205

…یا حافظ کی کرامت ہے

ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی عالمی جریدہ یا ڈپلومیٹ سفارتی میدان میں پاکستان کی کامیابی کا اعتراف کرتا نظر آتا ہے۔ آج برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے بھی کچھ ایسا ہی لکھا۔ اس نے بتایا کہ سال گزراں پاکستان نے عالمی منظر نامے میں اپنی سفارتی اور عسکری وجودیت کو نمایاں طور پر مضبوط کیا اور بھارت پر کھلی سبقت حاصل کی۔ 
جنگ چہار روزہ میں بھارت کو شکست اپنی جگہ تاریخ ساز ہے، پھر سفارتی سطح پر دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ بنگلہ دیش پاکستان کے اتنا قریب آ گیا کہ سوچا بھی نہیں تھا۔ چین، سعودی عرب اور ترکی سے دوستی گہری ہو گئی، آذربائیجان ایک نیا دوست بنا۔ انڈونیشیا سے ’’مغائرت‘‘ ختم ہوئی۔ افریقی ملکوں میں بھی پاکستان کا دبدبہ بڑھا اور عربستانی خطے میں پاکستان کو عوامی سطح پر ’’منی سپرپاور‘‘ تسلیم کر لیا گیا۔ 
یہ سب کیا ہوا؟ :
’’یہ قسمت کا کرم ہے یا کہ حافظ کی کرامت ہے‘‘؟
لوگوں کا اپنا اپنا خیال ہے۔ کچھ کا ماننا ہے کہ قسمت ہو تو کرامت ہوتی ہے، بعض کا خیال ہے کہ کوئی کرامت اٹھائے تو قسمت بنتی ہے۔ خیر، بات ایک ہی ہے، کان ادھر سے پکڑ لو یا اْدھر سے، ’’گرفتار‘‘ تو کان ہی ہوتا ہے۔ تشریح یوں کی جا سکتی ہے کہ قسمت نے کرم کیا، حافظ صاحب مل گئے یا حافظ صاحب آئے تو قسمت جاگ اٹھی۔ 
کرامت کا تصور مسلم معاشرے میں ہمیشہ سے رہا ہے۔ لیکن علما کی ایک قابل ذکر تعداد کرامت کو نہیں مانتی۔ وہ کہتے ہیں دنیا عالم اسباب ہے۔ سبب ہو تو نتیجہ نکلتا ہے۔ ایک سے ایک صاحب کرامت صحابی موجود تھے لیکن فتوحات کا نہ تھمنے والا سلسلہ تب شروع ہوا جب کمان حضرت خالد بن ولیدؓ  کو ملی۔ فضیلت میں حضرت ابوبکرؓپہلے نمبر پر تھے لیکن کسرِ کسریٰ حضرت عمرؓ کے ہاتھوں ہوئی اور مصر بھی انہی نے فتح کیا اور زعم قیصر کو بھی باطل انہیں نے کیا۔ 
خیر، کرامت کا وجود ہو یا نہ ہو، اس کا روایتی تعلق مرشد سے ہی ہے لیکن ہماری قسمت دیکھئے، ہمیں چند سال پہلے ایک ’’مرشد‘‘ ملا تو ایسا کہ جس نے چند ہی برس میں ساری دنیا کو پاکستان کا ’’دشمن‘‘ بنا دیا۔ سعودی عرب اور ترکی جیسے دوست ملکوں نے بھی سردمہری کی ٹوپی اوڑھ لی اور چین بھی رخ موڑ کر بیٹھ گیا۔ تم اپنا منہ اْدھر کر لو، ہم اپنا منہ اِدھر کر لیں۔ 
پھر حافظ آیا تو مرشد کے جادو کا توڑ ہوا۔ 
____
بنگلہ دیش میں سیاست کی اہم صورت گری ہوئی۔ عوامی لیگ تو زیرعتاب ہے، مقابلہ دو ہی جماعتوں میں تھا۔ خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی کا دعویٰ ہے کہ مقبولیت میں پہلے نمبر پر ہم ہیں، دوسری طرف جماعت اسلامی والوں کا بھی یہی خیال ہے، تیسری قوت ان طلبہ کی جماعت کی ہے جس نے تحریک چلا کر حسینہ واجد کا بت منہ کے بل گرا دیا۔ اس جماعت کا نام اب نیشنل سٹیزن پارٹی ہے اور عام یقین یہی تھا کہ تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ سیٹیں یہی جماعت لے گی۔ 
اب بڑی پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ اس سٹیزن پارٹی نے جماعت اسلامی سے سیاسی اتحاد کر لیا ہے۔ اس پارٹی کے اندر پہلے ہی بہت سے لوگ جماعت اسلامی کے نظرثاتی اتحادی تھے، اب سیاسی اتحادی بھی ہو گئے، نئے اتحاد کے بعد کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی پہلے نمبر پر آ گئی۔ لیکن ابھی یہ بھی تو دیکھنا ہے کہ نشستوں کی تقسیم میں اس کے کتنے امیدواروں کو ٹکٹ ملتا ہے۔ 
