48 گھنٹوں کی تاخیر سے ہی سہی، ایران نے جنگ بندی اور مصالحت کی پاکستانی کوششوں کی تعریف بالآخر کر دی۔ اگرچہ شکریہ پھر بھی ادا نہیں کیا۔ صرف سراہا اور تعریف بھی صدر یا وزیر خارجہ کی سطح سے نہیں آئی بلکہ وزارت خارجہ کے ترجمان اسمعٰیل بقائی صاحب کی طرف سے آئی۔ غالباً کسی نے توجہ دلائی ، تب آئی۔
ایران میں مرد آہن کی کرسی پر نہ تو مجتبیٰ خامنہ ای ہیں جن کے پاس رہبر اعلیٰ کا منصب ہے، نہ ہی صدر مملکت ہیں نہ ہی سپیکر پارلیمنٹ قالیباف بلکہ طاقت ساری کی ساری پاسداران کے سربراہ احمد وحیدی کے پاس ہے۔ ’’کالنگ شاٹس‘‘ والی شخصیت وہی ہیں۔ ان کے اشارہ ابرو سے سبھی ڈرتے ہیں۔ ایران میں آرمی چیف کی حقیقت ڈی آئی جی سے زیادہ نہیں۔ صدر ، وزیر اعظم ، آرمی چیف، تینوں عہدوں کے اختیارات جنرل وحیدی کے پاس ہیں اور وہ پاکستان کے بارے میں کوئی اتنے پیار بھرے جذبات نہیں رکھتے۔ وہ پارلیمنٹ سے بھی زیادہ خوش نہیں ہیں، اس لئے کہ کم از کم دو اجلاس اس کے ایسے ہوئے جن میں ’’تشکّر پاکستان‘‘ کے نعرے لگے۔
ایرانی حکومت حالیہ عرصے میں کئی بار پاکستان کا شکریہ بھی ادا کر چکی ہے اور خیرسگالی جذبات بھی دکھا چکی ہے۔ اگرچہ حالیہ جنگ کے دوران حکومت نے کچھ پیش قدمی کی ہے اور کئی مقامات پر اگرچہ ثانوی ہی سہی، اپنی بات منوائی ہے، خود کو ذرا سا زور آور بھی ثابت کیا ہے لیکن اصل طاقت اب بھی پاسداران کے پاس ہے۔
علی خامنہ ای کے بعد ایران میں اقتدار کی کشمکش شروع ہوئی تھی، وہ ابھی چل رہی ہے۔ صدر مسعود پزشکیان، سپیکر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ اور پاسداران کے جنرل وحیدی، چاروں ’’امیدوار‘‘ برسرپیکار ہیں البتہ فی الحال وحیدی کا پلڑا ہی بھاری ہے۔ حکومت تو یورینیم کی افزودگی والے معاملے پر پیچھے ہٹ گئی تھی، تمام سفارتی ذرائع نے تصدیق کر دی تھی کہ ایرانی حکومت ایک ہزار کلوگرام افزودہ یورینیم پاکستان کے حوالے کرنے پر تیار ہو گئی تھی لیکن پھر جنرل حمیدی کے ’’ویٹو‘‘ نے سارا معاملہ پلٹا دیا۔
یورینیم کی افزودگی یا انرچمنٹ ENRICHMENT سے دھوکہ ہوتا ہے کہ شاید باہر سے کوئی مواد ڈال کر یا وٹامن کا ٹیکہ لگا کر غریب یورنیم کو ’’مالدار‘‘ بنایا جاتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ مالدار یورینیم غریب یورینیم کے اندر ہی چھپا ہوتا ہے، افزودگی دراصل اس عمل کا نام ہے جس کے تحت غریب یورینیم کو مالدار سے الگ کیا جاتا ہے اور پھر پیچھے مالدار یورینیم ہی رہ جاتا ہے جس سے ٹھیک ایٹم بم بنتا ہے۔ غریب یورینیم میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ ایٹم کو پھاڑنے کا خود کار اور مسلسل عمل جاری رکھ سکے۔
