حامد میر کا شمار پاکستان کے بہترین صحافیوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے ہر قسم کے حالات میں بھی سچائی کا دامن نہیں چھوڑا، وہ کبھی اپنے نقطہ نظر سے پیچھے نہیں ہٹے، حالانکہ کئی جگہوں پر اور اُن کے کالموں میں مجھے اُن سے بارہا اختلاف بھی رہا ، مگر اختلاف رائے ہونا اچھی بات ہے، ناکہ آپ بغض سے کام لیں۔ حامد میر کے مخالفین بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ ہمیشہ بے باک صحافت کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ تبھی اس بے باکی کی وجہ سے اُن پر حملے بھی ہوئے، اُنہیں گولیاں بھی لگیں۔ اُن کی گاڑی کے ساتھ بم بھی باندھا گیا۔ خیر یہ انہی کا حوصلہ ہے کہ یہ سب کچھ برداشت بھی کرتے ہیں اور اپنے قلم میں تبدیلی بھی نہیں لاتے۔ حامد میر کی ویوور شپ بھی کروڑوں میں ہے تو یقیناً وہ یہ سب آسانی سے نہیں سہتے ہوں گے۔ ایک اور بات جو ان کے کریڈٹ میں جاتی ہے کہ وہ ڈکٹیٹر شپ سے زیادہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے ماریں بھی کھائیں انہوں نے ہر حکمران کی خامیوں کو ڈسکس کیا، فضول کاسہ لیسی کبھی نہیں کی۔ آپ حامد میر کے متعلق کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہمیشہ نواز شریف کی تعریف کرتے ہیں،،، یا شہباز شریف کے لیے صحافت کرتے ہیں یا عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں، یا زرداری صاحب کے دربار میں حاضری دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ جس کی جہاں تعریف بنتی تھی، وہاں تعریف کی اور جہاں انہوں نے غلط فیصلے کیے اُن پر سخت تنقید بھی کی۔ مشرف دور پر اُن پر پابندی بھی لگی رہی لیکن وہ اس یقین کے ساتھ جمہوریت کی بات کرتے رہے کہ ملک میں کبھی نہ کبھی جمہوریت ضرور قائم ہوگی۔ آپ بانی پی ٹی آئی کے بارے میں حامد میر کی حالیہ سال میں رائے کو دیکھ لیں۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو اُن کے سخت ناقد رہے لیکن جیسے ہی انہوں نے اقتدار چھوڑا اور موجودہ سرکار نے اُن کے ساتھ ظلم و زیادتی کی روایات قائم کی ۔ بلکہ تحریک انصاف پر پابندیوں کے حوالے سے بھی اُنہوں نے کھل کر مخالفت کی بلکہ اُنہوں نے کہا کہ اصل جمہوریت کا ایک دن ڈکٹیٹر شپ کے سو سالوں سے بہتر ہے۔ خیر یہ تعریفیں میں میر صاحب کی اس لیے نہیں کر رہا کہ میرے اُن سے کوئی ذاتی تعلق ہے یا وہ میرے کسی رشتے دار کے تعلق والے ہیں بلکہ ہمارا محض صحافتی رشتہ ہے اور گزشتہ دنوں اُن کی کتاب ’’روداد ستم‘‘ پڑھ کر تو میں اُن کا مزید گرویدہ ہوگیا۔۔۔ یہ کتاب محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان میں طاقت کے مراکز اور آزاد صحافت کے درمیان جاری ایک طویل اور خونی کشمکش کی مستند دستاویز ہے۔ یہ کتاب ہمیں اس تلخ حقیقت سے روبرو کراتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں سوال اٹھانا، تحقیق کرنا اور سچ بیان کرنا آج بھی ایک خطرناک عمل ہے۔ حامد میر نے اس کتاب میں اپنے صحافتی سفر کا آغاز ایک عام رپورٹر کی حیثیت سے کیا ہے، جہاں وہ بتاتے ہیں کہ صحافت میں آنے کا مقصد شہرت یا طاقت نہیں بلکہ معاشرتی ناانصافیوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ مگر جیسے جیسے ان کی آواز طاقتور ہوتی گئی، ویسے ویسے ان کے خلاف دباؤ، الزامات اور دھمکیوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا گیا۔ ’’رودادِ ستم‘‘ میں بیان کیے گئے واقعات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ پاکستان میں صحافی کو صرف خبر نہیں لکھنی پڑتی بلکہ اپنی جان، عزت اور خاندان کی سلامتی کا حساب بھی رکھنا پڑتا ہے۔ کتاب کا ایک اہم پہلو وہ تفصیل ہے جس میں مصنف سنسرشپ کا ذکر کرتے ہیں۔ حامد میر یہ واضح کرتے ہیں کہ سنسرشپ صرف خبر روکنے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک منظم ذہنی جنگ ہے، جہاں صحافی کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے یا پھر اسے متنازع بنا کر عوام کی نظروں میں مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ ’’رودادِ ستم‘‘ کا سب سے دردناک باب وہ ہے جس میں قاتلانہ حملے کی روداد بیان کی گئی ہے۔ یہ واقعہ کسی فلمی منظر سے کم نہیں، مگر افسوس کہ یہ حقیقت ہے۔ کتاب میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ اگر ایک معروف صحافی پر دن دہاڑے حملہ ہو جائے تو عام شہری کے لیے انصاف کی امید کس حد تک حقیقت پسندانہ ہے؟یہ کتاب ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ حب الوطنی کا نعرہ کس طرح اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جو سوال کرے وہ غدار، جو تحقیق کرے وہ ایجنڈا رکھتا ہے، اور جو طاقتور کو آئینہ دکھائے وہ ملک دشمن قرار پاتا ہے۔ حامد میر اس رویے کو فکری جبر قرار دیتے ہیں جو قوموں کو آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ اہم بات یہ ہے کہ مصنف خود احتسابی سے بھی نہیں کتراتے۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ بعض مواقع پر ان سے غلطیاں بھی ہوئیں، مگر وہ اس مؤقف پر قائم رہتے ہیں کہ صحافت میں غلطی کا حل گولی نہیں بلکہ دلیل اور جواب ہونا چاہیے۔ یہی بات ’’رودادِ ستم‘‘ کو ایک سنجیدہ اور معتبر تحریر بناتی ہے۔یہ کتاب نوجوان صحافیوں کے لیے رہنمائی بھی ہے اور انتباہ بھی۔ رہنمائی اس لیے کہ یہ بتاتی ہے کہ سچ کی تلاش کیسے کی جاتی ہے، اور انتباہ اس لیے کہ یہ راستہ آسان نہیں۔ ’’رودادِ ستم‘‘ ہمیں باور کراتی ہے کہ اگر معاشرے میں صحافت کو خاموش کر دیا جائے تو اندھیرا صرف نیوز روم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’’رودادِ ستم‘‘ دراصل پاکستان میں آزادی اظہار کی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھی گئی کتاب ہے۔ یہ کتاب قاری سے سوال کرتی ہے:کیا ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں سچ بولنے والا محفوظ نہ ہو؟اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ’’رودادِ ستم‘‘ محض پڑھنے کی نہیں بلکہ سمجھنے اور اس پر سوچنے کی کتاب ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان میں حامد میر جیسے صحافیوں کو لمبی زندگی عطافرمائے اوراللہ انہیں ہر قسم کے ’’شر‘‘ سے محفوظ رکھے(آمین)
98