خامنہ ای چلے گئے مگر اس طرح کم کم لوگ ہی جاتے ہیں ،سرخرو اور باوقار۔بستر پر ایڑیاں رگڑ کر مرنے سے کہیں بہتر ہے کہ خامنہ ای کے کیلبر کا آدمی میدان جنگ میں لڑتا ہوا جان جانِ آفرین کے سپرد کرے۔سلطان ٹیپو کو کرناٹکا کے سارے لوگ ’’ حضرت صاحب ‘‘کہہ کر لکھتے اور بولتے ہیں۔ہماری ایک ادیب دوست مہر افروز دھارواڑ کی رہنے والی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’دھارواڑ کا پرانا نام نصیر آباد تھا جہاں حضرت صاحب نے میدان جنگ کی جانب کوچ کرتے ہوئے تھوڑا آرام کیا تھا‘‘۔ہم نے پوچھا کون حضرت؟۔کہنے لگیں حضرت سلطان ٹیپو صاحب اور کون۔ایسے ہی صدیاں گزر جائیں گی۔ خامنہ ای کا نام زندہ ِجاوید رہے گا۔مادر ِوطن کے لیے کوئی مقام حاصل کرنے کے لیے خامنہ ای جیسی ہمت چاہیے ۔خامنہ ای کا ذکر ہوتے رہنا ہے کبھی کسی شکل کبھی کسی روپ میں۔وہ شاعر بھی تھے اور سوانح نگار بھی۔ان کی آپ بیتی سیل نمبر چودہ کا اردو میں ترجمہ ’’ زنداں سے پرے رنگ چمن‘‘ کے نام سے ہوا ہے۔عربی میں یہ سوانح ان مع الصبر ِ نصرا اور فارسی ’’خون دلے کہ لعل شد‘‘ کے نام سے ہوا۔ یہ سوانح بہت دلچسپ، دل کشا اور انقلاب آفرین ہے۔والد کتاب کے عاشق مگر تنگ دستی کا سمندر والدہ قرات کی ماہر خوش الحان اور حافظ کی عاشق۔والدہ حافظ کے دیوان سے فال بھی نکالتیں۔ حدیث کی ایسی ماہر کہ کوئی حدیث سناتیں والد کہتے میں نے تو یہ حدیث پہلے نہیں سنی تو حدیث کا مصدر تک بتا دیتیں۔ آپ نے امثلہ کی کتاب بھی والدہ ہی سے پڑھی۔ خامنہ ای کی بہادری اور مزاحمت ساری والدہ کی دین ہے۔وہ شاہ کی ایجنسیوں کی طرف سے ان کی گرفتاری کے وقت مزاحمت بھی کرتیں اور حوصلے کا پہاڑ بھی بن جاتیں۔ کہا جاتا ہے کہ سوانح خود پسندی کا دوسرا نام ہے مگر یہ بات ہما شما کے لیے ہے۔اس سوانح کے مطالعے سے بہت ساری نئی حقیقتیں کھلتی ہیں۔ مثلا پچاس کی دہائی میں شاہ کے ہٹائے جانے کے معاملے کے بعد ملک میں کمیونزم کے آنے کے خدشات کے پیشِ نظر حکومت نے دینی سرگرمیوں کا آعاز کیا۔اسی دوران قائم پہلے دینی سکول دار دیانتے برائے تعلیم میں آپ داخل ہوئے۔یہیں ان کی ذہنی پرداخت کا عمل شروع ہوا۔یہاں ان کے استاد مرزا حسین تدین تھے۔جب آپ ایران کے صدر بنے تو وہ ان سے ملنے آئے تھے۔سیاہ عمامہ بھی ایک تحریک کی جیسے علامت ہے جسے شاہ اور اس کے والد نے پہننے سے منع کیا ہوا تھا کہ یہ استعمار کے ایجنٹوں اور سیکولرازم کے داعیوں کے نشانے پر رہا ہے۔یہ مزاحمت کی نشانی ہے۔ پہلوی ٹوپی کے مقابلے میں یہی ان کی ترجیح رہی۔علما کو ایران بدر کرنے کا آغاز بیسویں صدی کے تیسرے عشرے سے ہو چکا تھا۔جو سر پر عمامہ رکھتے ہیں انہی معمم کہا جاتا ہے۔حجاب پہننے کی مخالفت کی جاتی تھی اور علما کو جب گرفتار کیا جاتا تو جرم کے خانے میں سیاست لکھا جاتا۔گویا سیاست علما کے لیے ممنوع تھی۔ مشہد میں طالب علمی کے زمانے میں اہل ِعراق ٹولیوں کی شکل میں آتے۔یہ لوگ رات کو صحنِ امام میں ٹھہرتے اور وہاں اشعار پڑھتے۔ خامنہ ای گھنٹوں اور رات گئے تک ایک ایک کو انہماک اور اشتیاق کے علم میں سنتے۔آپ عربی سنتے تو ان پر الگ قسم کا طلسم طاری ہو جاتا۔بچپن ہی سے کھلے ذہن کے آدمی تھے۔ایک بار دجلہ کنارے ایک ہوٹل میں گئے۔معمم نے سگریٹ سلگایا اور قہوے کا آرڈر دیا۔ویٹر پریشان ہو گیا کہ یہ کیسا معمم ہے جو قہوہ پیتا ہے۔مگر یہ معمم قہوہ ہی نہیں قہوہ کے ساتھ سگریٹ بھی پیتا تھا۔عین جوانی کے عالم میں خالص مذہبی کتب کے تراجم کے ساتھ ساتھ خلیل جبران کی دمعہ و ابتسامہ کا بھی ترجمہ کر دیا۔ایک آنسو اور ایک مسکراہٹ جبران کی ایک مشہور تصنیف ہے۔(ایک زمانے میں ہم نے بھی جبران کی کچھ نظموں کا ترجمہ کیا تھا۔وہی ترجمے اب نیل نظمیں کے نام سے مجلس ترقی ادب نے عباس تابش کی سربراہی میں شائع کی ہے۔ایک آنسو اور ایک مسکراہٹ سے ایک لائن دیکھیں I want the hunger for love and beauty to be in the depths of my spirit, for I have seen those who are satisfied the most wretched of people. میں چاہتا ہوں کہ محبت اور حسن کی بھوک میری روح میں رچی بسی رہے کیونکہ مطمئن لوگوں کو میں نے سب سے زیادہ بد نصیب پایا ہے۔) خامنہ ای کا یہ ترجمہ کتابی شکل میں شائع نہیں ہوا مگر اس کا مسودہ ان کے پاس محفوظ تھا۔اس علمی پس منظر رکھنے والے کا ورلڈ ویو اور ویژن اعلٰی و ارفع ہونا ہی تھا۔ خامنہ ای کہتے ہیں کہ ایران اور عرب دنیا کے درمیان جو تعلق ہے اس کا احساس ہمیں زمانہ طالب علمی سے تھا مگر اہلِ عرب نے عرب قومیت کے نام پر جو موقف اپنایا ہے انتہائی تکلیف دہ ہے۔خامنہ ای بچپن میں جب اپنے نانا سید میر دامادی کے ہاں جاتے تو انہیں اور دوسرے بچوں کو جو ایک آدھ ریال ملتا وہ والدہ ان سے لے لیتیں تا کہ رات کے کھانے کا انتظام ہو سکے۔یہ سوانح نہیں ایک انقلابی کی کہانی ہے کہ کیسے انقلاب کی لہر زیریں طبقے سے اٹھتی ہے اور کیوں اٹھتی ہے۔یہ انقلاب درورس نتائج کے اعتبار سے فرانس اور روس کے انقلاب سے کہیں بڑا ہے۔ہم چاہیں گے کہ اس سوانح پر کچھ اور کالم بھی لکھیں کہ سچی بات ہے ایک آدھ کالم سے ایک بڑی شخصیت کا احاطہ ممکن ہی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ ناولوں کا مطالعہ انسان کے ذہن اور اسلوب نگارش پر گہرا اثر ڈالتا ہے‘‘۔ جہان بھر سے مقدم تریں غمہائے حسین خمینہ ای کے لیے دم بدم دعائے حسین!! جن دوستوں کے گروپ نے اس سوانح کو اردو قالب میں ڈھالا انہوں نے مجروح سلطان پوری کے شعر دیکھ زنداں سے پرے رنگ ِچمن جوشِ بہار رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ سے اس کتاب کا عنوان چنا ہے۔
82