اہل مغرب کی تمام تر کوششوں کے باوجود پاسداران ِانقلاب کا کنٹرول ایران میں اقتدار پر پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے اُور یہ محسوس ہی نہیں ہو رہا کہ جس ملک پر چاروں طرف سے دنیا حملہ آور ہے وہاں شہادت اور انتقام کے جذبات ٹھاٹھیں مار رہے ہیں
شبیرحسین امام
اٹھائیس فروری دوہزارچھبیس کے روز امریکہ اُور اسرائیل نے مشترکہ طور پر جمہوری اسلامی ایران کے دارالحکومت ’تہران‘ پر ’فضائی حملے‘ کئے اُور اِن حملوں میں ایران کی صف اوّل کی سیاسی و عسکری قیادت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ ناقابل یقین تھا کہ ایران کے سربراہ آیت اللہ العظمی سیّد علی خامنہ آئی (پیدائش 19 اپریل 1939۔ شہادت 28 فروری 2026) جو سراپا استقامت اُور مقاومت تھے شہید کر دیئے گئے ہیں۔ اِس اچانک خبر نے پوری دنیا بالخصوص مشرق ِوسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت یقینا ایک ایسا ’جنگی جرم‘ ہے جس کی سزا بہرصورت امریکہ اُور اسرائیل کو ادا کرنا پڑے گی چاہے وہ جاری جنگ کا موجودہ دور ہو یا مستقبل بعید کا کوئی لمحہ دنیا کے لئے یکساں باعث حیرت و پریشانی ہوگا۔ آیت اللہ سیّد علی خامنہ آئی نے اپنی شہادت سے قبل امور مملکت اور بالخصوص جنگ کی صورت حکمت عملی وضع کر دی تھی جس پر عمل درآمد گزشتہ دس روز سے جاری جنگ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آٹھ خلیجی (عرب) ممالک میں امریکی تنصیبات اُور مفادات کو نشانہ بنایا گیا ہے اُور ایران کے دارالحکومت تہران کی طرح اسرائیل کے کئی مرکزی شہروں میں ایرانی میزائیلوں اُور ڈرون طیاروں سے جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں تاہم سب سے بنیادی اُور اہم بات یہ ہے کہ ایران کی باقی ماندہ قیادت نے نہایت ہی تیزی سے ’’نئی سیاسی حکمت عملی‘‘ وضع کی جو ایران میں ’رجیم چینج‘ کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے جاری اقتدار کا تسلسل یقینی بنانے کی کوشش ہے۔
ایران کا سربراہ مملکت کون ہوگا‘ اِس بات کا فیصلہ وہاں کے سرکاری و غیرسرکاری (مذہبی) اداروں کے اراکین پر مشتمل ’مشاورتی کمیٹی‘ کرتی ہے جسے ’’مجلس خبرگان‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِس مجلس کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ’’آیت اللہ علی خامنہ ای‘ کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای (پیدائش 8 ستمبر 1969) کو ’’نیا سپریم لیڈر (رہبر معظم)‘‘ مقرر کر دیا گیا ہے۔ 57 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے پس پردہ سیاسی اثر و رسوخ رکھتے تھے تاہم انہوں نے نہ کبھی کوئی منتخب عوامی عہدہ سنبھالا اور نہ ہی وہ اعلیٰ درجے کے مذہبی عالم کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اب ایران کی سب سے طاقتور شخصیت بن چکے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اقتدار براۂ راست باپ سے بیٹے کو منتقل ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ غیر معمولی حالات میں کیا گیا ہے اور اس میں روایتی مذہبی درجہ بندی کے بجائے خاندانی وابستگی اور وفاداری کو ترجیح دی گئی ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی اصل قوت مذہبی حلقوں سے زیادہ پاسداران ِانقلاب سے وابستہ روابط ہیں۔ انہیں طویل عرصے تک اپنے والد کے دفتر تک رسائی کا مرکزی دروازہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ سکیورٹی اداروں اور فوجی قیادت کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات رہے ہیں۔
ایران میں سپریم لیڈر کا دفتر‘ جسے ’’بیت ِرہبری‘‘ کہا جاتا ہے‘ ریاست کے طاقتور ’انتظامی ڈھانچے‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ فوج‘ معیشت اور ذرائع ابلاغ سمیت کئی اہم شعبوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مبصرین کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کے ساتھ پاسداران ِانقلاب اقدار میں آ گئے ہیں جو نہایت ہی سخت گیر مؤقف رکھتے ہیں اُور مجتبیٰ خامنہ آئی کی صورت اُنہوں نے اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کر لیا ہے۔ عالمی سطح پر اِس پیش رفت کو باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تقرری کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’سابق سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد ایران میں سیاسی نظام کے ٹوٹنے کی توقع کی جا رہی تھی‘ تاہم نئی قیادت کے اعلان سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔‘‘
ایران پر مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے اور فی بیرل قیمت تقریباً 120 ڈالر تک پہنچ گئی ہے کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز (بحری راہداری) کے راستے خام تیل سمیت ہر قسم کی تجارت بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ ایران میں اقتدار کی تبدیلی سے متعلق جو دعوے کر رہے ہیں اُن کی تردید عوامی مظاہروں کی صورت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ اُور اِس کے اتحادیوں کو توقع تھی کہ سیّد علی خامنہ آئی کی شہادت کے بعد ایران کو کوئی بھی سربراہ نہیں ملے گا کیونکہ وہ دھمکی دے چکا تھا کہ وہ ایران کی ہر درجہ قیادت کو نشانہ بنائے گا لیکن عوام نے رہبر معظم سے اپنی محبت اُور عقیدت کا جس انداز میں اظہار کیا وہ رہتی دنیا تک مثال رہے گا۔ اہل مغرب کی تمام تر کوششوں کے باوجود پاسداران ِانقلاب کا کنٹرول ایران میں اقتدار پر پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے اُور یہ محسوس ہی نہیں ہو رہا کہ جس ملک پر چاروں طرف سے دنیا حملہ آور ہے وہاں شہادت اور انتقام کے جذبات ٹھاٹھیں مار رہے ہیں۔
جمہوری اسلامی ایران نے ایک قوم ہونے کا ثبوت دیا ہے اُور اقتدار کی منتقلی سمیت امریکہ اُور اسرائیل پر حملون کی صورت فیصلوں نے واضح کر دیا ہے کہ ایرانی نظام اقتدار میں بقا کو ترجیح دیتے ہوئے جو بھی انتخاب کیا گیا ہے وہ انتہائی درست اُور عوام کی توقعات و جذبات کی ترجمانی کر رہا ہے۔ ایران تمام تر حملوں اُور بیرونی دباؤ کے باوجود نہ صرف اپنی سفارتکاری بحال رکھے ہوئے ہے بلکہ یہ پہلے سے زیادہ پرعزم اور سخت گیر مؤقف کے ساتھ استعماری قوتوں کا ہر محاذ پر مقابلہ کرنے اُور قربانیوں سے ایک نئی عالمی تاریخ رقم کر رہا ہے۔
اِیران: بقا کی جنگ