اگر تو یہ خبر درست ہے کہ امریکہ اور ایران مذاکرات پر تیار ہیں تو یہ ممکنہ جنگ کو روکنے کے واسطے بہت بڑی پیش رفت ہے‘پاکستان کے وزیر دفاع کا یہ بیان درست ہے کہ تیل سمگلنگ سے دہشت گرد روزانہ ایک بڑی رقم کما رہے ہیں اور یہ کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنیکی ضرورت ہے‘انجام کار مودی کو امریکہ کے آ گے اپنے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑے۔بھارت روس سے تیل کی خریداری بند کر رہا ہے‘سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے جعلی نوٹیفیکیشن جاری ہونے کی خبر پڑھ کر ہمیں یاد آ یا کہ قیام پاکستان کے بعد ایک عرصے تک ریٹائرمنٹ کی عمر 55برس تھی۔ ہوا یوں کہ جب ایک سینئر سرکاری افسر فدا حسن جو کہ ایوب خان کے منظور نظر تھے اس عمر کو پہنچے تو ان کی سروس بڑھانے کیلئے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا کر 58سال کر دی گئی جس کا فائدہ دیگر کئی سرکاری ملازمین کو بھی ہو گیا‘ اس کے بعد ایک دوسرے سینئر افسر جب ضیا ء الحق کے دور میں 58کی عمر کو پہنچے اور ضیاء الحق نے ان کو مزید سروس میں رکھنا اچھاسمجھا تو تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا‘ ریٹائرمنٹ کی عمر کو 60 برس کر دیا گیا جس سے اورکئی اہلکاروں نے بھی استفادہ کیا۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان دو سینئر افسران کی خاطر سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کرنیکی خاطر 55 سال سے 60 سال تک اس میں اضافہ کیا گیا اب شنید یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو مزید بڑھا کر 63برس کرنیکا پروگرام ہے‘ عنقریب پتہ چل جائیگا کہ اس کی وجہ تسمیہ کیاہے؟۔ کئی ممالک نے بجلی کی کمی کا مقابلہ ایسے بھی کیا ہے کہ وہ اپنے معمولات زندگی صبح تڑکے سورج کی پہلی کرن کیساتھ شروع کر دیتے ہیں اور پھر شام ڈھلتے ہی انہیں بند کر دیتے ہیں‘ وطن عزیز میں سول انتظامیہ کی ازحد کوشش کے باؤجود ہمارا کوئی بھی طبقہ اس معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کیلئے تیار نظر نہیں آ تا‘ رات گئے تک لوگ معمولات زندگی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں‘ ان کی صبح دن کے گیارہ بجے سے پہلے شروع نہیں ہوتی اور رات دو بجے سے پہلے پڑتی نہیں۔
