101

ٹینشن زندگی میں ہوتی ہے، موت کے بعد نہیں

بندے کو اپنے فوت ہونے کی پریشانی نہیں ہوتی۔ ٹینشن اُسے اِس بات کی ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد وہ دنیا کے تماشے نہیں دیکھ پائے گا۔ صدیوں، برسوں اور دہائیوں کی بات تو چھوڑیں، چند مہینوں میں دنیا کے رنگ ڈھنگ ایسے بدل جاتے ہیں کہ انسان سوچتا ہے کہ اگر میں زندہ نہ ہوتا تو یہ سب کیسے دیکھ پاتا۔ اب جو لوگ بیچارے 2025 ءمیں مر گئے وہ اپنی آنکھوں سے دبئی کا ہوائی اڈہ بند ہوتے نہ دیکھ سکے، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کیخلاف جنگ نہ دیکھ سکے، ایران کا اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کیخلاف مزاحمت کرنا نہ دیکھ سکے۔ بس اپنی موت کی یہی پشیمانی بندے کو رہتی ہے کہ مرنے کے بعد وہ تماشائے اہلِ کرم کیونکر دیکھ پائے گا، دنیا تو اس کے بعد بھی چلتی رہے گی! ویسے تو موت جیسی بیماری کا کوئی تسلی بخش علاج نہیں تاہم یہ سوچ کر دل کو بہلایا جا سکتا ہے کہ ہماری موت کے ساتھ دنیا کا بھی خاتمہ ہو جائے گا، اور یہ کوئی ایسی بچگانہ بات بھی نہیں، بڑے بڑے فلسفی یہی لکھتے اور بتاتے فوت ہو گئے۔ مثلاً برکلے کے نزدیک تو دنیا میں کوئی شے وجود ہی نہیں رکھتی، یہ دراصل ہماری حسیات ہیں جو اشیا کو وجود بخشتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو، یہاں بندے کی آنکھیں بند ہوئیں وہیں اُس کی دنیا بھی ختم ہو گئی۔ اور دوسرا علاج یہ ہے کہ بندہ یہ سوچ لے کہ جس طرح اُس کی پیدائش سے ہزاروں لاکھوں سال پہلے بھی دنیا جاری و ساری تھی اور اسے کچھ خبر نہیں تھی، بِعَینہ اُس کی موت کے بعدبھی یہی کچھ ہوگا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اِن باتوں سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، جب تک انسان زندہ رہتا ہے، دنیا اسے اپنی رنگینیوںاور حشر سامانیوں سے مبہوت کیے رکھتی ہے، اور فی الحال تو خیر دنیا میں ہی ایسا حشر برپا ہے کہ الحفیظ و الامان، کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ لیکن یہ حشر پہلی مرتبہ برپا نہیں ہوا، یہ دنیا پہلے بھی ایسی تھی اور آئندہ بھی ایسی ہی رہے گی، فرق صرف یہ ہے کہ ہم اِس دور میں زندہ ہیں اور ہمیں یہ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ اپنے بچوں کیلئے کچھ بچت کر لیں یا دو چار دن کی زندگی میں سب کچھ کھا پی کر اڑا دیں۔ غیر یقینی مستقبل کے بارے میں سوچتے اور پڑھتے تو تھے مگر اسے جھیلنا کیسے ہے، یہ سمجھ میں نہیں آ رہا۔

پچھلی صدی میں دو عظیم جنگیں ہوئیں، تین دہائیوں میں دس کروڑ بندے مارے گئے، اور ان سے کئی گنا زیادہ تعداد میں لوگ متاثر ہوئے، کروڑوں خاندان اجڑ گئے، دربدر ہوئے، لاکھوں جینئس دماغ ایسے ہوں گے جو اِن جنگوں میں ضائع ہوئے ہوں گے۔ انسانیت کے نقصان کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں۔ اور اب لوگ کہتے ہیں کہ ہم تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں، بلکہ کھڑے کیا ہیں اُس میں کود چکے ہیں۔ ایسے میں تو اچھے بھلے افلاطونوں کی عقل ضبط ہو جاتی ہے جبکہ ہم ٹھہرے اجنبی۔ اِن حالات میں بندے کا دل کرتا ہے کہ مستقبل کی پروا کرنا چھوڑ دے اور بالکل ہی لا تعلق ہو جائے لیکن وہ انگریزی میں کہتے ہیں نا کہ Easier said than done یعنی کہنا آسان ہے کرنا مشکل ہے۔ دنیا کے ارب پتی لوگوں نے اِن حالات سے نمٹنے کیلئے زیرزمین پناہ گاہیں تعمیر کروا رکھی ہیں۔ لفظ ’پناہ گاہ‘ سے آپ دھوکا نہ کھائیں، یہ پناہ گاہ داتا دربار کے پہلو میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک قسم کا فائیو اسٹار بنکر ہے جو ایٹمی حملے کی صورت میں بھی اُن کی حفاظت کرے گا۔ مجھے نہیں پتا کہ اپنے ہاں کے ارب پتیوں نے ایسا کچھ انتظام کیا ہے یا نہیں مگر اتنا اندازہ ضرور ہے کہ ’سنجیدہ‘ نوعیت کی جنگ چِھڑنے کی صورت میں ہمارے ارب پتی ملک چھوڑ کر ذاتی جہاز میں نکلیں گے اور سوئٹزرلینڈ پہنچ کر دم لیں گے۔ بقول ڈاکٹر قیصر بنگالی، اُس روز اُن کا واحد مسئلہ یہ ہوگا کہ اپنے گھر سے ہوائی اڈے تک کیسے پہنچیں!

