فارسی شاعری میں میرا عشق تو جاوید نامہ سے ہے مگر فارسی شاعری سے عشق کی بنیاد عبدالقادر بیدل ہیں۔ اردو غزل میں سب سے زیادہ انہی کی تراکیب آج بھی مستعمل ہیں۔ان کے کْل کلام کا اردو ترجمہ ہوا بھی نہیں اور شاید ممکن بھی نہیں۔جہاں جہاں مجھے بیدل کے تراجم یا مترجم نظر آتے ہیں میں ان کی جانب کھنچا جلا جاتا ہوں۔بیدل کا اردو شعر و ادب پر جو اثر ہے اس پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔ میں بچپن ہی سے ان کا ایک شعر سنتا آیا ہوں حرص قانع نیست بیدل ورنہ اسبابِ جہاں آنچہ ما درکار داریم اکثرے درکار نیست دیوان ِبیدل جو ایران والوں کی سائٹ گنجور پر موجود ہے۔اس کے چند غزلیات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بیدل کی تراکیب آج بھی اردو غزل میں تواتر سے استعمال ہو رہی ہیں۔ شعر ِ بیدل کی تراکیب جیسے لوح ِ دل، دکان ِ ہنر، نقش ِ امکان، صریر ِ خامہ، کنج ِخیال، کارگاہِ فطرت، کعبہِ دل، اوراقِ خزانی، صفحہ ِ باطل، قلزم ِ ہستی، اوراقِ گل، مشق خیال، گردن ِ مینا، جوہر ِ نمایاں، تیغِ خیال، خیال ِ آوارہ، موج ِصہبا، غبار ِدنیا، چشم ِحیران، تیغِ مژگان، چشمِ تماشا، آئینہ ِدل، موجِ تبسم، نقش ِپا،ذوق ِتماشا، دست ِدعا، کفِ خاک، سودائے خام ، نیرنگیِ دہر، بانگ ِدرا، آواز ِپا، کفِ افسوس،قلقل ِمینا، لب ِگویا اور بہت ساری کس قدر تر و تازہ ہیں۔ان میں کچھ بیدل سے پہلے بھی استعمال ہوئی ہوں مگر اسے مقبول کرنے میں بھی ان کا فیض شاملِ حال ہے۔فارسی شعر کا عہدِ زریں سبک ِہندی کے اساتذہ سے پہلے کا ہے۔مگر اب سکہ انہی سبک ہندی والوں کا چلتا ہے جن میں بیدل، صائب، غنی اور غالب شامل ہیں اور انہی عظیم شعرا کا ترجمہ بڑے شہروں سے دور ایک باکمال نوجوان فضل اللہ فانی نے کیا ہے اور ہمیں اپنا اسیر کر لیا ہے۔ اس نے سبک ِہندی کے چار دیوقامت اساتذہ کے کلام کو اردو میں منتقل کرنے کا خواب کب دیکھا یہ تو معلوم نہیں مگر اس کی تعبیر چہار عکس کی کتابی صورت میں ابھی منصہ شہود پر آئی ہے۔فانی کی یہ عمر اور ان استاد شعرا کے کلام پر کلی دسترس اس کے روشن مستقبل کی نوید دے رہی ہے۔ سبکِ ہندی کے تمام شعرا فارسی شاعری کے عہدِ زریں (۹ویں سے ۵۱ویں صدی عیسوی) کے بعد کے ہیں۔ سبکِ ہندی کا آغاز ۷۱ویں صدی عیسوی میں ہندوستان (مغل دور) میں ہوا، جو عہدِ زریں کی انتہا (۵۱ویں صدی) کے تقریباً دو صدیوں بعد کا زمانہ ہے۔ یہ طرزِ شاعری پیچیدہ استعاروں، فلسفیانہ گہرائی، ہندوستانی عناصر اور باریک خیالات پر مبنی ہے، جو عہدِ زریں کی سادگی اور روانی سے مختلف ہے۔جس روانی مہارت اور تبحر علمی سے ان چار اساتذہ کے کلام کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے دل کرتا ہے اس کا سارا ترجمہ یہاں شئر کر دوں۔