی پارلیمان ایک ایسی جگہ ہے جہاں دائیں بازو کی قوم پرست جماعت کو منظم مذہبی و سیاسی قوت (جماعت اسلامی) کے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔
ڈاکٹر محمد یونس کے زیرِ اثر متعارف کرایا گیا 84 نکاتی اصلاحاتی پیکیج جسے ’’جولائی چارٹر‘‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے‘ بنگلہ دیشی سیاست میں ہلچل کا باعث ثابت ہوا ہے۔ اس چارٹر کی چند اہم خصوصیات میں دو ایوانی پارلیمان سرفہرست ہے جس کے تحت ایک سو ارکان پر مشتمل سینیٹ کا قیام‘ جو بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری دینے کا مجاز ہوگا۔ اس سے وزیراعظم کے اختیارات محدود ہو جائیں گے۔ اردو اور بنگلہ زبانوں کا مقام متعین کرنا بھی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ لسانی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے اردو کو بنگلہ کے برابر مقام دینے کی تجاویز نے علاقائی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حزب اختلاف کی مضبوطی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ اصلاحاتی ایجنڈے میں پارلیمانی کمیٹیوں کی سربراہی اپوزیشن کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ حکومت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ یہ تبدیلیاں ڈاکٹر یونس کو ’’گرے ایمننس (پس ِپردہ طاقتور شخصیت)‘‘ کے طور پر مستحکم کر رہی ہیں‘ جو براۂ راست اقتدار میں نہ ہوتے ہوئے بھی ملک کی سمت متعین کر رہے ہیں۔
بھارت سے دوری اور امریکہ سے قربت ایک نئے بنگلہ دیش کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کا ٹیکسٹائل سیکٹر‘ جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے‘ ایک بڑے یو ٹرن سے گزر رہا ہے۔ تاریخی طور پر بنگلہ دیش بھارتی کپاس (Yarn) کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے لیکن فروری 2026 میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے ’’باہمی تجارتی معاہدے‘‘ نے اس توازن اور کاروبار کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ نے بنگلہ دیشی ملبوسات پر انیس فیصد ٹیرف رعایت کی پیشکش کی ہے لیکن شرط یہ رکھی ہے کہ خام مال (کپاس) صرف امریکہ سے درآمد کیا جائے گا اُور اس میں سراسر نقصان بھارت کا ہے۔ یہ اقدام بھارت کے ساتھ سالانہ 6.1 ارب ڈالر کی کپاس کی تجارت کو براۂ راست متاثر کرے گا۔ امریکہ سے قربت کے باوجود چین کے ساتھ 19 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ برقرار ہے جسے (جلد از جلد) کم کرنا یعنی مستقبل قریب میں بی این پی حکومت کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ بھارت، پاکستان اور چین بنگلہ دیشی سیاست میں عمل دخل رکھتے ہیں جسے مدنظر رکھتے ہوئے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کو ’’متوازن پالیسی (Balancing Act) اختیار کرنی ہوگی۔ نئی دہلی کے لئے ڈھاکہ میں ہونے والی تبدیلیاں تشویشناک ہیں۔ جماعت اسلامی کا عروج اور سرحدوں پر پاکستان و چین کے بڑھتے ہوئے اثرات بھارت کے لئے سکیورٹی چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ بھارت اب ’’خاموش (درپردہ) سفارت کاری‘‘ کے ذریعے ادویات اور توانائی کے شعبوں میں اپنا اثر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بنگلہ دیش میں جو تبدیلیاں نمایاں طور پر رونما ہو رہی ہیں اُن سے اردو زبان کی اہمیت میں اضافہ اور ماضی کے تنازعات سے ہٹ کر نئے تعلقات استوار ہوئے ہیں جو پاکستان کے لئے سفارتی مواقعوں کی صورت وسیع دائرہ رکھتا ہے۔ انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے شعبے میں چین اب بھی بنگلہ دیش ناگزیر شراکت دار ہے تاہم بی این پی حکومت قرضوں کے بوجھ سے بچنے کے لئے محتاط دکھائی دے رہی ہے۔
بنگلہ دیش کے زمینی حقائق صرف شریں ہی نہیں بلکہ تلخ بھی ہیں۔ ’بی این پی‘ کی لبرل قوم پرستی اور جماعت اسلامی کے مذہبی نظریات کے درمیان تصادم کسی بھی وقت سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ دوسری طرف نوجوانوں کی حکومت سے توقعات ہیں۔ طلبہ تحریک سے ابھرنے والی قیادت اور جنریشن زیڈ کی توقعات بہت زیادہ ہیں۔ اگر حکومت روزگار اور شفافیت فراہم نہ کر سکی تو دوبارہ عوامی احتجاج شروع ہونے کا خطرہ اپنی جگہ موجود ہے۔ بنگلہ دیش کے سینٹرل بینک کے گورنر کی تقرری اور دیگر خود مختار اداروں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ معاشی بقا کے لئے ضروری ہے۔
بنگلہ دیش ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے ایک راستہ حقیقی جمہوریت اور معاشی خود مختاری کی طرف جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ سیاسی تقسیم اور علاقائی دشمنیوں کے دلدل کی طرف ملک کو دھکیل دے گا۔ بی این پی کو اپنی بھاری اکثریت کا استعمال جذبات کے بجائے دانش مندی سے کرنا ہوگا۔ طارق رحمان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صرف سیاسی وارث نہیں بلکہ ایسے مصلح ہیں جو ’’جولائی چارٹر‘‘ کی روح کے مطابق ملک کو آگے لے جا سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی کامیابی اس بات میں پنہاں ہے کہ وہ اپنی داخلی سیاست کو بیرونی مداخلت سے پاک رکھے اور اپنی معاشی پالیسیوں میں توازن برقرار رکھے۔
ختم شد
بنگلہ دیش کی سیاست میں3 کلیدی شخصیات کا مختصر تعارف
طارق رحمان (BNP): سابق صدر ضیا الرحمن اور سابقہ وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں۔ آپ طویل جلاوطنی کے بعد اب بنگلہ دیش کی سیاست کے محور ہیں اور معاشی بحالی کو اپنا اولین ہدف قرار دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر محمد یونس: نوبل انعام یافتہ ماہر ِمعاشیات ہیں۔ جنہوں نے عبوری دور میں ’’چیف ایڈوائزر‘‘ کے طور پر ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ وہ 84 نکاتی معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کے خالق ہیں اور ملک کے ڈھانچے کو مکمل تبدیل کرنے کے حامی ہیں
ناہد الاسلام: طلبہ تحریک کے نمایاں رہنما جو نئی سیاسی لہر کا چہرہ بن کر ابھرے ہیں۔ وہ بنگلہ دیشی نوجوان نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو روایتی سیاست سے ہٹ کر ملک میں شفافیت چاہتی ہے۔
