میں سپت سندھو ( انڈس ویلی سویلائزیشن) کا بیٹا ہوں۔میں اور میرے آباواجداد نامعلوم زمانوں سے یہاں آباد ہیں۔میں چناب،جہلم اور راوی کے کنارے کھڑا ہو کر گہرا سکون بھرا سانس لیتا ہوں۔یہ علاقہ میری رگ و پے میں سرایت کرتا جاتا ہے میں سرشار ہوتا چلا جاتا ہوں۔میں قدیم پنجاب کے دریاؤں کے کنارے کھڑا ہوتا ہوں، کھیتوں اور اس کے بنّوں پر چلتا ہوں، گھومتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ یہیں ہزاروں سال پہلے وہ قدیم حمدیں اور گیت تخلیق ہوئے جو آج بھی دنیا بھر میں گائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی تلخ حقیقت کہ ’’پنجاب میں پنجابی‘‘ کی بات کرنے کی توفیق اس دھرتی پر جنم لینے والے کسی بھی اردو نقاد کو نصیب نہیں ہوئی۔اس کی بجائے وہ پنجاب میں اردو کی بات کرتے ہیں، ایک صدی سے اسی کی وکالت یا مخالفت کر رہے ہیں اور پنجاب میں پنجابی کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ ’’اردو‘‘ کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے کہنے کو تو بہت سارے دانشور، محقق اور ماہرِ لسانیات یہیں پنجاب سے اٹھے مگر وہ مقدمہ اردو کا ہی پیش کرتے رہے۔ پنجاب میں پنجابی سے ہماری مراد کوئی نئی لسانی تھیوری نہیں یا پنجاب میں اردو کا جواب نہیں بلکہ عملیت پسندی کا تقاضا ہے کہ پنجاب میں پنجابی زبان کو اس کی اصل اور جائز استحقاق کو درست طور پر سمجھا اور اس پر عمل کیا جائے۔ عرصے سے یعنی سینتالیس سے پہلے اور اس کے بعد آج کے دن تک ہمیں ’’ پنجاب میں اردو‘‘ کا ہی سبق پڑھایا اور رٹایا گیا اور وہ بھی ایسے کہ اس تھیسز کو نہ ماننے والے ہم جیسے راندہِ درگاہ ٹھہرے۔اس تھیسز کا جواب تو اپنی پنج دریاؤں کی زمین سے ہی آنا چاہیے تھا مگر جواب آیا تو وہ بھی یو پی کان پور ڈویژن کے ضلع فرخ آباد سے۔وہی کانپور جس کے بارے میں شبلی نے نظم لکھی کہ تعجب کیا جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں یہ بچے ہیں انھیں تو جلد سو جانے کی عادت ہے سچی بات یہ ہے کہ پنجاب میں اردو اب ایک مردہ موضوع ہے۔شیرانی کے جواب میں مسعود حسن خان نے کیا کہا اور کس طرح سائنسی بنیادوں پر شیرانی کا تھیسز ہوا میں اڑایا ہمارا موضوع نہیں۔ہم سمجھتے ہیں شیرانی کا تھیسز بھی عملی طور پر پنجابی زبان کو پنجاب میں نظرانداز کرنے کی ہی ایک شعوری کوشش تھی۔البتہ اس مردہ موضوع پر ہم بطور پنجابی اپنا نقطہ نظر بھی رکھتے ہیں اور مقدمہ بھی۔ کہا جاتا ہے اور ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ قدیم پنجاب میں کوئی ایک زبان نہیں تھی بلکہ علاقائی طور پر ویدک سنسکرت سے پراکرت (خاص طور پر گندھاری اور شورسینی) تک کا سلسلہ تھا جو بالآخر جدید پنجابی میں تبدیل ہوا۔ ماہرین لسانیات جیسے ، Wikipedia Britannica اور - languages Aryan - Indoکی تحقیقات اسے ہند آریائی ارتقاء کا حصہ مانتے ہیں کہ اس کی ابتدا قدیم سنسکرت سے ہوئی جو تقریباً 600 قبل مسیح سے ادبی اور سرکاری زبان تھی۔ اس کے بعد یہ پراکرت زبانوں سے گزری، جو عام لوگوں کی بولیاں تھیں (گویا تیسری صدی قبل مسیح سے) پھر اپ بھرنش مرحلے سے، جو پراکرت کی ایک ارتقائی شکل تھی۔پنجابی زبان کے ارتقا کے متعلق اب اسی نقطہ نظر کو مانا اور تسلیم جاتا ہے۔کیا واقعی؟وادی سندھ کی دریائی تہذیب پنجاب کی ہی اصل تہذیب ہے اور اسی تہذیب کے دو مرکزی شہر ہڑپہ اور موئن جو داڑو ہیں۔ان کا زمانہ تین ہزار سے بھی زائد قبل مسیح ہے۔سنسکرت کے کرتا دھرتا وادی سندھ یعنی موئن جو دڑو اور ہڑپہ کے علاقے میں تقریباً 1500 قبل مسیح کے آس پاس پہنچے۔سوال یہ ہے کہ سنسکرت بولنے والوں سے پہلے آباد لوگ جو زبان بولتے تھے ان کے چھیاسی شعرا کا کلام ویدوں میں اصل شکل میں شامل ہے۔بدیہی طور پر یہ شعرا کم از کم سنسکرت میں تو شاعری نہیں کرتے تھے یہاں کی زبان میں ہی اظہار کرتے تھے۔دوئم اگر آج تک قدیم پنجاب کی زبان ڈیسائفر نہیں ہو سکی تو یہ دعویٰ از خود بے بنیاد ہو جاتا ہے کہ پنجابی زبان سنسکرت سے، اپھرنش سے ہوتی ہوئی موجودہ شکل میں متشکل ہوئی ہے۔یہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ پنجاب کی تہذیب آریاؤں کی آمد کے وقت بستر ِمرگ پر تھی۔دریاؤں کے خشک ہونے، نئے حملہ آوروں کی آمد اور تاریخ کے جبر کی وجہ وہ زبان ختم ہو گئی۔مزید براں اس وقت ریاستوں اور علاقوں کی حد بندی ایسے نہیں تھی جیسے اب ہے لہذا قدیم پنجاب میں مختلف زبانیں رائج العمل تھیں۔ سوال یہ ہے کہ جب تک قدیم پنجاب یا دریائے سندھ کی تہذیب کی زبان ڈیسائفر ہی نہیں ہوئی تو لسانیات والے یہاں ابھرنے والی مختلف زبانوں کے ارتقا اور ظہور کا اطلاق پنجابی زبان پر کیوں کرتے ہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ ہمارے پنجابی محقق جو اردو کی جانب لڑھکتے چلے گئے اور شبلی کی حیات ِمعاشقہ جیسے موضوعات کی کھٹی کھاتے رہے۔ لے دے کے پنجاب کے ایک نقاد وزیر آغا بچتے ہیں مگر انہوں نے بھی خود کو اردو اور پنجابی کے ثقافتی تعامل تک ہی محدود رکھا۔ ہمارے مطابق قدیم پنجابی یعنی وہ زبان جو ڈیسائفر نہیں ہو سکی شاردا اور لنڈا رسم الخط سے بالکل مختلف ہے۔شاردا اور لنڈا بائیں سے دائیں جب کہ وہ تختیاں جو ہڑپہ سے ملی ہیں وہ دائیں سے بائیں لکھی ہوئی ہیں۔اب پنجابی زبان کی قدامت اور سنسکرت کو ایک اور اینگل سے دیکھتے ہیں۔چار ویدوں میں یجر وید سب سے قدیم ہے۔یہ پندرہ سو سے بارہ سو سال قبل مسیح لکھے گئے۔خود ویدوں والوں کی آمد بھی پندرہ سو سال قبل مسیح بتائی جاتی ہے۔اب اس میں مزید دو نکتے ہیںکیا ان کی آمد کے ساتھ ہی سنسکرت زبان بن گئی تھی اور اس میں وید لکھ بھی لیے گئے؟۔ اور اگر یہ منہ زبانی یاد کیے تھے تو کیا از خود ہی کوئی نئی زبان وجود میں آ گئی تھی اور اسے زبانی یاد کر لیا گیا؟۔ اب اس سے اگلا مرحلہ آتا ہے کہ رگ وید میں پنجاب کے دریائوں جیسے سَرَسوتی، گھوڑوں، رتھوں اور اندرا جیسے دیوتاؤں کا ذکر ہے۔ سپت سندھو یعنی قدیم پنجاب سے باہر کی کسی دیوتا اور کسی دریا کا ذکر تک نہیں ہے۔(جاری ہے)
134