چونکہ یہ ناممکن العمل ہے جس قدر ممکن ہے تبرک کے طور پر اصل اشعار اور ان کا ترجمہ: حق اگر بندے رہے دہ رہ کشاید در عوض/طفلِ بے مادر زہَر انگشت جوئے شیر داشت /رب اگر اک رستہ کر دے بند دس کرتا ہے وا /طفلِ بے مادر کو ہر انگشت جوئے شیر ہے /تنگ دستاں را زقید ِجسم بیرون آمدن /راہرو را کفش ِتنگ از پائے بیرون کردن است /یوں بدن کی قید سے باہر نکلتے ہیں غریب /جس طرح کوئی اتارے تنگ جوتا پاؤں سے /می شود بے برگ صائب زود نخل ِمیوہ دار /سرو از بے حاصلی در چار موسم تازہ رو ست /جلد جھڑ جاتے ہیں صائب برگ نخل میوہ دار/سرو کو ںے میوگی رکھتی ہے دائم تازہ رو /بر جوانی چہ اعتماد کہ صبح /تا نفس راست می کند پیر است /کیا جوانی کا اعتبار کہ صبح /سانس لینے سے پہلے بوڑھی ہے۔ (صائب) غنی کاشمیری کے بارے میں مشہور ہے جب گھر سے باہر نکتے تو گھر کا دروازہ کھلا چھوڑ دیتے اور کہتے جب گھر ہوتا ہوں تو دروازہ بند رکھتا ہوں کہ اصل دولت تو میں ہوں۔ بر تواضع ہائے دشمن تکیہ کردن ابلہی ست /پائے بوسِ سیل از پا افگند دیوار را /عاجزی دشمن کی دھوکے میں نہ ڈالے آپ کو /سیل کی پابوسی ڈھاتی ہے سدا دیوار کو /در معرکہ صد زخم رسد گر بہ تن ِما /زاں بہ کہ بود داغ سپر پر بدن ِما /گو جنگ میں سو زخم بھی آئیں میرے تن پر/اچھا ہے نہ ہو داغ سپر میرے بدن پر /سعی بہر ِراحت ہمسائیگاں کردن خوش است /بشنود گوش از برائے خواب چشم افسانہ ہا /چاہیے کچھ سعی ہمسایوں کی راحت کے لیے /کان سنتے ہیں کہانی تا کہ آنکھیں سو سکیں /ہر کہ پابند ِوطن شد می کشد آزار ہا /پائے گل اندر چمن دائم پْر است از خار ہا /رہتا ہے اپنے وطن میں سامنا آزار کا /باغ میں کانٹوں سے پر رہتے ہیں پاؤں پھول کے غنی/ رحم بر قاروں سرشتاں کن کہ از افسون ِحرص /ایں خراں زیر ِزمیں ہم بارِ دنیا می کشد /رحم قاروں فطرتوں پر کر کہ فرط ِحرص سے /بار دنیا یہ گدھے زیرِ زمیں بھی ڈھوتے ہیں/وضع ِخموش ما زسخن دل نشیں تر است /با تیرِ احتیاج نہ دارد کمان ما/وضعِ خموش ہے مری باتوں سے دل نشیں /یعنی مری کماں کو نہیں احتیاج ِتیر زنہار بہ جمعیّت ِدل غرّہ مباشید /آسودگی از بحر جدا کرد گہر را /مغرور نہ ہونا کبھی جمعیّت دل پر /آرام نے موتی کو سمندر سے نکالا /دانا نبود از ہنر ِخویش برومند /از میوہ ِخود بہرہ محال است شجر را /دانا کو نہیں نفع کوئی اپنے ہنر سے /کھاتا نہیں کوئی بھی شجر اپنے ثمر کو بیدل اور غالب، وہ تو فرما گئے فارسی بیں تا ببینی نقش ہائے رنگ رنگ بگزر از مجموعہ اردو کہ بے رنگ من است ہماری اردو زبان کی عمر یہی چار پانچ سو سال ہو گی۔ فارسی زبان کا دور ِزریں جسے طلائی عصر کہا جاتا ہے، کے بعد کے سبک ہندی کے شعرا کو گزرے بھی پانچ صدیاں ہو چکی ہیں مگر وہی سبک آج کل اردو غزل پر اثرانداز ہے۔جب یہاں پراکرتوں اور سنسکرت کا دور تھا تب فارسی شعروادب اپنے عروج پر رہا تھا۔ فضل اللہ فانی نے فارسی ادب کے شائقین کو ایسا تحفہ دیا ہے جس کا اجر اسے اس کے روشن مستقبل کی صورت میں ملے گا۔میرا ان سے براہ ِراست تعارف نہیں مگر چہار عکس پڑھ کر لگتا ہے اس سے میرا جنم جنم کا تعارف ہے۔
184