جس دن میتھی والی روٹی پکتی کچے صحن میں اس کی خوشبو پھیلی ہوئی ہوتی۔خالص مکھن سے لپڑے ہوئے پراٹھے سے کندوری تک گیلی ہو ہو جاتی۔یوں تو ہمارے ہاں ناشتہ کا لازمی جز پراٹھہ ہی ہوتا مگر وہ عام پراٹھہ ہوتا۔ اور مستقل یہی روٹین تھی مگر سردیوں کے جانے والے دنوں اور پھاگن چیت کے مہینوں میں میتھی کے پراٹھوں کا خصوصی انتظام ہوتا۔پنجاب میں میتھی کی فصل اگست میں کاشت ہوتی اور فروری تک اس کی برداشت کا موسم ہوتا۔پنجاب میں یہی دن بہار کے ہوتے ہیں۔تب ہم میتھی کے ان پراٹھوں کو میتھرے والی روٹی کہتے۔میتھرے کی اردو تک ہمیں معلوم نہ تھی۔پھاگن چیت میں پنجاب کی صبح نہایت معتدل اور قدرے ٹھنڈی ہوتی۔پندرہ بیس دنوں کے بعد بیساکھ آ جاتا اور چھاجوں گرمی پڑتی۔پنجاب کے دیہات کا صبح کا دھندلکا اور رات کا اندھیرا اب تک ہمیں ہانٹ کرتا ہے۔اندھیرا اس قدر خالص ہوتا کہ ہم پکے راستے سے بھی بھٹک بھٹک جاتے۔ویسے بھی گھروں میں تو بجلی تھی گلیوں راستوں پر خالص اندھیرا ہوتا تھا۔سامنے سے آنے والے کا پتہ اس کے قدموں کی چاپ یا کھانسنے کی آواز سے چلتا۔اگر دو آدمی آمنے سامنے ہوتے تو ایک دوسرے کو نظر تک نہیں آتے تھے۔ فجر کے بعد جس کو صبح ِکاذب کہتے ہیں شفاف اور دھلی ہوتی تھی جیسے اس پر کہیں داغ پڑے تو نظر آ جائے۔صبح افق سے آفتاب نکلتا تو ایسے لگتا کوئی خونی سر آہستہ آہستہ ابھرتا آ رہا ہے۔ صبح ظہور کرتی تو جیسے کسی اوس سے دھلی ہوتی۔ صبح دم پہلے کچے صحن پر چھڑکاؤ ہوتا جھاڑو دیا جاتا اور نور پیر ویلے ہی ناشتے کا سارا سامان چولہانی کے آس پاس رکھ دیا جاتا۔ایک طرف گندھے آٹے کی کناروں تک بھری صحںنک اور اس کے ساتھ ایک پلیٹ میں رکھا سوکھا آٹا جو پلیتھن کے کام آتا۔ایک طرف کھجی کی بنی رنگین چنگیر جس پر ٹپ ٹپ روٹیاں یا پراٹھے تیار ہو کر اترتے۔چولہے پر توا گرم ہوتا اس پر مکھن کی ایک چٹکی سی ڈالی جاتی۔توا دہک جاتا۔یہ سب کچھ اتنا خواب گوں تھا اس نے کسی طرح شاعری میں آخر کار ظہور کرنا تھا توے پر ڈال دی تھی پڑھ کے آیت ماں نے روٹی توے پر پھول اور نیچے ستارے بن رہے تھے ہمارے ہاں میتھی کی فصل ہوتی ہی نہیں تھی۔ساتھ والے شہر سے ملحقہ کھیتوں پر میتھی کاشت ہوتی وہیں سے سبزی منڈی سے ہوتی ہوئی یہ میتھی ہمارے گاؤں پہنچ جاتی۔ ویسے پنجاب میں سب سے زیادہ میتھی قصور میں کاشت جاتی ہے۔قصور کی مٹی اس فصل کے لیے نہایت سودمند ہے۔اس کے علاوہ شیخوپورہ اور ساہی وال میں بھی اس کی کاشت ہوتی ہے۔ہمارا علاقہ بار کا علاقہ تھا وہاں فصلوں کی راٹھ فصلیں کاشت ہوتیں۔یہ چھوٹی موٹی فصلیں ہمارے زمیندار کے ٹیسٹ سے بھی الگ سی تھیں اور اسے کا اس تجربہ بھی نہیں تھا۔سو یہ میتھی کی سوغات ان شہروں سے ہمارے تک پہنچنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔یہ فصل ہمارے شہر ملکوال کی مشرق کی جانب چند چھوٹے سے قطعات پر کاشت ہوتی۔