کراچی میں ایک پلازا جل گیا اور اس کے ساتھ ہی چودہ پندرہ افراد بھی زندہ جل گئے۔ پچاس ساٹھ تو لاپتہ ہیں۔ ایک قیامت سی برپا ہو گئی۔ ہزاروں تاجروں کی زندگی بھر کی جمع پونجی جو جلی سو الگ۔
ایسے نقصان کی ذمہ داری کس پر کوئی ڈالے۔ بہت سے ’’جرم‘‘ ایک ساتھ ہوتے ہیں۔ بلند و بالا، بہت سی منزلوں والی ایسی عمارتیں بنتی ہیں جن میں بھاگنے کے راستے ہی نہیں ہوتے۔ باہر سے مدد آنے کی راہیں بھی بند ہوتی ہیں۔ انہیں کون بناتا ہے، کون ان کی منظوری دیتا ہے۔ ان میں آگ بجھانے کی سہولیات تک نہیں ہوتیں۔ اوپر سے متعلقہ اداروں کے پاس ساز و سامان نہیں۔ دنیا کے دس سب سے بڑے شہروں میں سے ایک کراچی ہے اور صورت حال یہ ہے کہ یہاں نہ ایمبولینس پوری ہیں نہ فائر بریگیڈ۔
اوپر سے اگر کوئی فائر بریگیڈ وقت پر روانہ ہو جائے تو بھی رستے میں کھدی ٹوٹی سڑکیں اسے وقت پر پہنچنے ہی نہیں دیتیں۔
____
کراچی میں (اور باقی ملک میں بھی) ہر جگہ خرابی ہے اور جب سے مرتضیٰ وہاب کراچی کے میئر بنے ہیں، خرابی دن بدن ترقی یافتہ ہوتی جاتی ہے۔ آگ بجھانے میں ہی 24 گھنٹے لگ گئے اور جب آگ بجھ گئی تو میئر صاحب سوختہ پلازے کی راکھ پر جا پہنچے۔ لوگوں نے پوچھا، اب راکھ کریدنے آ گئے ع:
کریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے۔
خبر میں ہے کہ میئر صاحب کو دیکھ کر لوگوں نے خیرمقدمی نعرے لگائے۔ نعروں میں ’’پرجوش محبت‘‘ ظاہر کی گئی تھی۔ میئر صاحب اتنے خوش ہوئے کہ کڑکڑاتی سردی میں ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ پسینہ خشک کرنے وہ قریبی ڈی سی آفس میں جا پہنچے تو خیرمقدمی نعروں نے وہاں بھی ان کا ’’پرجوش استقبال‘‘ کیا۔ چنانچہ پسینے کی تہہ گہری ہو گئی۔ پسینہ سوکھنے میں کتنے گھنٹے لگے ، خبر نویس نے یہ بات بتائی ہی نہیں۔
____
کراچی والے ایک اور بات پر بھی میئر سے بہت خوش ہیں۔ دنیا کے اکثر بڑے شہروں میں کوئی ایک آدھ ہی ٹوٹی سڑک ہوتی ہے، کراچی دنیا کا واحد ’’میٹرو پولیٹن سٹی بلکہ میگا سٹی ہے جہاں ایک بھی سڑک سلامت نہیں۔ ہر سڑک ٹوٹی ہوئی ہے اور جتنی زیادہ ٹوٹی ہوئی ہے، اس سے زیادہ پھوٹی ہوئی ہے، یہاں تک کہ کوئی مہمان آجائے تو میزبان اسے باہر لے جا کر بتاتے ہیں کہ انکل، زمانہ قبل از تاریخ یہاں سڑک ہوا کرتی تھی۔
زمانہ قبل از تاریخ کا تعین میئر مرتضیٰ وہاب کی حلف برداری کی تاریخ سے کیا جاتا ہے۔
____
ایک معاصر نے خبر دی ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کے بڑے شعبوں کی برآمدات گر گئیں، کل ملا کے یہ گراوٹ 40 فیصد ہوئی ہے۔
خبرنگار نے پچھلے سال کی دو ششماہیوں کے بارے میں نہیں بتایا۔ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ شاید تب برآمدات نہیں گری تھیں۔ حالانکہ تب بھی گری تھیں۔ خبر نویس چاہتا تو یہ خبر یوں دے سکتا تھا کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں بھی برآمدات گر گئیں۔ لیکن ظاہر ہے، اس نے صرف سال رواں کی خبر دینا تھی، سال گزراں کی نہیں۔ لطیفہ یاد آیا۔ کوئی صاحب کسی کے گھر مہمان ہوئے۔ میزبان کے دو بچے بھی آ گئے۔ مہمان نے ایک بچے کی طرف دیکھا تو میزبان نے کہا، میرا بیٹا ہے۔ مہمان نے دوسرے کی طرف دیکھا تو میزبان نے کہا، یہ بھی میرا ہے۔ مہمان حیران ہوا، بولا، الگ الگ کیوں کہا، یہ کیوں نہ کہا دونوں میرے ہیں۔ میزبان نے کہا تم نے بھی تو باری باری دیکھا ، اکٹھے دیکھتے تو اکٹھا بتا دیتا۔
