112

مشرق وسطیٰ کا بدلتا سیاسی و تزویراتی منظر نامہ……(2)

گزشتہ برس اسرائیل کی حزب اللہ کو کمزور کرنے کی مہم اور شام میں اسد حکومت کے زوال کے بعد، جہاں پہلے ایران کا غلبہ تھا، اب اسرائیل خطے کی کلیدی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ اسرائیلی حکام اب کھلے عام کہتے ہیں کہ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ترکیہ ہے، جو خطے میں وسائل اور اثرورسوخ رکھتا ہے۔مشرقی بحیرہ روم کے ایک سرے پر اس وقت اسرائیل کی فوجی طاقت ہے، تو دوسرے سرے پر ترکیہ کی فوجی قوت ہے۔ ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے کئی بار کہا ہے کہ خطے پر کسی ایک طاقت، حتیٰ کہ ترکیہ کی بھی، بالادستی نہیں ہونی چاہیے۔ سب سے پہلا بڑا چیلنج شام کے مسئلے پر تھا، جب نیتن یاہو کی حکومت نے جنوبی شام میں ترک ریڈار اور ایئر ڈیفنس بیس کی مخالفت کی۔ امریکی حکام کی مداخلت کے نتیجے میں اپریل میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان ایک ہاٹ لائن قائم ہوئی۔ مذاکرات میں اتنی پیش رفت ہوئی کہ ترک حکام نے شام کے نمائندے بھی اسرائیلیوں کے ساتھ بات چیت میں شامل کیے تاکہ شام پر اسرائیلی حملے روکے جا سکیں۔اصل مسئلہ شام کی فضائی حدود پر کنٹرول کا تھا۔ ترک حکام نے اسرائیل کو مشورہ دیا کہ شام کی فضائی حدود پر اپنے تحفظات کا حل براہِ راست شام کے ساتھ طے کرے، نہ کہ ترکیہ کو اس قضیہ میں گھسیٹے۔ جب 2014 میں رجب طیب ایردوان ایران گئے تودونوں ممالک نے تجارتی معاہدوں اور توانائی و صنعتی روابط پر کئی یاداشتوں پر دستخط کئے۔لیکن گیارہ برس بعد ایران کے لئے ترکیہ میں وہ محبت یا احترام باقی نہیں تھا۔بعض ماہرین اس کشیدگی کی جڑیں پرانی رقابت میں تلاش کرتے ہیں جو سلطنت عثمانیہ کے زمانے سے چلی آتی ہیں۔ مگر موجودہ دور میں اس کی وجہ ایران کا شام اور لبنان میں کردار تھا۔ ورنہ جب 1979 میں ایران کا اسلامی انقلاب آیا تو ترک اسلام پسند خوشی سے سرشار تھے۔اردوان کے سیاسی اور نظریاتی استاد سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان علی شریعتی کے مداح تھے اور 1990 کی دہائی تک ایران کو بعض حوالوں سے ایک مثالی ماڈل کے طور پر دیکھتے رہے۔ اربکان نے 1997 میں مسلمان اکثریتی ممالک کو ڈی 8 اقتصادی تعاون تنظیم کے تحت متحد کرنے کی کوشش کی اور بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائجیریا اور پاکستان کو ساتھ ملایا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ 1997 میں اربکان کی حکومت کے خاتمے کا ایک سبب وہ القدس نائٹ تھی، جو انقرہ کے سنجان ضلع میں ان کی ویلفیئر پارٹی نے ایرانی سفیر کی موجودگی میں منعقد کی۔ اس تقریب میں فلسطینی کاز پر مبنی ایک ڈرامہ پیش کیا گیا اور ہال میں حزب اللہ اور حماس کے پرچم لہرائے گئے۔ ایرانی سفیر نے سیکولر ترک حکومت پر تنقیدی تقریر کی، جسے ترک فوج نے حکومت کے خلاف ایک کارروائی کا بہانہ بنایا اور اربکان کی حکومت کو بے دخل کر دیا۔2002 میں اردوان اور ان کے ساتھیوں نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) قائم کی تو انہوں نے اپنی لبرل اور یورپی یونین نواز پالیسیوں کے باوجود ایران سے قربت برقرار رکھی۔ ایک نمایاں مثال برازیل کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری تنازع پر ثالثی کی کوشش تھی، جس میں ایران نے 1200 کلوگرام کم افزودہ یورینیم ترکی کو بھجوانے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ اسے میڈیکل ریسرچ ری ایکٹر کے لیے ایندھن میں بدلا جا سکے۔ 2011 میں غالباً اردوان پہلے سنی لیڈر تھے، جنہوں نے نجف میں حضرت علی کے مزار پر حاضری دی اور آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کی۔ ترکی اور ایران کے تعلقات اتنے قریبی تھے کہ 2012 میں امریکی رپورٹس نے اردوان پر الزام لگایا کہ انہوں نے ترکیہ میں کام کرنے والے اسرائیلی جاسوسوں کے نام تہران کو بتائے۔ تاہم 2011 میں شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت اور مظاہرین پر تشدد، اور خاص طور پر 2013 میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اور 2014 میں حلب جیسے شہروں کا محاصرہ، ایران کی جانب سے ان مظالم کی حمایت نے تر کیہ کو شدید بدظن کر دیا۔ اس کے بعد ذرائع کے مطابق ترکیہ کا کرد باغی تنظیم پی کے کے، کے ساتھ ہور ہے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ایران کی طرف سے ہوئی، جس کی وجہ سے تعلقات میں خیر سگالی کی فضا ختم ہو گئی تھی۔ ایران کے ساتھ رقابت اور مغرب کے ساتھ ناپسندیدہ مگر ناگزیر شراکت داری کے بیچ پھنسا ترکیہ پچھلے کئی برسوں سے نئے مواقع اور خدشات دونوں کولے کر ابھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ صدر رجب طیب اردوان نے اس بحران کے دوران انقرہ کو ثالث کے طور پر پیش کرنے کی سعی کی۔ ساتھ ہی اب دفاعی منصوبہ ساز ترکی کی فوجی جدید کاری کی رفتار بڑھانے، میزائل نظام کو اپ گریڈ کرنے اور اسٹیلتھ فائٹر پروگرام کو تیز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔اس جنگ کے ابتدائی دنوں میں انقرہ نے خاموشی سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطہ کار کے طور پر کام کیا۔ اردوان نے جون کی 14 اور 15 تاریخ کو دو بار ٹرمپ سے بات کی اور پھر 16 جون کو ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے گفتگو کی۔ خطے کے دیگر رہنماؤں سے بھی انقرہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے کیے۔تجزیہ کار سونر چاغاپتے کے مطابق اردوان ٹرمپ کے ساتھ اپنی قربت کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔اسلئے اسلامی تنظیم کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے اعلامیہ میں اسرائیل کی مذمت تو کئی گئی، مگر امریکہ کا نام نہیں لیا گیا۔ چاغاپتے کے بقول گزشتہ دہائی میں مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی پر ترکی کا اتنا نرم لہجہ کبھی نہیں رہا ہے۔ اس کی وجہ اردوان اور ٹرمپ کے درمیان ذاتی کیمسٹری بتائی جاتی ہے۔ انقرہ کی اصل تشویش ایک اور مشرق وسطیٰ کے ہمسایہ ملک میں شام اور عراق کی طرح عد م استحکام کا خطرہ تھا، جہاں طاقت کے خلا نے شدت پسند جہادیوں اور PKK کے عناصر کو ترکیہ پر حملوں کا موقع دیا۔(جاری ہے)

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز