پاکستان کی معیشت اس وقت ایک پیچیدہ موڑ پر ہے جہاں عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ کے بحران اور علاقائی سطح پر پاک-افغان سرحدی تنازعات نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ان حالات کے میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی زندگی کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے تاہم، حیران کن طور پر ان تمام چیلنجز کے باوجود ملک میں دو پہیوں والی گاڑیوں یعنی موٹر سائیکلوں کی فروخت میں کمی کے بجائے اضافہ نمایاں ہے۔ جاری جنگی تنازعات نے عالمی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے گاڑی ساز کمپنیوں کو درآمد شدہ پرزوں کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شپنگ میں تاخیر اور لاجسٹک مسائل کی وجہ سے مال برداری کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جبکہ جنگی خطرات کے اضافی چارجز نے درآمدی لاگت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر تک پہنچنے سے نقل و حمل کی لاگت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس سے خام مال مہنگا ہونے کی وجہ سے اسمبلرز قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں۔ لیکن ان تمام منفی عوامل کے باوجود بائیک مارکیٹ غیر معمولی طور پر پر امید ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ موٹر سائیکل اب محض ایک سواری نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ پیٹرول مہنگا ہونے پر لوگ چار پہیوں والی گاڑیوں کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں اور عوامی نقل و حمل کا نظام ناقص ہونے کی وجہ سے بائیک ہی واحد عملی حل بچتی ہے۔ یہ وقت اور ایندھن دونوں کی بچت کا بہترین ذریعہ ثابت ہو رہی ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں ایک نئی سماجی تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اب بڑے گھروں اور بنگلوں کے مالکان نے بھی 70cc سے 150cc تک کی بائیکس رکھنا شروع کر دی ہیں۔ وہ اپنی بڑی گاڑیوں اور SUV کے بھاری اخراجات سے بچنے کے لیے روزمرہ کے چھوٹے کاموں کے لیے موٹر سائیکل کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے خاص طور پر 70cc بائیکس کی طلب کو بہت بڑھا دیا ہے۔ نئی بائیکس کی قیمتیں زیادہ ہونے سے سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں بھی غیر معمولی تیزی آگئی ہے اور استعمال شدہ بائیکس کی قیمتیں اب پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہیں۔
دیہی علاقوں میں بائیک کی فروخت کا بڑا انحصار زرعی فصلوں کی صورتحال پر ہوتا ہے۔ گندم، کپاس، چاول اور گنے کی بہتر فصل کاشتکاروں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی پرانی سواری کو نئی بائیک سے بدل سکیں۔ بائیک سیکٹر کے ماہر محمد صابر شیخ کے مطابق اگرچہ جنگی حالات نے خریداروں کے جذبات کو متاثر کیا ہے اور مارکیٹوں میں گاہکوں کا رش کچھ کم ہوا ہے، لیکن تاریخی طور پر دیکھا گیا ہے کہ معاشی تنگی کے وقت میں بائیک کی طلب ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بائیک اسمبلرز نے پرزہ جات کی درآمد میں زبردست اضافہ کیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ کمپنیاں مستقبل میں بڑی طلب کی توقع کر رہی ہیں۔ مالی سال 2026 کے پہلے سات ماہ میں CKD کٹس کی درآمد 43 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں صرف 25 ملین ڈالر تھی۔
بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ کے سنگین مسائل اور تباہ حال سڑکوں کے باوجود منزل تک پہنچنے کے لیے بائیک کو بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے اٹلس ہونڈا لمیٹڈ (AHL) اس وقت مارکیٹ لیڈر کے طور پر ابھری ہے اور ستمبر 2025 سے مسلسل اپنے ہی سیلز ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ جنوری 2026 میں اس کمپنی نے ریکارڈ 157,059 یونٹس فروخت کیے، جبکہ سوزوکی اور چینی برانڈز کی فروخت میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
پیٹرول مہنگا ہونے کے باوجود الیکٹرک بائیکس (E-bikes) ابھی تک وہ مقام حاصل نہیں کر سکیں جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ پیٹرول انجن کے خریداروں میں سے صرف ایک فیصد نے ای-بائیکس کا رخ کیا ہے، جس کی بڑی وجہ ان کی زیادہ قیمت اور انتہائی کم ری سیل ویلیو ہے۔ ایک الیکٹرک بائیک شو روم سے نکلتے ہی اپنی قیمت کا نصف کھو دیتی ہے۔ پنجاب میں ای-بائیکس کی مانگ کراچی سے تھوڑی بہتر ہے کیونکہ وہاں کی ہموار سڑکیں ان کے چھوٹے ٹائروں کے لیے موزوں ہیں۔ 2025 میں ای-سکوٹرز کی پیداوار ایک لاکھ یونٹس سے تجاوز کر گئی ہے، لیکن یہ اب بھی مجموعی مارکیٹ کا ایک معمولی حصہ ہے۔
پاکستان میں اس وقت بائیک کی قیمتیں 100,000 سے لے کر 300,000 روپے تک کے مختلف درجوں میں منقسم ہیں۔ حیرت انگیز طور پر جہاں سستی بائیکس کی مانگ ہے، وہیں مکمل تیار شدہ مہنگی اور ہیوی بائیکس کی درآمد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کراچی کے اکبر روڈ جیسے مراکز میں چینی اور جاپانی ہیوی بائیکس کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ نئی نسل ان ماڈلز میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان کی بائیک صنعت تمام تر معاشی بحرانوں کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور آنے والے مہینوں میں اس کی فروخت میں مزید اضافے کے قوی امکانات موجود ہیں۔
مشرق وسطی بحران کے معاشی اثرات