سوال یہ ہے کہ ہم جیسے فقیر کیا کریں، جو نہ مستقبل سے لا تعلق رہ سکتے ہیں اور نہ چارٹرڈ طیاروں میں بھاگ سکتے ہیں۔ اُن کیلئے دنیا کے سیانوں نے ایک تحریک شروع کر رکھی ہے جس کا نام Voluntary Human Extinction Movement ہے جس کا مقصد انسانوں کو اِس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ انسان اپنا بوریا بستر باندھے اور ’رضاکارانہ‘ طور پر اِس دنیا سے رخصت ہو جائے۔ نہیں، اِس سے مراد خودکشی ہرگز نہیں، اِس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی نسل کی افزائش بند کر دیں یعنی بچے پیدا کرنا چھوڑ دیں۔ اِس تحریک کا آغاز 1991 میں لیس یو نائٹ نامی ایک شخص نے کیا تھا۔ اِس تحریک کے حامیوں کا ماننا ہے کہ اگر انسان شعوری طور پر یہ فیصلہ کر لے کہ وہ اپنی نسل کو آگے نہیں بڑھائے گا تو رفتہ رفتہ انسان اس زمین سے رخصت ہو جائے گا۔ اِن کا مشہور نعرہ ہے: "May we live long and die out" (ہم طویل زندگی جئیں اور رخصت ہو جائیں)۔ اِس تحریک کے حامیوں کا مقدمہ ہے کہ انسان نے زمین کے قدرتی توازن کو اس بری طرح بگاڑ دیا ہے کہ اب اسے ٹھیک کرنا ممکن نہیں، ہم نے لاکھوں جانوروں کی نسلیں ختم کیں، دریاؤں کو زہر آلود کیا اور ہوا میں کاربن کا وہ طوفان کھڑا کر دیا جس نے گلیشیرز کو پگھلنے پر مجبور کر دیا۔ اگر زمین کو ایک جسم سمجھ لیا جائے تو ہم انسان اُس میں کینسر کی طرح رہ رہے ہیں۔ اکثر لوگ اس تحریک کو ’انسانیت دشمن‘ قرار دیتے ہیں لیکن تحریک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ انسانوں سے نفرت نہیں کرتے بلکہ زمین سے محبت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آج ہم بچے پیدا کرنا بند کر دیں تو جو انسان اس وقت دنیا میں موجود ہیں، وہ ایک بہتر اور وسائل سے بھرپور زندگی گزار سکیں گے۔ جنگیں ختم ہو جائیں گی، خوراک کی کمی دور ہو جائے گی اور مسابقت کی دوڑ تھم جائے گی۔ اس بے رحم اور سفاک دنیا میں جہاں آئے روز ایٹمی جنگوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہوں، معصوم بچوں کو اِس دنیا میں لانا اخلاقی طور پر غلط ہے کیونکہ بچے کو آپ اُس کی مرضی کے بغیر ایسی دنیا میں پیدا کرتے ہیں جہاں دکھ، بیماری، ظلم، نا انصافی اور آخر کار دردناک موت ہی مقدر ہے۔ ظاہر ہے، اس تحریک پر کڑی تنقید بھی کی جاتی ہے، مذہبی حلقے اسے فطرت کے اصولوں اور الہامی احکامات کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ قطع نظر اِس بات سے کہ آپ اِس تحریک کے حامی ہوں یا مخالف، سوال بدستور وہی رہے گا کہ ہم تو پیدا ہو چکے اور بچوں کو بھی دنیا میں لا چکے، اب ہم کیا کریں! جواب ہے، صبر کریں، ہم اُس جنریشن سے ہیں جس نے کووڈ دیکھا اور زندہ بچ گئے، خدا نے چاہا تو آبنائے ہرمز میں سے بھی گزر ہی جائیں گے! اور بالفرض اگر ایسا نہ بھی ہوا تو دنیا ہماری پیدائش سے پہلے بھی جیسی تیسی چل رہی تھی، ہمارے بعد بھی چلتی رہے گی۔ ٹینشن زندگی میں ہوتی ہے، موت کے بعد نہیں، سکون صرف قبر میں ہے۔

بشکریہ ہم سب