اعلان ہوا ٹرمپ اپنی قوم سے خطاب کریں گے۔ ساری دنیا کی نظریں ان کے خطاب پر لگ گئیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ فی الحال ساری دنیا ہی امریکی صدر کی ’’قوم‘‘ ہوتی ہے۔ قیاس آرائی تھی کہ صدر ایران جنگ کے خاتمے کا اعلان کریں گے لیکن انہوں نے الٹا جنگ کے دورانیے میں دو سے تین ہفتے کی توسیع کر دی۔ جنگ شروع کی تو کہا چار دن میں اہداف حاصل کر لیں گے۔ اب پانچ ہفتے بعد کہا، دو تین ہفتے مزید لگیں گے۔
کہا ایران کو پتھر کے دور میں دھکیل دیں گے۔ دوسروں کو پتھر کے دور میں دھکیلنا امریکی صدور کی ’’ہابی‘‘ رہی ہے۔ ویسے ایران کو پتھروں کا ڈھیر تو آپ بنا ہی چکے لیکن آبنائے ہرمز کو نہیں کھلوا سکے۔
ٹرمپ نے کہا، وہ نیٹو سے نکل جائیں گے کیونکہ نیٹو والے بزدل ہیں، ایران سے جنگ میں امریکہ کی مدد نہیں کی۔
نیٹو سے وہ نکلیں گے یا نہیں، یا وہ نکل بھی سکتے ہیں یا نہیں، یہ بات ماہرین ہی بتا سکتے ہیں لیکن اگر ایسا ہوا تو نیٹو بھی ختم ہو جائے گا، اس کی جگہ نیا اتحاد بن سکتا ہے۔ ایک اتحاد ادھر ایشیا اور افریقہ کے سنگم پر بن رہا ہے، ترکی، مصر ، سعودی عرب اور پاکستان کا اتحاد۔ لگتا ہے آنے والے دور میں اور بھی کئی علاقائی اتحاد بن سکتے ہیں۔ یوں دنیا ون پولر رہے گی نہ بائی پولر، ملٹی پولر ہو جائے گی۔
جغرافی اور سائنسی حساب سے دنیا ملٹی پولر ہو ہی نہیں سکتی، جو چاہے کر لو، یہ بائی پولر ہی رہے گی۔ الیکٹرومگنیٹک بار کے دو ہی چارج ہوتے ہیں، تیسرا ہو ہی نہیں سکتا۔ یعنی قطب دو ہی رہیں گے، تین یا چار نہیں ہو سکتے اور ایک اکیلا قطب بھی نہیں ہو سکتا۔
لیکن سیاست میں جتنے چاہے قطب بنا لو، بن جائیں گے۔ بالکل کرکٹ کی طرح۔ کرکٹ میں ایک گیند میں ایک وکٹ اڑائی جا سکتی ہے، دو نہیں۔ دو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن سیاست میں کرکٹ کی زبان استعمال کی جائے تو ہم نے بار بار دیکھا، ایک بال سے دو دو تین تین وکٹیں بھی اڑائی جا سکتی ہیں۔ زیادہ دور کی بات نہیں، ماضی قریب بلکہ ماضی عنقریب میں عمران خاں نے ایک گیند میں ایک نہ دو نہ تین نہ چار، اکٹھی سات وکٹیں اڑا ڈالیں۔
پہلی وکٹ اپنی حکومت کی اڑائی، دوسری اپنی پارٹی کی ، تیسری خود اپنی ، جیل جا پہنچے جیل جا کر شہزادہ گلفام سے میاں گمنام ہو گئے۔ کچھ عرصے سے ان کا کہیں ذکر ہی نہیں۔
تیسری وکٹ اپنی اہلیہ محترمہ یعنی ملکہ روحونیات کی اڑائی کہ ان کی روحانی طاقتوں کا بھرم کھل گیا اور وہ بھی جیل میں پہنچ گئیں۔ چوتھی وکٹ حقیقی آزادی کے نعرے کی اڑائی۔ پانچویں وکٹ جنرل فیض کی بھی اڑا ڈالی۔ چھٹی وکٹ اپنے جانشین مراد سعید کی ایسی اڑائی کہ تب سے مراد سعید کا پتہ چلتا ہے کہ کہاں ہیں نہ ان کی وکٹ کا کہ کس حال میں ہے۔ساتویں وکٹ ایک نعرے کی اڑا دی ، یہ کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ یہ وکٹ ایسی ٹوٹی کہ اس کی شکل ہی بدل گئی۔ اب اس کی شکل یہ ہے کہ خدارا مجھے چھوڑ دو۔
