بڑے لوگوں کی بڑی باتیں .....

ماؤ زے تنگ جب قریب المرگ تھے تو انہوں نے اپنے کامریڈوں اور عوام سے کہا کہ جانتا ہوں آپ لوگ میری موت کے بعد ہر سال میری ولادت اور تاریخ پیدائش کی نسبت سے چھٹی کیا کریں گے کیونکہ میرے اور آپ میں محبت کا ایک بے پایاں رشتہ ہے پر میری یہ خواہش ہے ان دو دنوں میں آپ روزانہ سے ڈبل اپنی اپنی ڈیوٹی سر انجام دیں گے تو میری روح کو زیادہ تسکین ہو گی اور ملک کا بھی اس سے بھلا ہو گا قائد اعظم جب گورنر جنرل تھے تو ان سے ان کے ایک دشتہ دار ملنے گورنر ہاؤس گئے اور اپنے وزٹنگ کارڈ پر اپنے نام کے آ گے کزن آف قائد اعظم لکھ کر ان کے ملٹری سیکرٹری کو وہ کارڈ دیا جب قائد اعظم نے وہ کارڈ دیکھا تو اپنے سرخ روشنائی والے پین سے کزن کا لفظ کاٹا اور اپنے ملٹری سیکرٹری سے کہا کہ وہ موصوف کو سمجھا دیں کہ آئندہ لفظ کزن لکھنے کی حماقت نہ کریں اور یہ کہ میں جب امور مملکت سے فارغ ہوا تو ان کو ملاقات کے واسطے بلا لوں گا ہون چن من بڑی سادگی سے زندگی گزارنے کے عادی تھے ہمارے سفیر جب ہنوئی میں ان کو اسناد سفارت دینے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے سرکاری دفتر میں جو میز کرسی اور دیگر فرنیچر پڑا ہوا ہے وہ بانسوں کا بنا ہوا ہے۔ ہون چن من نامی لیڈر شمالی ویت نام کا سربراہ گزرا ہے اس کی قیادت میں 
شمالی ویت نامیوں نے امریکہ کو ویت نام میں قدم جمانے نہ دیئے اور امریکی فوجیوں کو پسپا ہو کر ویت نام سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر عالم رسوائی میں کوچ کرنا پڑا،غلام اسحاق خان اس ملک کی اہم ترین آسامیوں پر بطور بیوروکریٹ فائز رہے جیسا کہ وزیر خزانہ گورنر سٹیٹ بنک اور چیئرمین سینٹ اور اس کے بعد صدر پاکستان‘ پر مالی دیانتداری میں ان کا جواب نہ تھا ان کی جب رحلت ہوئی تو وہ اپنے گاؤں میں صرف اتنی ہی اراضی کے مالک تھے جو ان کو ورثے میں ان کے والد نے چھوڑی تھی امام خمینی بھی کئی خوبیوں کے مالک تھے شہنشاہ ایران جب عوامی بغاوت کے بعد اپنا محل چھوڑ کر تہران سے فرار ہوئے تو امام خمینی نے اپنی باقی ماندہ زندگی محل میں رہنے کے بجائے تہران میں واقع اپنے چھوٹے سے گھر میں ہی گزاری وہ ایران کے سیاہ و سفید کے مالک تھے اس کے بے تاج بادشاہ تھے پر ساری زندگی انہوں نے ایک عام ایرانی کی طرح گزاری ان کا رہن سہن بودو باش ایک عام 
ایرانی جیسا تھا پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان بھارت کے کرنال نامی صوبے میں کئی دیہاتوں کے مالک تھے پر تحریک پاکستان میں انہوں نے اپنا سب کچھ خرچ کر ڈالا جب وہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم بنے تو ان کے پاس اپنا ذاتی گھر نہ تھا جب وہ شہید ہوئے تو حکومت کو یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ ان کی اہلیہ رعنا لیاقت علی خان کی رہائش اور بودو باش کا کیا بندوبست کیا جائے اس وقت کے ارباب اقتدار نے ان کو ہالینڈ میں پاکستان کا سفیر مقرر کر دیا اور اس طرح ان کے دال ساگ اور رہائش کا مسئلہ حل کیا گیا۔  امریکہ کے صدر نے اگلے روز ایک ہی سانس میں کئی باتیں کی ہیں انہوں نے کہا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیرپیوٹن سے ناراض ہیں انہوں نے اس بات کا انکشاف بھی کیا ہے کہ امریکہ نے یوکرائن کو جدید ترین اسلحہ فراہم کیا ہے پر اس بات کو وہ گول کر گئے کہ اگر امریکہ یوکرین کی ہلہ شیری کرتا رہے گا تو پیوٹن کیونکر پھر امریکہ کی کسی بات پر کان دہرے گا ٹرمپ کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف بھی زیادہ ہے اس لئے اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ غزہ کے معاملے میں کوئی دیرپا منصفانہ حل نکالنے میں کامیاب ہو سکے گا ٹرمپ ہر چیز کو تجارتی مال کی نظر سے دیکھنے کا عادی نظر آ تا ہے مانا کہ وہ ایک کامیاب تاجر ہے پر یہ ضروری تو نہیں کہ ایک اچھا تاجر اچھا ڈپلومیٹ یا سیاسی رہنما بھی ثابت ہو سکے۔ 

بشکریہ روزنامہ آج