عالمی سیاست کی تاریخ شاہد ہے کہ کمزور ریاستیں ہمیشہ طاقتور سلطنتوں کے عزائم کی بھینٹ چڑھتی رہی ہیں۔ مروجہ عالمی نظام میں اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کی اہمیت ثانوی رہی ہے، جبکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول آج بھی اتنی ہی قوت سے رائج ہے جتنا کہ صدیوں پہلے تھا۔ آج ہم ایک ایسی داستان بیان کر رہے ہیں جو محض سائنسی کامیابی کی نہیں، بلکہ ایک قوم کے وجود کو مٹانے کی کوششوں کے خلاف بقا کی جنگ کا اعلامیہ ہے۔ پاکستان کا ایٹمی سفر قربانیوں کی وہ داستان ہے جسکی مثال تاریخِ عالم میں نہیں ملتی۔ جہاں دنیا کے دیگر اسلامی ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستیں، تیل کی دولت میں کھیل رہی تھیں، وہاں پاکستان نے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانےکیلئے پیٹ پر پتھر باندھ کر لیبارٹریوں میں راتیں گزاریں، وہیں دیگر اسلامی ممالک نے اپنے دفاع کی چابیاں امریکہ کے حوالے کر دیں، یہ سوچ کر کہ شاید واشنگٹن کی دوستی انہیں ابدی تحفظ فراہم کرئیگی لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ دفاع کبھی درآمد (Import) نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان نےمعاشی پابندیوں اور عالمی تنہائی کا سامنا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا وہ تاریخی جملہ’’ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے‘‘ آج تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے۔ 1974ءمیں بھارت کی جانب سے پوکھران میں کیے گئے ایٹمی تجربے نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے ترازو کو یکسر جھکا دیا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کے سامنے دو راستے تھےیا تو وہ بھارت کی بالادستی کو تسلیم کر کے اس کی ایک سیٹلائٹ ریاست بن جائے، یا پھر اپنی خود مختاری کے تحفظ کیلئے وہ راستہ اختیار کرے جو دشوار گزار بھی تھا اور جس پر عالمی پابندیوں کی دیواریں بھی کھڑی تھیں۔
پاکستان نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا۔ یہ انتخاب اسلئے درست تھا کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب دو حریفوں کے درمیان طاقت کا فرق بہت بڑھ جاتا ہے، تو جنگ ناگزیر ہو جاتی ہے۔ بھارت کی روایتی فوجی برتری کو لگام دینےکیلئےایٹمی ڈیٹرنس واحد حل تھا۔ایٹمی ڈیٹرنس کا فلسفہ یہ نہیں کہ ہتھیار استعمال کیے جائیں، بلکہ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ دشمن کو اس بات کا یقین دلا دیا جائے کہ حملے کی صورت میں اسے پہنچنے والا نقصان اس کے ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ ہوگا۔ مئی 1998ءمیں چاغی کے پہاڑوں سے اٹھنے والے نعرہ تکبیر نے عالمی سیاست کے مروجہ اصولوں کو بدل دیا۔اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے ان پر پڑنے والے شدید دبائو کے باوجود ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کے مستقبل کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محفوظ بنادیا۔ اس ایٹمی دھماکے کے بعد دنیا جان گئی کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا موت کو دعوت دینا ہے۔ اس کی زندہ مثال گزشتہ سال ماہِ مئی میں ہندوستان کی وہ عبرت ناک شکست ہے جو پوری دنیا نے دیکھی۔ ایک ایٹمی قوت کو چھیڑنے کا انجام کیا ہوتا ہے، یہ سبق ہندوستان کو ہمیشہ یاد رہے گا۔
مشرقِ وسطیٰ کے حالات نے ایک بہت بڑی حقیقت کو عیاںکر دیا ہے۔ خلیجی ممالک نے برسوں امریکہ پر انحصار کیا، لیکن ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ نے ثابت کر دیا کہ واشنگٹن کبھی ان کا حقیقی دوست نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کیلئے صرف ایک ہی سرخ لکیر ہےاور وہ ہے اسرائیل ۔خلیجی ممالک نے اپنی سلامتی کیلئے جس امریکہ پر تکیہ کیا، وہی امریکہ ضرورت پڑنے پر اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی اتحادی کو تنہا چھوڑ سکتا ہے۔ ایران کی حالیہ جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ صرف اپنی شطرنج کی بساط بچھاتا ہے، جہاں خلیجی ریاستیں محض مہرے بن کر رہ جاتی ہیں۔ایران کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ اس نے عالمی قوانین پر عمل درآمد کیا، پابندیاں جھیلیں، لیکن اس کے باوجود آج بھی وہ اسرائیل اور امریکہ کے نشانے پر ہے۔ اگر پاکستان 1998 ءمیں دھماکے نہ کرتا، تو آج ہمارا حال بھی ایران جیسا ہوتا۔ خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی دولت ہتھیار تو خرید سکتی ہے، مگر وہ ڈیٹرنس نہیں خرید سکتی جو پاکستان کے پاس ہے۔ پاکستان عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہے جس نے نہ صرف یہ ٹیکنالوجی حاصل کی بلکہ اسے دنیا کے بدترین دباؤ کے باوجود برقرار رکھا اور ترقی دی۔پاکستان کی ایٹمی صلاحیت صرف پاکستان کیلئے نہیں، بلکہ پورے عالمِ اسلام کیلئے ایک اسٹرٹیجک اثاثہ ہے۔ اگرچہ سفارتی طور پر پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ عالمِ اسلام میں پاکستان کی ایٹمی حیثیت ایک نفسیاتی برتری اور ڈھال کا کام کرتی ہے۔ آنے والے وقت میں خلیجی ممالک کو اپنی بقا اور خود مختاری کے تحفظ کیلئے پاکستان کے دفاعی فریم ورک کے قریب آنا پڑے گا۔ یہ ضرورت صرف مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالصتاً پاور پالیٹکس کے اصولوں کے تحت پیدا ہوگی۔پاکستان نے کبھی این پی ٹی (NPT) پر دستخط نہیں کیے۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس معاہدے سے باہر رہ کر پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ آج پاکستان کا ایٹمی پروگرام دنیا کے محفوظ ترین پروگراموں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی عالمی معیار کی ہے۔ خلیجی ممالک کو پاکستان کی ایٹمی چھتری تلے جمع ہو کر ایک ایسا بلاک بنانا ہوگا جو مغرب اور اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔ پاکستان نے مشکل ترین حالات میںاور عالمی پابندیاں جھیل کر جو اثاثہ بنایا ہے، وہ آج پورے عالمِ اسلام کی بقا کا سامان بن سکتا ہے۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف ایک ملک کی کہانی نہیں، بلکہ یہ عالمِ اسلام کی اسٹرٹیجک خود مختاری کا وہ ادھورا خواب ہے جسے اب خلیجی ممالک کے تعاون سے ایک ناقابلِ تسخیر حقیقت بننا ہے۔