چنانچہ اگر دنیا اب ملٹی پولر ہوتی ہے تو کچھ حیرت کی بات نہیں۔ ایک پول چین کا، دوسرا پول پاکستان ترکی سعودی عرب اور مصر کا۔ تیسرا امریکہ کا۔ ایک یا ایک سے زیادہ یورپ کے۔ ایک دو شاید افریقہ میں۔ یوں ھفت قطبی دنیا وجود میں آ سکتی ہے۔
ان قطبوں کے بیچ میں اسرائیل کا ستارہ دائودی اگر گم ہو کر نہ رہ گیا تو اس کے چھ کونوں میں سے ایک دو شاید بھربھرا ضرور جائیں گے۔ پھر یہ ستارہ چار یا پانچ کونوں والا رہ جائے گا۔ گریٹر اسرائیل کا غبارہ تو حالیہ جنگ ہی میں پھوٹ گیا۔ اب یہ ہمارے یوٹیوبرز کی کمائی کا ذریعہ تو ہے، اس کے ماسوا کچھ نہیں۔
ہمارے پڑوس بھارت میں بھی ایک سے زیادہ قطب بننے کی شکل نکل رہی ہے۔ 1931 ء کے بعد پہلی مرتبہ، یعنی لگ بھگ 92 ،93 سال کے بعد ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری ہو رہی ہے۔
ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری ایسا ڈرائونا خواب ہے جو سنگ پریوار (بشمول بی جے پی) کو عرصہ دراز سے ڈراتا آ رہا ہے اور وہ اس سے بچنے میں کامیاب بھی ہوتا رہا۔ اب پتہ نہیں کیسے حالات کس طرح پیدا ہو گئے اور دبائو اتنا بڑھا کہ یہ کام بھی ہونے والا ہے۔
اس مردم شماری سے پتہ چلے گا کہ ہندو دھرم بھارت کا اکثریتی دھرم نہیں ہے بلکہ اکثریتی دھرم اچھوت دھرم ہے۔ اچھوتوں میں دیوی دیوتا تو وہی ہیں جو اونچی ذاتوں کے ہیں لیکن ان میں یہ خیال بڑے زوروں سے پایا جا رہا ہے کہ ان کا دھرم اور ہے، اونچی جاتی کا اور۔ نیز یہ بھی سب کو پتہ ہے کہ اونچی جاتی نے بھی اچھوتوں کو اپنے دھرم کا کبھی سمجھا ہی نہیں۔
کچھ بھی ہو، بھارت میں کچھ نئی نئی گھاتیں وارداتیں ہونے والی ہیں۔
پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پنجابی زبان سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں، پنجابی گیتوں سے دلچسپی ضرور رکھتے ہیں۔ کچھ غیر معتبر ذرائع کے مطابق بدھ کی شام وہ اپنے آفس میں ایک پنجابی گیت گنگناتے اور اس کی دھن پر ہلکورے کھاتے سنائی اور دکھائی دئیے۔ گانے کے بول کچھ یوں تھے :
میں چھجّ پتاشے ونڈاں
اج آڈر آیا کورٹ توں۔
پس منظر اس گنگناہٹ اور ’’تھر کاہٹ‘‘ کا یہ بتایا گیا ہے کہ ان پر عمران خاں رہائی فورس بنانے کیلئے بہت دبائوتھا لیکن حالیہ عرصے میں ان کی لائن عالم بالا کے ساتھ سیدھی ہو چکی تھی اور وہ یہ فورس بنانے سے بھاگ رہے تھے، ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے اور اس پر پارٹی کا غل غپاڑہ گروپ ان پر سب و شتم کی مہم چلا رہا تھا۔ بدھ کی شام، کسی رٹ پٹیشن پر عدالت نے اس فورس پر جواب طلبی کر لی اور یقینی قیاس ہے کہ فورس اب نہیں بنے گی۔ یعنی آفریدی کے ساتھ جان چھٹی سو لاکھوں پائے والا معاملہ ہو گیا۔
اب وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہہ سکیں گے کہ میں تو فورس بنانے ہی والا تھا، ایسی فورس جو پاکستان کیا، ایران کو بھی فتح کر لیتی لیکن کیا کیجئے عدالت نے روک لگا دی، سو چھج پتاشے ونڈاں…
126