مصنوعی ذہانت: جدید میدانِ جنگ

قول ہے کہ
"کامیاب وہی ہوگا جو ٹیکنالوجی کو اپنانے میں ہچکچاہٹ سے کام نہ لے، لیکن فاتح وہ ہوگا جو اسے کنٹرول کرنا جانتا ہو۔" 

بیسویں صدی میں جنگیں بارود اور فولاد سے لڑی جاتی تھیں، لیکن 2026 کا میدانِ جنگ الگورتھمز اور ڈیٹا کی گرفت میں ہے۔ حالیہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب فیصلے انسانی دماغ سے زیادہ مصنوعی ذہانت کے پراسیسر کر رہے ہیں۔ انٹیلی جنس تجزیے سے لے کر اہداف کے انتخاب تک، AI اب محض ایک مددگار نہیں بلکہ ایک خود مختار کھلاڑی بن کر ابھری ہے۔

حالیہ مہینوں میں غزہ میں اسرائیلی مہم اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی کارروائیوں کے دوران AI ٹولز کا بے دریغ استعمال دیکھا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے ممکنہ منصوبوں میں بھی AI نے کلیدی رہنمائی فراہم کی۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ 28 فروری سے ایران پر ہونے والے ہزاروں حملوں میں اہداف کی شناخت کے لیے AI سسٹمز کا سہارا لیا گیا، اگرچہ ان کی سو فیصد درستی پر اب بھی سوالات موجود ہیں۔

 

فرانسیسی تھنک ٹینک کی محقق لور ڈی روسی-روشگونڈے کے مطابق، "آج لاجسٹکس، جاسوسی، انفارمیشن وارفیئر، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر سیکیورٹی جیسے تقریباً ہر فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت سرایت کر چکی ہے۔

امریکی افواج اس وقت جدید ترین نظاموں سے لیس ہیں۔ پینٹاگون کے 'میون اسمارٹ سسٹم'  اور کے 'کلاڈ' ماڈل کو 'پروجیکٹ میون' کے ساتھ ملا کر استعمال کر رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف دشمن کے اہداف کی شناخت کرتے ہیں بلکہ یہ بھی طے کرتے ہیں کہ کس ہدف کو پہلے نشانہ بنانا زیادہ سود مند ہوگا۔

مصنوعی ذہانت الگورتھمز سیکنڈوں میں وہ کام کر سکتے ہیں جو انسانوں کے لیے مہینوں کا کام تھا۔ یہ ریڈار، سیٹلائٹ تصاویر، برقی مقناطیسی لہروں اور ڈرون ویڈیوز کے وسیع ڈیٹا کو یکجا کر کے دشمن کی تصویر واضح کر دیتے ہیں۔

 

شعبہاثرات / شماریاتہدف کی شناختانسانی تجزیہ کار کے مقابلے میں 50 گنا تیزایران پر حملے28 فروری سے اب تک ہزاروں شناخت شدہ اہدافممکنہ جانی نقصانایران میں ایک اسکول پر حملے میں 150 افراد کی ہلاکت (مبینہ طور پر AI کی غلطی)ڈیٹا پروسیسنگیومیہ ٹیرا بائٹس میں بصری اور صوتی مواد کا تجزیہ

جہاں مصنوعی ذہانت فوجی طاقت میں اضافہ کر رہی ہے، وہی اس کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں پر دنیا منقسم ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی فار روبوٹ آرمز کنٹرول  کے چیئرمین پیٹر اسارو نے متنبہ کیا ہے کہ ایران میں ایک اسکول پر ہونے والی بمباری، جس میں ڈیرھ سو معصوم جانیں گئیں، بظاہر مصنوعی ذہانت کی جانب سے ہدف کی غلط نشاندہی کا نتیجہ تھی۔

سوال یہ ہے کہ اگر مشین غلطی کرے تو ذمہ دار کون ہوگا؟ فرانس جیسے ممالک میں فوجی کمانڈرز اب بھی سسٹم کے مرکز میں ہیں اور کسی بھی فیصلے کے لیے حتمی انسانی منظوری لازمی ہے۔

 عالمی افواج ابھی مصنوعی ذہانت کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں فوجی منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کو بنیادی طور پر بدل دے گی۔

تاہم، جب تک انسانی کنٹرول اور اخلاقی حدود کا تعین نہیں ہوتا، مصنوعی ذہانت کا یہ 'جادو' انسانیت کے لیے ایک بھیانک خواب بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ کیا ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہ زندگی اور موت کا فیصلہ ایک الگورتھم کرے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنا آج کے عالمی رہنماؤں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

 

بشکریہ روزنامہ آج