خبر نویس نے گزشتہ برس کی خبر گزشتہ برس ہی دے دی تھی۔
چلئے ، معیشت کے سبھی شعبے ایک ہی صفحے پر ہیں، یعنی سارے شعبے ہی گر رہے ہیں۔ سائنس کے اصول کے مطابق کہ جب کوئی چیز گرتی ہے تو گرتی ہی چلی جائے گی تاآنکہ کوئی تھام نہ لے۔ چونکہ زیربحث معاملے میں کوئی تھامنے والا موجود ہی نہیں، لہٰذا گراوٹ سائنس کے اصول پر عمل کرتی ہی چلی جائے گی۔
ایک ذمہ دار حکومتی شخصیت سے کسی تقریب میں سرسری سی بات ہوئی،پوچھا ، معیشت دن بدن کالعدم ہوتی جا رہی ہے، کیا بنے گا۔ بولے یہ ہمارا شعبہ نہیں__ معیشت گرے یا اٹھے، ہمیں اس سے مطلب!۔
پھر کس سے مطلب ہے، یہ پوچھنے پر فرمایا کہ وہ جو برعکس نہاد، نہ اورنگ ہے نہ زیب، بس آسیب ہی آسیب ہے۔ عرض کیا، اسے ہٹا کیوں نہیں دیتے۔ فرمایا، ہم اپنی ’’آئینی حدود‘‘ سے واقف ہیں، انہی کے اندر رہیں گے، تجاوز نہیں کریں گے۔
____
حکومت کے اقدامات پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن اعلانات پر نہیں۔ اچھے اچھے اعلانات میں یہ حکومت ساتوں براعظموں میں اپنی مثال آپ یعنی بے مثال ہے۔ مثلاً وزیر اعظم ہی کا اعلان ملاحظہ فرما لیجئے۔ اطلاع دی ہے کہ اقتصادی ترقی کے فوائد عوا م تک جلد پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔
اطلاع جلد پہنچنے کے حوالے سے ہے لیکن اس کے اندر ایک اور خفیہ اطلاع بھی ہے، کہ ملک میں اقتصادی ترقی ہوئی ہے۔ کس ملک میں، یہ وزیر اعظم نے نہیں بتایا اور ’’جلد‘‘ سے مراد کون سی صدی ہے، بائیسوین ، تئیسویں ؟، یہ بھی نہیں بتایا__ ویسے ان دنوں کون سی صدی چل رہی ہے۔
____
ایسا ہی ایک اور اعلان وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی کیا ہے۔
اطلاع نامے میں ہے کہ عوام کو سستی اور معیاری اشیائے خورد و نوش کی فراہمی ممکن ہو گئی۔
اشیائے خورد و نوش کیا ہوتی ہیں، وزیر اعلیٰ نے یہ بات گول کر دی۔ بہرحال، دیگر ذرائع کے مطابق آٹا، دال ، گھی ، سبزی ، دودھ، دہی ، بسکٹ، ڈبل روٹی، پھل فروٹ، چینی، نمک مرچ وغیرہ۔
اشیائے خورد و نوش میں شامل نہیں کہ سب کی سب سال گزراں کے مقابلے میں دوگنی مہنگی ہو چکیں۔
اور ہاں، ادویات تو قطعاً اشیائے خورد و نوش میں شامل نہیں کہ دو برسوں میں چار گنا مہنگی ہو چکیں۔
دوا?ں سے علاج معالجے کی سہولتیں یاد آئیں۔ پنجاب میں کبھی ہوا کرتی تھیں، اب تو ’’آ?ٹ سورس‘‘ کر کے عوام کیلئے شجر ممنوعہ بنا دی گئیں کہ ان کے بارے میں سوچنا بھی ’’کبائر‘‘ میں شامل ہے۔
____
ٹی ٹی پی کے رضاکارانہ ترجمان سہیل آفریدی نے مشران کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تیراہ میں ہونے والے آپریشن کو ’’بدمعاشی‘‘ قرار دیا۔
ٹی ٹی پی جو ’’آپریشن‘‘ دن میں تین تین بار کے حساب سے کر رہی ہے، ترجمان آفریدی نے اس کی ’’’’نیک معاشی‘‘ یعنی نیک سیرتی کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا، خبر میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ بہرحال، کچھ تو کہا ہو گا۔
61