بی این پی اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی پوری تاریخ میں اتحادی جماعت رہی ہیں۔ نئی صورت حال میں ماضی کے یہ حلیف حریف بنتے نظر آتے ہیں۔ خدا کرے کہ یہ جمہوری مسابقت ہی رہے ، باہمی مقابلہ دشمنی کی حد تک نہ پہنچے عوامی لیگ کے لوگ ’’آزاد‘‘ امیدواروں کے طور پر کھڑے ہوں گے۔ کوئی خاص کامیابی حاصل کرنے کی امید البتہ کم ہے۔ 
____
اسرائیل ہمیشہ گہری چال چلتا رہا اور بازی اسی کے ہاتھ رہتی لیکن غزہ میں بدترین نسل کشی کے بعد سے قسمت پہلے کی طرح اس کے ساتھ نہیں رہی۔ اس کی تازہ ترین چال اسے الٹی پڑ گئی ہے۔ 
صومالیہ ایک متحد ملک تھا۔ دو عشرے پہلے وہاں فوجی آمریت ختم ہوئی تو خانہ جنگی چھڑ گئی اور نتیجہ یہ نکلا کہ شمالی علاقہ الگ ہو کر صومالی لینڈ بن گیا۔ بہت عرصہ پہلے، نوآبادیاتی دور میں بھی یہ علاقہ باقی صومالیہ سے الگ تھا۔ صومالی لینڈ برطانیہ کے زیر قبضہ نوآبادی تھی اور باقی ملک (صومالیہ) پر اٹلی قابض تھا۔ آزادی کے بعد دونوں علاقے متحد ہو کر ایک ملک بن گئے۔ دونوں میں ایک ہی قوم ’’صومالی‘‘ رہتی ہے اور دونوں کی زبان بھی صومالی (دوسری زبان عربی) ہے۔ 1960ء میں آزادی ملنے پر دونوں کا اتحاد ہوا۔ یہ اتحاد سیدبارے حکومت ختم ہونے کے بعد ہونے والی خانہ جنگی میں ٹوٹ گیا اور 1991 ء میں صومالی لینڈ الگ ملک بن گیا۔ 
اسے کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل اسے تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ بہت سے لوگ حیران ہوئے کہ اسرائیل کو 60 لاکھ آبادی والے اس کمزور ملک کو تسلیم کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی۔ (صومالیہ کی آبادی لگ بھگ دو کروڑ ہے) دراصل یہ ایک چال تھی۔ اسرائیل غزہ کی ساری آبادی کو غزہ سے نکال کر صومالی لینڈ میں بسانا چاہتا ہے اور ساتھ ہی یہ ارادہ ہے کہ اس ملک سے دوستی گانٹھ کر باب المندب والے سٹریٹجک خطے میں اپنے اڈے بنائے۔ 
چال الٹی یوں پڑی کہ اس سے متوقع ’’ابراہیم اکارڈ‘‘ کا وجود خطرے میں پڑ گیا، عرب ممالک کی تنظیم اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم دونوں نے ا س کی مذمت کی، یورپ نے بھی اس فیصلے کو مسترد کر دیا اور افریقی اتحاد نے بھی۔ اسرائیل کی سفارتی تنہائی اور بڑھ گئی۔ معاہدہ ابراہیمی جو کچھ عرصہ پہلے تو یقینی خطرہ نظر آ رہا تھا، اب وجود میں آنے سے پہلے ہی تحلیل ہونے لگا ہے۔ 
رہی اڈے بنانے کی بات، صومالی عوام اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ اب پوری دنیا میں دو ہی ملک اسرائیل کے ساتھی رہ گئے (سرپرست امریکہ کے علاوہ) ایک بھارت اور دوسرا اس سے بھی بڑھ کر متحدہ عرب امارات جسے پہلے ہی لوگ آزاد ملک کم اور اسرائیل کی کالونی زیادہ مانتے ہیں۔ 
____
گورنر کے پی فیصل کریم کندی نے کہا ہے کہ فوج صوبے سے نکل جائے تو پی ٹی آئی کی حکومت دو دن بھی صوبے کو نہیں سنبھال سکے گی۔ 
گورنر صاحب کو یہ غلط فہمی کیسے ہو گئی کہ صوبہ پی ٹی آئی نے سنبھالا ہوا ہے جبکہ صوبہ کسی پی ٹی آئی نے نہیں، ٹی ٹی پی نے سنبھالا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کی خدمات صرف شعبہ انتشار اور محکمہ مغلظات تک محدود ہیں یا پھر جنگلات کے صفائے کی اضافی ذمہ داری بھی اسی کے پاس ہے۔ باقی سب کچھ تو صرف اور صرف ٹی ٹی پی نے سنبھال رکھا ہے۔

بشکریہ نواےَ وقت