اسی قلت کی وجہ سے یہ جیسے سوغات کا درجہ اختیار کر گئی تھی۔ سال بھر ہمارا ناشتہ عام پراٹھے، رات کے بچے ہوئے سالن اور ٹھنڈی چاچھ پر مشتمل ہوتا۔عجیب بات ہے دوپہر کو بھی یہی پراٹھہ دوپہر کے کھانے میں ملتا۔البتہ دوپہر کو یہ تندوری پراٹھے کی شکل میں ملتا۔تندوری پراٹھہ کو ہی اب تندوری نان کی شکل دے دی گئی ہے۔تندوری پراٹھے کے ساتھ اچار کی ایک ڈلی اور وہی چھاچھ ہوتی جو ناشتے کے وقت ہوتی۔جیسے میتھی کی روٹی عید بقرعید یعنی کبھی کبھی نصیب ہوتی ایسے ہی کبھی کبھی جب دوپہر کو شکر ملی لسی ملتی تو تندوری پراٹھے کا ذائقہ ہی اور ہو جاتا۔بنو اسرائیل کے لیے آسمانوں جو من و سلوی' اتارا جاتا اس من ایک شیریں شہد نما گوند یا شبنم جیسی چیز تھی جو صبح سویرے زمین پر جم جاتی۔ یہ دھنیا کے دانوں جیسی نظر آتی اور روٹی یا حلوے کی طرح استعمال ہوتی۔ یہ ترن جبین کی طرح میٹھی ہوتی اور ہر شخص کے لیے مقرر مقدار میں نازل ہوتی۔اور سلویٰ ایک قسم کا چھوٹا پرندہ تھا جسے بٹیر کہا جاتا ہے جو بھنا ہوا آتا یا شکار کیا جاتا۔من پراٹھے کی طرح بھی اور مشروب کی صورت میں بھی استعمال میں لایا جاتا۔من و سلوی' والا علاقہ وادی تیہ تھا۔ وادی تیہ مصر سے نکلنے کے بعد ایلیم اور سینا کے درمیان واقع ریگستان کا حصہ تھا جہاں بنی اسرائیل چالیس سال بھٹکتے رہے۔ ہمارے لیے پراٹھہ بھی اور میتھی والا پراٹھہ من و سلوی' سے کم نہ تھا۔وادی تیہ صحرا کا ایک حصہ تھا تو بادشاہ پور بار یعنی جنگل میں واقع تھا۔بادشاہ پور دریائے جہلم کے بائیں کنارے پر اب بھی اسی شان و شوکت سے شاد و آباد ہے۔ میتھی والے پراٹھے میں بنیادی اجزا گندم کے آٹے علاوہ تازہ میتھی کے پتے، نمک، ہری مرچیں، ادرک، لہسن اور مسالے ہوتے۔بسا اوقات اس میں دودھ یا لسی کے ایک دو گھونٹ ملا دیے جاتے۔میتھی والا پراٹھہ گہرے سبز رنگ کا ہوتا۔میتھی والی روٹی یا پراٹھے کی ساتھ دہی بھی لازمی جز ہوتا۔جس دن گھر میں اس ناشتے کا انتظام کیا جاتا سارا صحن اس کی خوش بو سے بھر بھر جاتا۔ہم اہلِ پنجاب شاید دور پار کے بنو اسرائیل کے مزاج کے ہیں جس طرح اللہ پاک ان سے من و سلویٰ چھین لیا تھا ایسے ہی ہمارے ہاں سے یہ خالص خوراک چھین لی گئی ہے۔جو خوراک عام آدمی کی ہوتی تھی اب امرا کے لیے فائیو سٹار ہوٹلوں میں ملتی ہے۔گھروں میں اس کا داخلہ بھی اور ذکر بھی بند ہو گیا ہے۔دو دن قبل گھر میں ہم صبح ناشتے کی میز پر پہنچے تو وہاں میتھی کا پراٹھہ ایک پلیٹ میں تھوڑا سا دہی ایک چمچ شکر اور گھر میں تیار کیا گیا لسی کا چھوٹا سا گلاس پڑا تھا۔پہلے تو ہم نے خوشگوار حیرت سے سب کچھ دیکھا پھر ہماری آنکھیں بھیگیں ہم نے پہلا لقمہ زبان پر رکھا تو ماں کے بنائی ہوئی میتھی کی روٹی کا ذائقہ سچ مچ ہماری روح کے اندر اترتا چلا گیا۔