ہر عنصر کا ایٹم ایک خاص تعداد کے الیکٹرانس اور پروٹانز پر مشتمل ہوتا ہے۔ الیکٹران ایک زیادہ یا ایک کم ہو جائے تو عنصر دوسرے عنصر میں بدل جاتا ہے۔ لیکن ایک ہی عنصر کے ایٹموں میں نیوٹران کی تعداد کم یا زیادہ ہو سکتی ہے جس سے عنصر کے خواص میں فرق تو نہیں آتا، ’’ری ایکشن‘‘ دینے کی طاقت البتہ بدل جاتی ہے۔سونے میں 79 الیکٹران ہیں ، ایک بڑھا دو تو سونا پارہ میں بدل جائے گا۔یعنی پارے میں سے ایک ایٹم کم کر دو تو سونا بن جائے گا۔ آپ نے دیکھا ہو گا، کیمیاگر پارے کو سونا بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ قدیم زمانے میں پیریاڈک ٹیبل (عناصر کی فہرست اور ان کے الیکٹران پروٹان کی تعداد) کا وجود تک نہیں تھا لیکن عناصر کی قربت کا علم ضرور موجود تھا۔ سونے سے ایک الیکٹران کم کر دو تو وہ پلاٹنیم بن جائے گا۔ یورینیم میں 92 الیکٹران اور 92 ہی پروٹون ہوتے ہیں اور مالدار یورینیم وہ ہوتا ہے جس میں نیوٹران کی تعداد کم ہو۔
یورینیم کی کئی قسمیں ہیں جنہں آئسوٹوپ کہا جاتا ہے۔ آئسوٹوپ 238 جو بہت زیادہ پایا جاتا ہے، اس میں 146 نیوٹران اور دوسرے یعنی 235 آئسوٹوپ میں 143 نیوٹران ہوتے ہیں۔ دونوں ملے ہوئے ہوتے ہیں لیکن زیادہ 238 ملتا ہے۔ یعنی 99.28 فیصد۔ ایٹم بنانے کیلئے درکار 235 نمبر ایک فیصد بھی نہیں ہوتا بلکہ پون فیصد بھی نہیں۔ اسے الگ کرنے کیلئے سینٹری فیوجل طاقت استعمال کی جاتی ہے اور جو 235 الگ ہو جائے وہی افزودہ یورینیم ہے۔ قدرت نے مالدار یورینیم کی مقدار اتنی کم کیوں رکھی ہے؟۔ اس لئے کہ وہ نہیں چاہتی کہ انسان ایٹم بم بنائے۔ وہ پھر بھی بناتا ہے اور اتنے بڑے جوکھم میں پڑ جاتا ہے۔
موجودہ ہائبرڈ نظام حکومت پر مرشداتی پارٹی سمیت کئی لوگ ناراض ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر دل کے پھپھولے پھوڑا کرتے ہیں۔ ایک ایسے ہی سمندرپار تجزیہ نگار نے کل بتایا کہ ہائبرڈ نظام حالیہ بحرانوں میں زیادہ طاقتور ہوا ہے اور اس کا اندرونی اتحاد بہت مضبوط ہوا ہے۔ یہ بات موصوف نے بڑے دکھ کے ساتھ _ ظاہر ہے _ بیان کی۔
باہمی اتحاد یعنی بھائی چارہ _ بہت پہلے لکھنؤ کے مشہور نخاس چوک میں بھائی چارے والا ایک مطب خوب چلتا تھا، دو حکیم بھائی اسے چلاتے تھے۔ ایک بھائی کا نام حکیم ننّھے آغا ، دوسرے کا نام حکیم منّے آغا تھا۔ مطب پر لگے بورڈ کے ایک سرے پر حکیم ننھے آغا، دوسرے پر حکیم منے آغا کا نام درج تھا۔ دونوں بھائی چاہتے تو نام بھی مشترکہ ہو سکتا تھا یعنی یوں کہ ’’حکیم ننّھے منّے آغا‘‘ وحدت …مکمل ہو جاتی۔
ایسا ہی مطب پاکستان میں کھلا تھا لیکن چلا نہیں، تین چار برس ہی میں بند ہو گیا۔ بورڈ پر مشترکہ نام لکھا ہوا تھا: حکیم عمران باجوہ اب یہ نیا مطب کھلا ہے اور خوب چلا ہے۔ مشترکہ نام آپ خود تجویز کیجئے۔
48